از قلم: محمد فہیم الدین بجنوری
اوقاف، عطیات اور زکات کی رقم طلبہ کے لیے مختص تھی، ہم نے تعلیمی اور تدریسی مد کی توسیع کی، پھر تعمیری مد شامل ہوئی، جو باقی خانوں پر حاوی بھی ہو گئی؛ تا ہم یہ اضافے ضرورت پر مبنی تھے، شریعت کو تاویل و توجیہ ناگزیر تقاضوں میں منظور ہوئی، اب باب الظاہر کا مقدمہ کیسے بناؤ گے؟ جو عمارت طلبہ کی خدمت سے خارج ہو گئی ہے، اس کے تحفظ میں درکار اخراجات کی فقہی تکییف کیا ہوگی؟ حیلۂ تملیک پر یہ بار گراں تر ہوگا اور خاص اس غرض کے لیے مستقل تعاون کی اپیل عوام کی حیرت و انکار کا سامنا نہیں کر پائے گی۔
کیا ہمارے پاس اتنا رقبہ ہے کہ قدیم عمارات کو تاریخی ورثہ قرار دیں اور خالی اراضی پر نئی تعمیرات کریں؟ دارالعلوم کا طول و عرض قدیم الزمان ہی سے سمجھوتے کا شکار رہا، اس کے رقبے کو زمانے کی ہم آہنگی کبھی نصیب نہ ہوئی، وقت تیز گام نکلا اور دارالعلوم کا ارضی وجود نہایت سست، امریکی سفیر نے دارالعلوم دیکھنے کے بعد سوال کیا کہ دارالعلوم دکھاؤ، وہ جس آفاقی تصور کے ساتھ دورہ کر رہا تھا موجودہ عمارتیں اس کی تصدیق میں کافی نہیں تھیں، پرسوں بنگلور یونیورسٹی کی طرف جانا ہوا تھا، اس کی پہنائیوں نے پانی پانی کردیا، یونیورسٹی میں ایک بنگلور آباد ہے، دارالعلوم کا ادنی تصور پولیس چوکی والی سڑک تک ہے، اس سے کم رقبہ دارالعلوم کے نام سے انصاف نہیں کرتا۔
ہماری پرانی عمارتوں کو تاج محل اور لال قلعے سے تشبیہ دی جا رہی ہے، اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا! گویا شاہی خزانوں سے تعمیر قلعے اور عوامی عطیات پر منحصر مدرسے برابر ہو گئے ہیں! سرکاری بجٹ والی مرمت و نگہداشت کو مدارس کی محدود آمدنی میں تلاش کیا جا رہا ہے، تعلیم گاہوں کو سیاحتی مقامات پر قیاس کیا جا رہا ہے؛ جب کہ ثانی الذکر ایک سرمایہ کاری ہے، جو بہ ہر صورت فائدے مند ہے، سیاحت کے کھنڈرات بھی کروڑوں کماتے ہیں، آپ کھنڈرات میں درس کیسے منظم کریں گے؟
دارالعلوم کی مثالی توسیع کے کھیت میں چڑیا بہت پہلے دانہ چگ گئی ہے، بڑے بڑے مواقع رفتہ رفتہ ہاتھ سے نکلتے گئے، میں دارالمدرسین منتقل ہونے سے قبل کھرل گلی کے ایک گھر میں دس سال مقیم رہا، یہ گلی دارالعلوم کے عقب میں واقع ہے، اس میعاد میں بعض افواہیں سماعت کو سرشار کرتیں کہ گلی کے متصلہ مکانات کو دارالعلوم خریدنے کی تیاری کر رہا ہے، اتفاق سے ادھر ایک گیٹ بھی ہے، میں دل ہی دل میں جھومتا؛ کیوں کہ یہ شاندار ممکنہ توسیع تھی، اس جانب کی حدود ایک سڑک سے مل جاتیں؛ مگر وہ خبریں ہمیشہ آرزو ثابت ہوئیں، دارالعلوم کے دوسرے دامن میں واقع وسیع و عریض اسکول کا مالک سابق ذمے دار اعلی سے برسوں رابطے میں رہا، حضرت کم قیمت لگاتے، اب وہ ماورائے قیمت ہے۔
ادھر ثانویہ کے سامنے ایک عمارت سالوں سے دعوتِ خریداری دے رہی ہے، اس کا میل بے نظیر ہے، دارالعلوم کے سینے پر مونگ دلتی ہے، بارہا تحریک ہوئی؛ مگر ہر سلسلہ اس نکتے پر ختم ہوتا کہ حسنِ معشوق طلب کردہ قیمت سے فرو تر ہے؛ جب کہ سچائی یہ ہے کہ وقت کے ساتھ معشوق کی تڑپ بڑھتی جائے گی؛ یہاں تک کہ آن چہ دانا کند کند ناداں ولیک بعد از خرابی بسیار تازہ ہو کر رہے گا، مادر علمی کی اراضی کے درمیان ایک لکیر نما جگہ باقی تھی، مالک میرا شناسا تھا، مسجد عالیشان کی تفسیر کا سامع تھا، میں نے عرض کیا کہ تم یہ کیا آبنائے ہرمز لیے بیٹھے ہو؟ دارالعلوم کو بیچ دو، اس نے فورا کہا کہ بالکل! نوے لاکھ دلوا دو؛ جب کہ جائز قیمت تیس لاکھ ہوگی، میں نے ناگواری ظاہر کی تو کہنے لگا کہ دارالعلوم کو کیا مضائقہ ہو سکتا ہے؟ ایک رسید ہی تو بنانی ہے، میں نے یہ گفتگو اس شعبے کی سربراہ شخصیت کے سامنے رکھی، وہ پہلے سے نالاں تھے، آگ بگولا ہو کر بولے کہ جب تک میں زندہ ہوں وہ قطعہ دارالعلوم نہیں خریدے گا، یہ جذبات کا نہیں غیرت اور سچی حمیت کا جملہ تھا۔
دارالعلوم کے آپشن محدود ہو گئے ہیں، قدیم کو جدید سے تبدیل کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں، فن تعمیر بدل چکا ہے، ایک باب الظاہر ہی نہیں، دیگر عمارتوں کی تجدید بھی ناگزیر ہے، پرانے طرز نے رقبہ تنگ کیا ہوا ہے، جدید منصوبہ اس میں وسعتیں دریافت کر سکتا ہے، دارالحدیث کے دائیں بائیں زینے دور جدید کے گھٹنوں کا چیلنج ہیں، یہ زینے توکلا علی اللہ محو سفر ہیں، دوسری طرف کی توجہ ہائٹ فوبیا لاتا ہے، ان عمارتوں میں تاج محل کا معیار ملحوظ نہیں تھا، صدیوں کی پائیداری اور تاریخی عظمت کی توقع بر محل نہیں، رخصت پذیر دار جدید کے شگاف ہی تھے، جنھوں نے دار جدید دوم کی راہ ہموار کی، یہ درست فیصلہ تھا، دوسری صورت حادثے کے انتظار کی تھی۔
دار الحدیث تحتانی اور اس سے ملحقہ سلسلہ جدید سہولیات سے محروم ہے، ایک وقت تعمیری کمال میں یہ دیکھا جاتا تھا کہ جگہ زیادہ سے زیادہ استعمال کی گئی ہو، اب کمال یہ ہے کہ خالی حصہ فیاضی سے چھوڑا جائے، یہی تمدن ہے، تمدن کا حسن ہے اور یہی تمدن کے تمام مصالح کی سب سے بڑی ضمانت بھی، جانب مشرق کا پورا علاقہ گنجلک ہے، قدیم کتب خانہ، مطبخ، دفاتر وغیرہ بھول بھلیاں نما ہیں، ان کی تجدید بالیقین اس خطے کو ایک وسعت، ترتیب اور کفایت بخشے گی، یہاں از سر نو تعمیر ہونے والی ممکنہ سہ منزلہ عمارت جملہ دفاتر اور متعلقات دفاتر کے لیے وسعتوں کی ایک نئی دنیا پیدا کر دے گی، یہاں وہاں موجود مبنی بر ضرورت بغلی عمارتوں اور ضمنی کمروں نے اپنے وقت میں متعلقہ فرائض بخوبی انجام دیے ہیں، اب ان کے ریٹائرمنٹ کو نرم روی دی جائے اور اگلے مرحلے کے لیے نئے خاکوں کو موقع دیا جائے، شور و غوغا برپا کر کے ان کی رخصتی کو مشکل نہ بنائیں۔
دارالعلوم تعمیری خانے میں پیکر شکوہ اور فریاد نظر آتا ہے، اس کے بچے آگے نکل گئے ہیں، دارالعلوم کے قدم بوس ادارے فلک بوس سلسلوں پر نازاں ہیں، بعد کے مسافر منزلیں طے کر گئے، ہمارا کارواں مسبوق ہوگیا، ایسا لگتا ہے کہ جدید دارالعلوم کی مایہ ناز لائبریری نے نظرِ بد کھائی، نظر بر حق ہے، شیخ الہند لائبریری کی بنا تعمیرِ دارالعلوم کے سفر میں ایک انقلاب تھی؛ لیکن دشمنوں کی نظر کام کر گئی اور حرکت و عمل میں جمود آگیا، سرکاری رکاوٹیں بھی در آئی ہیں، بات آگے نہیں بڑھتی، سفر رک گیا ہے، رختِ سفر خراب ہو رہا ہے، اللہ تعالی کاروان کو دوبارہ متحرک کرے، رکاوٹیں دور کرے، دارالعلوم کی تعمیر اور تجدید؛ ہر دو منصوبوں کی راہیں آسان فرمائے اور جہانِ دارالعلوم کو کمال بخشے، آمین ثم آمین۔
باب الظاہر کے الوداع پر مضامین کی موسلا دھار بارش نے مجھے بہت متاثر کیا، افکار و خیالات کا اختلاف اپنی جگہ؛ مگر عشقِ دارالعلوم قدرِ مشترک ہے، بس مزہ آگیا، دارالعلوم میں ایک بات ہے اور وہ بات قیامت ہے اور کرامت بھی، دل کی دنیا زیر وزبر ہو جاتی ہے، ایمان کا سیلِ رواں گذر جاتا ہے، عشقِ حقیقی ایسا ہی ہوتا ہے، حقیقت کی طرح لازوال، مرورِ وقت شدتِ جذبات پر اثر انداز نہیں ہوتا، مکان کا عشق مستقل ہے، مکین کے تابع لازمی طور پر نہیں، کردار تبدیل ہوتے رہتے ہیں، محبت میں فرق نہیں آتا، مکان کا سحر ہے کہ نئے مکین بھی محبوب ہو جاتے ہیں، اس عشق کی حد کا اندازہ لگائیں کہ اگر کسی ناخدا کی ادائے سنگ باری آئینۂ قلب میں شکن پیدا کردے تو ایک وقت دل کا آب گینہ اس بال اور غبار سے معذرت کر لیتا ہے، محبوب کی گلی کا کتا بھی عزیز ہوتا ہے، یہ تو پھر شاہوں اور شہزادوں کا ذکر ہے!
