جمعیت علماء ہند نے میڈیا کی مکمل ذمہ داری ایک باصلاحیت نوجوان کو سونپ کر اچھی پہل کی ہے، دیگر اداروں کو بھی اس کی تقلید کرنی چاہیے: عبدالحمید نعمانی
جمیعۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے نوجوان نسل، بالخصوص جین زی (Gen Z) کو آگے بڑھانے اور ملت کی خدمت کے مواقع فراہم کرنے پر زور دیا ہے۔ اس سلسلے میں عبدالحمید نعمانی نے کہا کہ یہ کام صرف جمیعۃ علماء ہند تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ تمام مسلم تنظیموں اور اداروں کو بھی نوجوانوں کی صلاحیتوں پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں اہم ذمہ داریاں سونپنی چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ جمیعۃ علماء ہند نے گزشتہ دنوں میڈیا کی مکمل ذمہ داری ایک باصلاحیت نوجوان کو سونپی ہے، جو ایک قابلِ تقلید قدم ہے۔ دیگر اداروں کو بھی مزید تاخیر کیے بغیر اس سمت میں پہل کرنی چاہیے، تاکہ ملت کو ایسے عناصر سے نجات مل سکے جو اقتدار کی خوشنودی حاصل کرنے اور ملی قیادت کا دعویٰ کرنے کے باوجود اپنی ذمہ داریوں کا صحیح طور پر حق ادا نہیں کرتے۔
عبدالحمید نعمانی نے بعض مذہبی شخصیات کے طرزِ عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے کہ بعض افراد، جو ائمہ اور مذہبی رہنماؤں کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں، مسجد کی جگہ پر تعمیر ہونے والے مندر کی پران پرتِشٹھا کی رسم میں شریک ہوتے ہیں اور ہندوتوا کے حامیوں کی حمایت کو اپنے لیے باعثِ سعادت سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق بعض افراد مفتی اور قاری جیسے القاب کے باوجود ایسے اقدامات کرتے ہیں جن سے ملی مفادات کو نقصان پہنچتا ہے اور ہندوتوا کے موقف کو تقویت ملتی ہے۔ انہوں نے اس صورتِ حال کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملت کے اندر میر جعفر اور میر صادق جیسے کرداروں میں اضافہ بدقسمتی کی بات ہے۔
تاہم انہوں نے مایوسی کے بجائے امید اور مزاحمت کا راستہ اختیار کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل میں توانائی، صلاحیت اور آگے بڑھنے کا جذبہ موجود ہے، ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ اسے مناسب مواقع فراہم کیے جائیں اور قیادت کی ذمہ داریوں میں شریک کیا جائے۔ ان کے خیال میں موجودہ حالات میں جو تھوڑی بہت مزاحمت نظر آ رہی ہے، وہ بھی مستقبل میں بہتر حالات کی راہ ہموار کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
عبدالحمید نعمانی نے مزید کہا کہ مایوسی کے بجائے امید کے ساتھ زندگی گزارنی چاہیے۔ انہوں نے اپنے گاؤں میں مکان کی تیسری منزل کی چھت سے دور تک پھیلی ہریالی اور صاف فضا کا مشاہدہ کرتے ہوئے امید کا اظہار کیا کہ جس طرح قدرتی ماحول میں تازگی اور شادابی دکھائی دیتی ہے، اسی طرح سماجی اور ملی زندگی میں بھی مثبت تبدیلیوں کے امکانات موجود ہیں۔ ان کے مطابق نوجوانوں کو آگے بڑھانے اور ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کی سنجیدہ کوششیں مستقبل میں بہتر نتائج کا سبب بن سکتی ہیں۔