از:- مسعود جاوید
میں عموماً ملی اداروں اور ان کے رہنماؤں کو تنقید، تنقیص اور سب و وشتم کا نشانہ بنانے کا مخالف رہا ہوں تاہم احتساب ہی تنقید کو جنم دیتا ہے اور یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جو لوگ کام کرتے ہیں ان پر ہی ، مزید بہتری کی توقع میں ، تنقید کی جاتی ہے ۔ اسی لئے میں مثبت اور تعمیری تنقید کی تائید کرتا ہوں اور اسے محاسبہ کا جز سمجھتا ہوں ۔ اس لئے کہ جہاں accountability نہیں ہوتی ہے وہاں کے صدر سکریٹری اور اعلیٰ عہدوں پر فائز کارکنان یا تو نکمے ہو جاتے ہیں یا ڈکٹیٹر ۔
محاسبہ کس کا ؟ ظاہر ہے جو لوگ کام کرتے ہیں ۔ مثال کے طور مسلم پرسنل لاء بورڈ کا محاسبہ اس لئے کرتا ہوں کہ اس نے ملی کاز کے لئے کام کیا ہے۔ بنیادی طور پر اس کا دائرۂ عمل ” پرسنل لاء” یعنی مسلمانوں کے مذہبی نوعیت کے قوانین کی دستور ہند میں دی گئی ضمانت کی روشنی میں حفاظت کرنا اور ہر قسم کی سرکاری اور غیر سرکاری مداخلت کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنا ہے ۔ اس بابت مسلم مخالف عناصر کی ریشہ دوانیوں کے خلاف متنبہ رہنا ہے تاکہ بروقت اس کا سد باب کیا جا سکے ۔
یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ وہ اپنے اغراض ومقاصد کو بھول چکے ہیں لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ پچھلے دس پندرہ سالوں یا یہ کہیں کہ حضرت مولانا علی میاں، مولانا محمد ولی رحمانی اور عبدالرحیم قریشی رحمہم اللہ کے بعد بورڈ اتنا موثر نہیں رہا ۔ دراصل بورڈ کا ورکنگ آفس شروع سے ہی امارت شرعیہ رہا اور اس کے سب سے متحرک جنرل سکریٹری مولانا منت اللہ رحمانی رحمہ اللہ رہے اور ان کے بعد قاضی مجاہد الاسلام رحمہ اللہ یہ بایں معنی سنہری دور رہا کہ یہ حضرات سیاسی بصیرت کے حامل تھے۔
در اصل وقت کی اہم ضرورت ملی تنظیموں کا دائرہ کار کی تحدید ہے۔ جب تک یہ نہیں ہوگا عوام ہر تنظیم سے ہر کام کی امیدیں وابستہ کرتی رہے گی۔
اسکرالنگ : اوقات وترجیحات کی موت
- کاش وقف املاک کے تحفظ اور اس کا صحیح نظم و ضبط کے لئے دینی اور قانونی امور کے ماہرین افراد پر مشتمل کوئی الگ تنظیم ہوتی جو وقف آمدنی کو وسائل بنا کر اس کے پیسوں سے مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی مسائل کی بہتری کے لئے شفافیت کے ساتھ کام کرتی۔
- بہت سارے مسلمان جیلوں میں قیدوبند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں پیسے کی قلت کی وجہ سے قانونی چارہ جوئی کرنے کے اہل نہیں ہیں ۔ کاش عدالتوں میں ان کی چارہ جوئی کے لئے مستقل ملی لیگل ایڈ تنظیم ہوتی۔
- ہمارا ملک ہندوستان ایک رفاہی ریاست ویلفیئر اسٹیٹ ہے اس میں بلا تفریق مذہب اور علاقہ رفاہی کاموں کے لئے بجٹ بنتا ہے۔ معلومات کی کمی کی وجہ سے ہم اس سے مکمل طور پر مستفید نہیں ہو پاتے ہیں۔ اس کے لئے ایک مستقل تنظیم یا یونٹ کی ضرورت ہے جو ان رفاہی بجٹ کی رقوم سے ملت کو استفادہ کے لئے بروقت متنبہ کرے۔ اس کی مخصص رقوم کے حصول میں مستحقین کو مدد کرے۔
اسی طرح الگ الگ اغراض و مقاصد کے لئے الگ الگ تنظیمیں ہوتیں تاکہ ہر کام کے لئے پرسنل لاء بورڈ، جمعیت علماء ہند اور جماعت اسلامی ہند جیسی تنظیموں پر بجا اور بے جا تنقید اور توقع نہیں کی جاتی۔
انتخابی سیاست ایک خاردار موضوع ہے دستور ہند ہر بالغ مرد وعورت کو اس میں حصہ لینے کی آزادی کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ ملی تنظیموں سے وابستہ ہر شخص اپنی مستقل رائے رکھتا ہے کس ووٹر کو کس سیاسی تنظیم سے وابستہ ہونا ہے اس کے لئے پابند کرنا دستور کے منافی ہے تاہم ووٹنگ پیٹرن یعنی کسے ووٹ کرنا ہے اور کیوں اس بابت عوام کو بیدار کرنے کے لئے ایک غیر جانبدار تنظیم کی ضرورت ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہو جاتا ہے جب ملی تنظیموں کے سربراہان اندرونی طور پر کسی نہ کسی سیاسی پارٹی کے حلیف بن جاتے ہیں اور اس طرح عوام پر اپنی رائے مسلط کرتے ہیں ۔