زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

از:- سعود احمد صدیقی

مدیر، ملی اسکول، روٹا

7 اکتوبر، بروز بدھ، سوشل میڈیا کے ذریعے یہ خبر گردش کرنے لگی کہ لکھنؤ کی سرزمین پر علم و عرفان کا مہتاب ہمیشہ کے لیے غروب ہوگیا۔ یہ خبر بجلی کی رفتار سے پوری دنیا میں پھیل گئی۔ جن لوگوں نے بھی یہ خبر پڑھی یا سنی، وہ غم زدہ ہوکر رہ گئے۔ بے ساختہ میری زبان سے کلمۂ استرجاع إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ] جاری ہوگیا اور مجھے انتہائی صدمہ پہنچا، جس سے دل و دماغ ماؤف ہوکر رہ گئے۔ یہ کوئی معمولی سانحہ نہیں تھا، بلکہ ایسی شخصیت کا سانحۂ ارتحال تھا جو علوم و فنون کا سمندر، زہد و تقویٰ کا علم بردار اور تحقیق و تدریس کا بے تاج بادشاہ تھی۔

میری بدقسمتی کہ مجھے موصوف سے زانوئے تلمذ تہہ کرنے کا شرف حاصل نہ ہوسکا۔ بقول شاعر: _بسا آرزو کہ خاک شدہ\!_ تاہم، ان کی تقریروں اور تحریروں سے استفادہ کرنے اور متعدد مضامین کے ذریعے ان کے افکار و خیالات کو پڑھنے، سمجھنے اور ان پر غور کرنے کا موقع ضرور ملا۔ یہ وہ عظیم ہستی ہیں جنہیں دنیا حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے نام سے جانتی ہے۔

اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ حضرت کی مغفرت فرمائے، انہیں اپنی وسیع رحمتوں سے نوازے، ان کے پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین\!

حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی رحمۃ اللہ علیہ عربی اور اردو کے نہایت فصیح و بلیغ ادیب تھے۔ بیسویں صدی کے وسط میں عرب دنیا میں عرب قوم پرستی ایک مؤثر سیاسی و فکری تحریک کے طور پر ابھر رہی تھی، جس کی قیادت جمال عبدالناصر کررہے تھے۔ ان کے دور میں اشتراکیت، عرب اتحاد، آزادی، اور مشترکہ عرب شناخت کو خاص اہمیت حاصل ہوئی۔ اسی تناظر میں یہ سوال بھی نمایاں ہونے لگا کہ مسلمانوں کی اجتماعی شناخت کی بنیاد عرب نسل و زبان ہے یا اسلام اور امتِ مسلمہ کی وحدت؟

اسلامی فکر کے حامل اہلِ قلم نے اس بحث میں یہ موقف پیش کیا کہ عرب ہونا اپنی جگہ ایک لسانی و ثقافتی شناخت ہے، لیکن اسلامی اخوت کی بنیاد اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے، جس میں عرب و عجم دونوں شامل ہیں۔

اسی فکری پس منظر میں عرب قوم پرستی کے مقابلے میں اسلامی تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے ندوۃ العلماء، لکھنؤ سے ماہنامہ "البعث الاسلامی” کا اجرا ہوا۔ اس رسالے نے عرب قوم پرستی کے مقابلے میں اسلامی فکر و شعور کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کی فکری اثر آفرینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے پیغام نے عرب دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی۔ بالخصوص اس کا یہ نعرہ:

شِعَارُنَا الْوَحِيدُ إِلَى الْإِسْلَامِ مِنْ جَدِيدٍ

عرب دنیا میں خاصا مقبول ہوا اور اس نے عرب وطن پرستی کے مقابلے میں اسلامی وحدت کے تصور کو نمایاں کیا۔

حضرت مولانا کی فصاحت و بلاغت کا شہرہ صرف برصغیر تک محدود نہیں تھا، بلکہ عرب دنیا میں بھی آپ کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ علمی عظمت کے ساتھ آپ خدا پرست، خدا ترس اور جود و سخا کے پیکر بھی تھے۔

آپ نے طویل عرصے تک ندوۃ العلماء میں علمی و انتظامی خدمات انجام دیں اور تقریباً پچیس سال تک اہتمام کے منصب پر فائز رہے۔ آپ کا دورِ اہتمام تقویٰ، پرہیزگاری، سادگی اور احساسِ ذمہ داری کی روشن مثال تھا۔ خدا کرے کہ ہر علمی ادارے کو آپ جیسا مخلص، متقی اور باصلاحیت مہتمم نصیب ہو۔

بہرحال، حضرت مولانا کا انتقال ایک عظیم علمی سانحہ ہے اور ان کا وصال پورے عالمِ اسلام کے لیے باعثِ افسوس ہے۔ ایسے ہی موقع پر یہ کہاوت یاد آتی ہے: موتُ العالِمِ موتُ العالَمِ، یعنی ایک عالم کی موت گویا ایک عالم کی موت ہے۔

ہمیں حضرت کی زندگی سے سبق لینا چاہیے اور ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے تقویٰ و پرہیزگاری اختیار کرنی چاہیے، قوم و ملت کی اصلاح کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے، دعوت الی اللہ کا فریضہ انجام دینا چاہیے اور رجوع الی اللہ کے جذبے کو اپنے اندر زندہ رکھنا چاہیے۔ یہی کسی بزرگ کی زندگی سے حقیقی سبق حاصل کرنا اور ان کے مشن کو آگے بڑھانے کا بہترین طریقہ ہے۔

اسی مناسبت سے مولانا عارف ندوی صاحب کی فکر، مولانا شمیم اختر ندوی اور مولانا سید عالم ندوی کی کوششوں اور مولانا فیاض ندوی صاحب کی صدارت میں 19 اکتوبر، بروز پیر، قبل از ظہر، مدرسہ اشاعت العلوم، امور کی جامع مسجد میں ایک تعزیتی اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں علمائے کرام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اجلاس میں مختلف علمائے کرام نے حضرت مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی حیات و خدمات پر اختصار کے ساتھ روشنی ڈالی اور ان کے علمی، فکری اور تربیتی کارناموں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ مقررین نے حضرت کی زندگی سے رہنمائی حاصل کرنے اور ان کے علمی و اصلاحی مشن کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔

آخر میں مولانا عمران ندوی صاحب نے اپنی جانب سے اور منتظمین کی طرف سے اجلاس میں شریک تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ اس کے بعد مولانا تفضیل ندوی صاحب کی دعا پر مجلس اختتام پذیر ہوئی۔ متصلاً نمازِ ظہر ادا کی گئی، جس کے بعد تمام شرکائے اجلاس ظہرانے سے فارغ ہوکر اپنی اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگئے۔

ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے
زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔