اسکرالنگ : اوقات وترجیحات کی موت

از:- ڈاکٹر محمد اعظم ندوی

استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد

انسانی تہذیب کی تاریخ میں ایجادات ہمیشہ انسانی زندگی کو آسان بنانے کے لیے وجود میں آتی رہی ہیں، مگر بعض ایجادات ایسی بھی ہوتی ہیں جو سہولت کے دروازے سے داخل ہوتی ہیں اور رفتہ رفتہ ضرورت، عادت اور پھر ایک غیر محسوس خود سپردگی میں تبدیل ہوجاتی ہیں، موبائل فون کی اسکرین پر انگلی کی ایک معمولی سی جنبش، جسے آج ہم ’’اسکرالنگ‘‘ (Scrolling) کہتے ہیں، بظاہر کتنی بے ضرر حرکت ہے: انگلی اوپر کی طرف سرکی، ایک منظر غائب ہوا اور دوسرا سامنے آگیا؛ پھر تیسرا، چوتھا، پانچواں، اور دیکھتے ہی دیکھتے چند منٹ ایک گھنٹے میں تبدیل ہوگئے، آدمی کو یاد بھی نہیں رہتا کہ اس نے اس دوران کیا دیکھا، مگر زندگی کی گھڑی سے وہ وقت ہمیشہ کے لیے کم ہوچکا ہوتا ہے، شاید ہمارے عہد کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہی ہے کہ انسان اسکرین پر نیچے سے نیچے جاتا رہتا ہے، مگر اسے احساس نہیں ہوتا کہ اس دوران اس کی عمر آگے سے آگے بڑھ رہی ہے۔

اسکرالنگ بذاتِ خود کوئی نئی چیز نہیں؛ کمپیوٹر کی دنیا میں متن اور صفحات کو اوپر نیچے کرنے کا طریقہ بہت پہلے سے موجود تھا، البتہ آج سوشل میڈیا کی دنیا پر حکمرانی کرنے والی ’’لامتناہی اسکرالنگ‘‘ (Infinite Scroll) کو 2006ء میں ٹیکنالوجی کی دنیا کے ایک امریکی ماہر آزا راسکن (Aza Raskin) نے متعارف کرایا، خیال نہایت سادہ اور بظاہر مفید تھا: جب صارف ایک صفحہ پڑھ چکے تو اسے کلک کرکے ’’اگلا صفحہ‘‘ کھولنے کی زحمت کیوں دی جائے؟ اگلا مواد خود بخود سامنے آجائے، راسکن نے بعد میں وضاحت بھی کی کہ اس نے یہ طریقہ سوشل میڈیا کے لیے نہیں بنایا تھا؛ مقصد تلاش اور بلاگ جیسے صفحات کے استعمال کو سہل بنانا تھا، لیکن یہی معمولی سی تکنیکی سہولت آگے چل کر انسانی توجہ کو مسلسل اسکرین سے وابستہ رکھنے کا ایک غیر معمولی ذریعہ بن گئی، خود راسکن نے بعد میں اعتراف کیا کہ وہ اس وقت ان معاشی محرکات کو نہیں سمجھ سکا تھا جو انسانی توجہ کو ایک قابل فروخت شے بنادیں گے۔

یہاں کہانی ایک عجیب اخلاقی موڑ لیتی ہے، جس شخص نے صفحے کے اختتام کو ختم کیا، اسے بعد میں احساس ہوا کہ اس نے صرف ایک بٹن نہیں ہٹایا تھا، بلکہ انسان کے رکنے کا ایک قدرتی مقام بھی ہٹا دیا تھا، کتاب کا آخری صفحہ آتا ہے، اخبار ختم ہوجاتا ہے، مجلس برخاست ہوتی ہے، ویڈیو کا اختتام ہوتا ہے، بازار بند ہوتا ہے، کھانا ختم ہوجاتا ہے؛ زندگی کی تقریباً ہر سرگرمی میں قدرت نے کہیں نہ کہیں ’’بس‘‘ کا ایک مقام رکھا ہے، مگر لامتناہی اسکرالنگ میں ’’بس‘‘ کہیں نہیں آتا، آپ جتنا دیکھتے جائیں، اتنا ہی نیا مواد پیدا ہوتا چلا جاتا ہے۔

انسانی دماغ میں ترغیب اور حصولِ انعام کے نظام سے وابستہ ایک اہم کیمیائی مادہ ڈوپامین (Dopamine) ہے، اسے محض ’’خوشی پیدا کرنے والا مادہ‘‘ کہنا درست نہیں؛ یہ خواہش، تحریک، سیکھنے اور کسی ممکنہ انعام کی توقع سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے، اسکرالنگ کی اصل نفسیاتی کشش بھی یہی ہے کہ انسان کو معلوم نہیں ہوتا کہ اگلی انگلی کی حرکت پر کیا نمودار ہونے والا ہے، شاید کوئی چونکا دینے والی خبر، کوئی پسندیدہ شخصیت، کوئی دل چسپ ویڈیو، کوئی خوش کن پیغام، کوئی خوب صورت منظر یا کوئی ایسی چیز جو چند لمحوں کے لیے ذہن کو تازہ لذت فراہم کردے، یہ غیر یقینی کیفیت انسان کو اگلے مواد کی طرف کھینچتی رہتی ہے، یوں بعض اوقات ہم اس لیے نہیں دیکھ رہے ہوتے کہ سامنے کی چیز بہت اہم ہے، بلکہ اس لیے دیکھتے چلے جاتے ہیں کہ شاید اگلی چیز اہم ہو۔

اسی سے ایک نہایت لطیف نفسیاتی تبدیلی شروع ہوتی ہے، آدمی آہستہ آہستہ ’’ٹھہرنے‘‘ کی صلاحیت کھونے لگتا ہے، ایک منظر پر چند سیکنڈ، پھر دوسرا؛ ایک خبر، پھر لطیفہ؛ ایک حادثہ، پھر کھانے کی ویڈیو؛ ایک دینی نصیحت، پھر اشتہار؛ ایک جنازہ، پھر شادی؛ ایک جنگ زدہ بچے کی تصویر، اور اگلی ہی جنبش میں کسی تفریحی منظر پر قہقہہ، اور اس سے بڑھ کر ایک منظر میں اللہ کی کتاب کی تلاوت اور دوسرے منظر میں کوئی عریاں رقص و سرود، انسانی جذبات کو شاید تاریخ میں کبھی اتنی تیزی سے متضاد کیفیتوں کے درمیان سفر نہیں کرنا پڑا تھا، غم کو پورا محسوس کرنے کی مہلت نہیں، خوشی کو جذب کرنے کا وقفہ نہیں، کسی خیال کے مرکوز ہونے کا وقت نہیں، ذہن مسلسل نئے محرکات کا استقبال کررہا ہے، مگر کسی ایک تجربے کے ساتھ دیر تک رہ نہیں پاتا۔

اسی کیفیت کو ماہرین ’’توجہ کی شکست و ریخت‘‘ (Attention Fragmentation) کہتے ہیں، 2026ء میں ہندوستان کے اٹھارہ صوبوں سے تعلق رکھنے والے بالغ افراد پر ہونے والی ایک تحقیق میں سوشل میڈیا کے کثرتِ استعمال، بار بار توجہ بدلنے اور جذباتی اضطراب کے درمیان قابلِ توجہ تعلق سامنے آیا، مختصر ویڈیوز کے بارے میں حالیہ تجرباتی تحقیق اس سے بھی آگے جاتی ہے: تیز رفتار اور مسلسل بدلتے مختصر مواد کے ذریعے سیکھنے والے افراد میں فوری یادداشت کی صحت کم اور بھولنے کی رفتار زیادہ دیکھی گئی، جب کہ دماغ کے توجہ، یادداشت اور ذہنی ضبط سے متعلق بعض حصوں میں عصبی ہم آہنگی بھی نسبتاً کم پائی گئی، یہ تحقیقات ابھی اس موضوع کا آخری فیصلہ نہیں، مگر اتنا ضرور بتاتی ہیں کہ مسلسل منتشر مواد کے ماحول میں رہنے کو محض تفریح سمجھ کر نظر انداز کرنا سائنسی اور اخلاقی طور پر مناسب نہیں۔

اس کا سب سے نمایاں اثر سنجیدہ مطالعے میں محسوس ہوتا ہے، ایک اچھی کتاب قاری سے کہتی ہے: میرے ساتھ بیٹھو، ایک خیال کو دوسرے خیال سے ملاؤ، عبارت کے پس منظر میں اترو، مصنف کے ساتھ کچھ دور چلو، اس کے مقابلے میں مختصر ویڈیو کہتی ہے: مجھے صرف چند سیکنڈ دو، میں تمہیں فوراً کچھ نیا دیتی ہوں۔ جب ذہن روزانہ گھنٹوں دوسری زبان کا عادی ہوجائے تو پہلی زبان اسے گراں گزرنے لگتی ہے، پھر کتاب کا ایک صفحہ طویل محسوس ہوتا ہے، سنجیدہ مضمون بوجھ بن جاتا ہے، طویل گفتگو میں بے قراری پیدا ہوتی ہے، درس کے دوران ہاتھ بے اختیار موبائل کی طرف جاتا ہے اور نماز کے اندر بھی وہی منتشر ذہن اپنے نقش چھوڑتا ہے، معلومات بڑھتی جاتی ہیں مگر علم کی گہرائی نہیں بڑھتی؛ آدمی بہت کچھ ’’دیکھ‘‘ چکا ہوتا ہے، مگر بہت کم چیز ایسی ہوتی ہے جس پر اس نے حقیقتاً ’’غور‘‘ کیا ہو۔

قرآن کا ذہنی و فکری مزاج حیرت انگیز طور پر یہاں بھی ہماری رہنمائی کرتا ہے، قرآن انسان کو محض دیکھنے پر نہیں چھوڑتا؛ وہ تدبر، تفکر، تعقل اور تذکر کا مطالبہ کرتا ہے، قرآن کی دعوت ہے: أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ، کیا یہ قرآن میں غور نہیں کرتے؟ گویا وحی کی تہذیب ’’ٹھہرنے‘‘ کی تہذیب ہے، لفظ پڑھو، معنی تک پہنچو، معنی سے حقیقت تک جاؤ اور حقیقت کو اپنی زندگی میں اتارو، اس کے برخلاف بے مقصد اسکرالنگ کا مزاج یہ ہے کہ کوئی منظر اتنی دیر آنکھ کے سامنے نہ رہے کہ وہ فکر بن سکے۔

اسکرالنگ کی ایک اور قیمت ہماری نیند ادا کررہی ہے، رات کو بستر پر لیٹ کر آدمی موبائل اٹھاتا ہے اور اپنے آپ سے ایک بے ضرر سا وعدہ کرتا ہے: ’’صرف پانچ منٹ۔‘‘ لیکن لامتناہی اسکرالنگ میں پانچ منٹ کا کوئی محافظ نہیں ہوتا، ایک ویڈیو دوسری کو آواز دیتی ہے، ایک خبر دوسری خبر کا دروازہ کھولتی ہے، اور جب فون رکھا جاتا ہے تو جسم تھکا ہوا مگر دماغ محرکات سے بھرا ہوتا ہے، اس مسئلے پر 182 تحقیقات اور گیارہ لاکھ سے زیادہ افراد کے اعداد و شمار کو یکجا کرنے والے ایک بڑے تحقیقی جائزے میں ایک اہم فرق سامنے آیا: سوشل میڈیا کا ہر استعمال یکساں طور پر نقصان دہ ثابت نہیں ہوا، لیکن مسئلہ بن جانے والا سوشل میڈیا استعمال (Problematic Social Media Use) افسردگی، اضطراب، کم تر ذہنی آسودگی اور نیند کے مسائل سے واضح طور پر وابستہ پایا گیا۔

نفسیاتی اعتبار سے اسکرالنگ کا ایک اور پہلو شاید زیادہ خاموش مگر زیادہ گہرا ہے، انسان اپنے گھر کی معمولی زندگی کو دوسروں کی زندگی کے منتخب اور آراستہ مناظر سے موازنہ کرنے لگتا ہے، اسے دوسروں کی کامیابیاں دکھائی دیتی ہیں، ناکامیاں نہیں؛ ان کے سفر دکھائی دیتے ہیں، تھکن نہیں؛ مسکراتے چہرے نظر آتے ہیں، اندر کے دکھ نہیں؛ خوب صورت گھر دکھائی دیتے ہیں، قرض اور پریشانیاں نہیں، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آدمی اپنی مکمل زندگی کا مقابلہ دوسروں کی زندگی کے منتخب چند لمحوں سے کرنے لگتا ہے، اس غیر منصفانہ موازنے سے احساسِ محرومی، بے اطمینانی اور اضطراب پیدا ہوسکتا ہے۔

مگر شاید اس پورے مسئلے کا سب سے بڑا نقصان طبی یا نفسیاتی نہیں اخلاقی اور روحانی ہے، اسلام کی نگاہ میں وقت صرف گھڑی کی سوئیوں کی حرکت نہیں، زندگی کا اصل سرمایہ ہے، قرآن نے زمانے کی قسم کھا کر انسان کے خسارے کا اعلان کیا: وَالْعَصْرِ ۝ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ۔ رسول اللہ ﷺ نے حسنِ اسلام کی علامت یہ بتائی کہ انسان غیر متعلق اور بے فائدہ چیزوں کو چھوڑ دے: مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ۔ ہمارے ڈیجیٹل عہد میں اس حدیث کا ایک نیا مفہوم آنکھوں کے سامنے کھلتا محسوس ہوتا ہے، روزانہ ہم کتنی ایسی خبریں پڑھتے، کتنے چہرے دیکھتے، کتنی بحثیں سنتے اور کتنی ویڈیوز سے گزرتے ہیں جن کا چند گھنٹوں بعد ہمیں عنوان تک یاد نہیں رہتا، مواد حافظے سے مٹ جاتا ہے، لیکن اسے دیکھنے میں صرف ہونے والا وقت عمر سے واپس نہیں آتا، اسکرالنگ کی سب سے بڑی قیمت شاید یہی ہے کہ چیزیں ذہن سے نکل جاتی ہیں، مگر ان پر صرف ہونے والا وقت زندگی سے نکل چکا ہوتا ہے۔

تاہم انصاف کا تقاضا ہے کہ تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھا جائے، اسکرالنگ کوئی شرعی یا طبی برائی بذات خود نہیں، بلکہ ایک تکنیکی وسیلہ ہے، اسی موبائل پر قرآن پڑھا جاتا ہے، حدیث تلاش کی جاتی ہے، علمی مقالات ملتے ہیں، دنیا کے بہترین اساتذہ کے دروس سنے جاتے ہیں، زبانیں سیکھی جاتی ہیں، تجارت چلتی ہے، دعوت کا کام ہوتا ہے، عزیزوں سے تعلق قائم رہتا ہے اور لمحوں میں ایسی معلومات دستیاب ہوجاتی ہیں جن کے حصول کے لیے کبھی کتب خانوں کے کئی چکر لگانے پڑتے تھے، خرابی سہولت میں نہیں، سہولت کے بے مہار استعمال میں ہے؛ مسئلہ اسکرین میں نہیں، اس مقام پر ہے جہاں انسان آلہ استعمال کرتے کرتے خود استعمال ہونے لگے، سوال یہ نہیں کہ ’’آپ اسکرول کرتے ہیں یا نہیں؟‘‘ اصل سوال یہ ہے کہ اسکرول آپ کے اختیار میں ہے یا آپ اسکرول کے اختیار میں؟

اسی لیے اس مسئلے کا علاج موبائل توڑ دینا یا زمانے سے کٹ جانا نہیں، بلکہ اپنی توجہ کی زمام دوبارہ اپنے ہاتھ میں لینا ہے، انسان سوشل میڈیا کھولنے سے پہلے اپنے آپ سے پوچھے کہ میں یہاں کیوں آیا ہوں؛ استعمال کے لیے وقت متعین کرے؛ غیر ضروری اطلاعات (Notifications) بند کرے؛ کھانے کی میز، علمی مجلس، عبادت گاہ اور بستر کو موبائل کی مستقل چراگاہ نہ بننے دے؛ صبح آنکھ کھلتے ہی دنیا بھر کی آوازوں کو اپنے ذہن میں داخل کرنے سے پہلے اپنے وجود کو چند لمحے خاموشی دے، اور رات سونے سے پہلے ذہن کو تصویروں، خبروں اور تنازعات کے ہجوم سے نکالنے کا موقع فراہم کرے۔ بالخصوص انسان کو دوبارہ خاموش رہنے اور بور ہونے کا ہنر سیکھنا ہوگا، ہر خالی لمحے کو مواد سے بھر دینا ذہنی صحت نہیں، کبھی انتظار کرنا، خاموش بیٹھنا، کسی منظر کو دیر تک دیکھنا، کسی انسان کی پوری بات سننا، ایک کتاب کے صفحے پر رکنا اور ذکر کے چند کلمات کو معنی کے ساتھ دہرانا بھی انسانی ذہن کی ضرورت ہے۔

ہم ایک ایسے زمانے میں داخل ہوچکے ہیں جہاں دنیا کی بڑی معیشتوں میں صرف زمین، سونا، تیل اور سرمایہ ہی قیمتی نہیں رہے، انسانی توجہ بھی ایک سرمایہ بن چکی ہے، ہر ایپ ہماری توجہ میں سے اپنا حصہ چاہتی ہے؛ ہر پلیٹ فارم کی خواہش ہے کہ ہم چند منٹ اور رکیں؛ ہر اطلاع ہمیں دوبارہ اسکرین کی طرف بلاتی ہے، ایسے عہد میں اپنی نگاہ، اپنی توجہ اور اپنے وقت کی حفاظت محض نظمِ زندگی کا مسئلہ نہیں رہی، یہ شخصیت اور ارادے کی حفاظت کا مسئلہ بن گئی ہے۔

اپنی توجہ کی حفاظت دراصل اپنے وقت کی حفاظت ہے، وقت کی حفاظت زندگی کی حفاظت ہے، اور ایک صاحبِ ایمان کے لیے زندگی کی حفاظت اس امانت کی حفاظت ہے جس کے ایک ایک لمحے کا حساب ہونا ہے:
حسابِ عمر کا اتنا سا گوشوارا ہے
تمہیں نکال کے دیکھا تو سب خسارا ہے

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔