چینی کے بڑھتے بھاؤ

از:- محمد رافع ندوی

استاذ جامعہ اسلامیہ مظفر پور اعظم گڑھ

روز مرہ استعمال کی اشیا میں شکر اور چینی کی اہمیت سے کون انکار کرے گا، شکر ہر کچن کی، ہر رسوئی کی بنیادی ضرورتوں میں شامل ہے، یہ تصور کہ گھر میں شکر نہیں، گھر کی ساری رونق اور خوشیوں کو پھیکا کر دینے کے لیے کافی ہے، جہاں نمک کی ملاحت گھروں کے کاروبار کے لیے ضروری ہے؛ وہیں شکر کی حلاوت سے بھی انکار ممکن نہیں، عام طور پر پچھلے کئی سالوں سے شکر کے دام 45 اور 50 روپے کے بیچ میں گردش کرتے رہے ہیں لیکن ادھر ایک دو مہینے میں شکر کے داموں میں جو تیزی پورے ہندوستان میں دیکھنے کو مل رہی ہے اور بطور خاص 15 سے 20 دن کے اندر جس طرح شکر کے دام 15 سے 20 روپے بڑھ گئے ہیں اور شکر 45 سے چھلانگ لگا کر 65 پار پہنچنے کو بے تاب ہے؛ اس چیز نے لوگوں کے ہوش فاختہ کر دیے ہیں یعنی پہلے ہی سے مہنگائی کی مار جھیل رہے لوگوں کو اور مار پڑی ہے اور زور کی پڑی ہے، اور زور کی پڑ سکتی ہے، شکر کی مہنگائی کا اثر تہواروں، تقریبوں اور پارٹیوں پر ہر جگہ صاف نظر آنے لگا ہے، لیکن بہار سے تعلق رکھنے والے برسر اقتدار پارٹی کے ایک دانش مند وزیر سامنے آکر بڑی اچھی بات کہتے ہیں کہ چینی کی اس مہنگائی کا اثر لوگوں پر نہیں پڑنے والا، اس لیے کہ لوگ چینی کا استعمال کم کرنے لگے ہیں اور بہت سے لوگ شکر کے مریض بھی ہو گئے ہیں، بہرحال شکر کے اس بڑھتے بھاؤ کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ اول تو اگست نومبر میں یوں بھی ہر سال شکر کی ڈیمانڈ بڑھ جاتی ہے، اس لیے کہ یہ تہواروں اور تقریبات کا سیزن ہوتا ہے جس میں مٹھائی کاروباری اور مشروبات بنانے والی کمپنیاں بڑی مقدار میں شکر کا ذخیرہ جمع کر لیتے ہیں جس سے رسد اور طلب کا توازن کچھ بگڑ جاتا ہے اور عام لوگوں کے لیے چینی کے دام کچھ مہنگے ہو جاتے ہیں، دوسری وجہ شکر کی اس مہنگائی کے پیچھے ایتھنول (Ethanol )کو بتایا جارہا ہے، یہ ایک بے رنگ مائع ہوتا ہے جسے شکر، شکر کے شیرہ یا دوسرے اناجوں سے حاصل کیا جاتا ہے، جسے پٹرول کی جگہ یا پٹرول میں ملا کر استعمال کیا جاتا ہے، جس کی وکالت اس وقت ہندوستان کی سرکار نہ صرف بڑے زور و شور سے کر رہی ہے بلکہ اس نے ایتھنول کی پٹرول میں ملاوٹ کو لازمی قرار دیا ہے، E20 پروگرام کو پورے ہندوستان میں نافذ کر دیا گیا ہے، ای فار ایتھنول اور ٹوینٹی یعنی پٹرول میں بیس فیصد ایتھنول کی آمیزش، اب اتنی بڑی مقدار میں ایتھنول کی تیاری کے لیے لاکھوں ٹن شکر کی ضرورت پڑ رہی ہے، لہذا شکر عوام کو معمول کے داموں میں ملے، اس کی بجائے حکومت زیادہ سے زیادہ شکر خرید کر اس سے ایتھنول تیار کرنے میں لگی ہوئی ہے تو یہ ہے دوسری وجہ شکر کے مہنگے ہونے کی۔
ای ٹوینٹی کے اس پروگرام کی مخالفت اپوزیشن پارٹیاں اور سماج کے مختلف طبقات کی جانب سے مسلسل کی جا رہی ہے، اس مخالفت کی وجوہات میں یہ چیزیں شامل ہیں، نمبر ایک انتہائی ضرورت اور اشیاء خوردونوش کی قبیل کی ایک اہم ترین چیز کو ایک غیر ضروری چیز کی فراہمی کے لیے استعمال کرتے ہوئے عوام کو مشقتوں میں ڈال دینا جبکہ خالص پٹرول سابقہ روایت کی طرح دوسرے ملکوں سے خریدا جا سکتا ہے، دوسری وجہ ہے ایتھنول کی تیاری میں بہت زیادہ پانی کا خرچ جس کی وجہ سے پانی کے ذخائر میں واضح کمی محسوس کی جا سکتی ہے، تیسری وجہ ہے پرانی گاڑیوں کے انجن اور اس کے پرزوں کا ایتھنول کی وجہ سے خراب ہونا؛ یہ اور اس طرح کی بہت سی وجوہات ہیں جن کی بنا پر ایتھنول اور E20 پروگرام کی مخالفت اپوزیشن پارٹیاں اور سماجی کارکن شد و مد سے کر رہے ہیں۔
ضرورت اس بات کی تھی کہ پہلے یہ دیکھا جاتا کہ ایتھنول کی تیاری کی وجہ سے لوگوں کو مشقت میں اور مہنگائی کی مار جھیلنے کے لیے مجبور نہ کرنا پڑے دوسرے یہ دیکھنا ضروری تھا کہ نظام ایتھنول کی تنفیذ کے لیے زمین اس وقت تک تیار ہے یا نہیں؟ کیا ہماری گاڑیاں جو اس وقت روڈ پر چل رہی ہیں وہ ایتھنول کے لیے مناسب ہیں؟ مزید یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ جس ایتھنول کو بڑی مشقت سے تیار کیا جا رہا ہے اور جس کی تیاری میں میں کافی صرفہ آرہا ہے اور بہت سے قدرتی وسائل اس میں بے جا استعمال کیے جا رہے ہیں؛ کیا ان سے بچتے ہوئے کسی دوسرے ذریعے سے اس مسئلے کا حل نہیں نکالا جاسکتا؟ یہ بھی غور کرنے کا موضوع ہے، ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ دنیا کے دوسرے ملکوں کی پالیسیوں اور ان کی حکمت عملی کا بھی اس ضمن میں جائزہ لیا جائے اور ان سے سیکھ حاصل کی جائے، عوام اور اپوزیشن اور سماج کے ارباب دانش کو اعتماد میں لیے بغیر کوئی ایسا بڑا فیصلہ کرنا اور کوئی ایسا قدم اٹھانا جس کا اثر براہ راست لوگوں کی معیشت اور ان کے بجٹ پر پڑے؛ یہ بذات خود ستا دھاریوں کے لیے بھی نیک شگون نہیں ہے۔

بہرحال اس وقت شکر کے بڑھتے داموں نے لوگوں کو پریشان کر دیا ہے، آئندہ کیا ہوتا ہے، حکومت کیا پالیسی اختیار کرتی ہے، اپوزیشن شکر کی اس مار کو کس طرح دیکھتی ہے، سماج کے دیگر گروپ اس مصیبت اور آپدا میں کیا رول ادا کرتے ہیں، یہ دیکھنے کی بات ہوگی۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔