مولانا منصوری ایک عالمِ دین، مفکر اور صاحبِ بصیرت دانش ور تھے: ڈاکٹر شہاب الدین ثاقب قاسمی
برصغیر کے معروف عالمِ دین مولانا عیسیٰ منصوری کے انتقال پر ڈاکٹر شہاب الدین ثاقب قاسمی نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ایک ممتاز عالمِ دین، مفکر اور صاحبِ بصیرت دانش ور قرار دیا ہے۔ مولانا مرحوم ایک طویل عرصے سے لندن، برطانیہ میں مقیم تھے اور وہیں دینی و علمی خدمات انجام دے رہے تھے۔
ڈاکٹر شہاب الدین ثاقب قاسمی نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ مولانا عیسیٰ منصوری محض ایک عالمِ دین نہیں، بلکہ صاحبِ فکر، مفکر اور دانش ور بھی تھے۔ ان کے خطابات اور بیانات میں غیر معمولی توازن، سنجیدگی اور وسعتِ نظر نمایاں تھی۔ وہ فرقہ بندی اور مسلکی تعصب سے بالاتر ہوکر پوری ملت کے اجتماعی مفاد میں سوچنے والے اہلِ علم میں سے تھے، جن کی فکر میں اعتدال، بصیرت اور اخلاص نمایاں تھا۔
انہوں نے کہا کہ مولانا منصوری سے ان کی علمی و فکری شناسائی بہار کے معروف عالمِ دین حضرت مولانا مفتی محفوظ الرحمن عثمانیؒ، بانی جامعۃ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ، سپول، کے توسط سے ہوئی۔ مفتی صاحب مرحوم مولانا منصورپوری کی علمی صلاحیتوں اور فکری پختگی کے قدر دان تھے۔ ہندوستان میں ان کی شخصیت کو متعارف کرانے اور ان کے علمی افکار سے لوگوں کو روشناس کرانے میں بھی مفتی صاحب کا اہم کردار رہا۔
ڈاکٹر ثاقب قاسمی نے مزید کہا کہ مولانا منصوری کے خطابات، تحریروں اور علمی و فکری مباحث کے مطالعے سے ان کی شخصیت کے مختلف پہلو سامنے آئے۔ ان کی گفتگو میں اعتدال، ملی درد اور فکری وسعت پائی جاتی تھی۔ وہ اپنے مسلک یا حلقے تک محدود رہنے کے بجائے پوری ملت کے اجتماعی مسائل پر غور و فکر کرتے اور وسیع تر تناظر میں اپنی بات رکھتے تھے۔
ان کے مطابق ہندوستان اور پاکستان کے معیاری اخبارات و جرائد میں ملکی، عالمی اور ملی حالات و مسائل پر مولانا منصورپوری کے جامع اور فکر انگیز مضامین شائع ہوتے رہے۔ ان تحریروں سے ان کی علمی گہرائی، حالاتِ حاضرہ پر گہری نظر اور مسائل کو وسیع تناظر میں دیکھنے کی صلاحیت کا اندازہ ہوتا تھا۔ ایک دور میں وہ ہندوستان میں بھی خاصے سرگرم رہے اور ملک کی مختلف ریاستوں کے تعلیمی اداروں میں ان کے متعدد علمی و فکری اجلاس منعقد ہوئے، جن سے اہلِ علم کے ساتھ عام پڑھے لکھے لوگوں نے بھی استفادہ کیا۔
ڈاکٹر شہاب الدین ثاقب قاسمی نے کہا کہ مولانا منصوری کی رحلت صرف ایک معروف عالمِ دین کی وفات نہیں، بلکہ ایک اہم علمی و فکری شخصیت کے دنیا سے اٹھ جانے کا صدمہ ہے۔ حضرت مفتی محفوظ الرحمن عثمانیؒ کے توسط سے حاصل ہونے والی ان سے شناسائی ان کے لیے ایک اہم علمی نسبت کی حیثیت رکھتی ہے۔
انہوں نے مولانا مرحوم کی علمی خدمات، متوازن افکار اور پہلی ملاقات کی یادوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وقت کے ساتھ بہت سی شخصیات نگاہوں سے اوجھل ہوجاتی ہیں، لیکن ان کے افکار، علمی خدمات اور اچھے نقوش دیر تک باقی رہتے ہیں۔
آخر میں ڈاکٹر شہاب الدین ثاقب قاسمی نے دعا کی کہ اللہ رب العزت مولانا عیسیٰ منصوری کی دینی و علمی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر کرے، انہیں اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ، متعلقین، شاگردوں اور محبین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔