از:- نقی احمد ندوی
(ریاض، سعودی عرب)
عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ فارغین مدارس مسجدوں کی امامت اور مدارس و مکاتب میں درس و تدریس کا پیشہ اختیار کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امامت اور درس و تدریس بہت نیک پیشہ ہے اور یقینا قابلِ تعظیم ہے۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امامت اور مدارس و مکاتب میں تعلیمی خدمات انجام دینے والوں کی تنخواہ اتنی کم ہوتی ہے کہ ایک متوسط قسم کی زندگی گزارنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
فارغین مدرسہ دوسرے پیشوں کو اختیار کرنے میں ہچکچاتے ہیں، اس کی بہت ساری وجوہات ہوسکتی ہیں، مگر سب سے بڑی وجہ یہ سمجھ میں آتی ہے کہ ہمارے ذہن و دماغ میں یہ تصور پوری طرح بیٹھ چکا ہے کہ مدرسہ کی تعلیم کا مقصد صرف دین و مذہب کی خدمت ہے اور کچھ نہیں اور امامت اور درس و تدریس سے بہتر دین کی خدمت کچھ اورہو ہی نہیں سکتی۔ حالانکہ دین و ملت کی خدمت ایک الگ چیز ہے اور ذریعہ معاش ایک الگ چیز، جب ہم انبیاء کرام کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ سارے انبیاء کا کوئی نہ کوئی پیشہ ضرور تھا۔ دین کی دعوت و تبلیغ اور خدمتِ خلق کا وہ معاوضہ نہیں لیا کرتے تھے۔
چناں چہ اس سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے کہ امامت اور درس و تدریس کے علاوہ کوئی اور ذریعہ معاش بہتر نہیں ہوسکتا ہے۔ بلاشبہ آپ مسجد کی امامت کریں مگر آپ کا ذریعہ معاش کچھ اور ہو، آپ مدرسہ میں درس وتدریس کی خدمات انجام دیں مگر آپ کی کمائی کا کوئی اور ذریعہ ہو۔ علمائے دین انبیاء کرام کے پیشوں کو اختیار کرنے میں عار تو نہیں محسوس کرتے مگر ان کی اس سنت پر عمل بھی نہیں کرتے۔ اس کی وجہ جو بھی ہو اور چاہے جو توجیہ بھی کرلی جائے مگر سچائی یہی ہے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ انبیاء کرام کے سارے پیشے اور پروفیشن عصری تعلیم کے زمرے میں آتے ہیں، دینی تعلیم کے زمرے میں نہیں آتے ۔ چناں چہ دینی علوم میں ایک بھی پیشہ اور شعبہ شامل نہیں، جن کو انبیائے کرام نے اختیار کیا تھا۔ جن پیشوں کو ہم عصری تعلیم اور ٹیکنکل و پروفیشنل کورسز کا نام دیتے ہیں وہی ہمارے انبیائے کرام کے پیشے اور پروفیشن تھے۔
غرض یہ کہ جن پیشوں کو اختیار کرنے میں ہمیں ہچکچاہٹ ہوتی ہے وہ سارے پیشے کسی نہ کسی نبی اور رسول کی سنت ہیں اور وارثین انبیاء کا پہلا حق یہ ہے کہ وہ اپنے انبیاء کی دیگر سنتوں کے ساتھ ساتھ ذریعہ معاش کی سنتوں کو بھی زندہ کریں اور وہ پیشے اور پروفیشن اختیار کریں جو ہمارے نبیوں نے اختیار کیے تھے۔
خلاصہ یہ ہے کہ امامت، درس و تدریس اور ٹیوشن کے علاوہ بھی بہت سارے شعبے موجود ہیں، جن میں فارغین مدارس نام، کام اور عزت کما سکتے ہیں اور وہ سب کے سب انبیائے کرام کی سنتوں میں شامل ہیں، اس لیےاہل مدارس کو یاد رکھنا چاہیے کہ:
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں