نئی دہلی: سائبر سکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی چیٹ بوٹس سے تیار کیے گئے پاس ورڈ استعمال کرنا صارفین کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ ایسے پاس ورڈ نسبتاً آسانی سے اندازہ لگائے جا سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق آج کل بہت سے لوگ مختلف آن لائن اکاؤنٹس کے لیے مضبوط پاس ورڈ بنانے کی غرض سے اے آئی چیٹ بوٹس کی مدد لیتے ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ مکمل طور پر محفوظ نہیں ہے۔
ماہرین کے مطابق اے آئی چیٹ بوٹس دراصل مکمل طور پر اتفاقی (رینڈم) پاس ورڈ تیار نہیں کرتے بلکہ وہ اپنے تربیتی ڈیٹا اور مخصوص پیٹرن کی بنیاد پر حروف اور اعداد کا انتخاب کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے ان کے بنائے گئے پاس ورڈز میں ایک جیسی ساخت یا ترتیب پائی جا سکتی ہے، جسے ہیکرز کے لیے توڑنا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔
سائبر سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ مضبوط پاس ورڈ وہ ہوتا ہے جس میں زیادہ بے ترتیبی (رینڈم نیس) ہو اور جو کسی واضح پیٹرن پر مبنی نہ ہو۔ لیکن اے آئی چیٹ بوٹس سے تیار کیے گئے پاس ورڈ اکثر ایک جیسے انداز میں بنتے ہیں، جس سے ان کے ہیک ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین نے یوزرس کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے آن لائن اکاؤنٹس کی حفاظت کے لیے مستند پاس ورڈ مینیجر یا محفوظ رینڈم پاس ورڈ جنریٹر کا استعمال کریں۔ اس کے علاوہ ہر اکاؤنٹ کے لیے الگ پاس ورڈ رکھنا اور دو مرحلوں پر مشتمل تصدیق (ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن) کو فعال کرنا بھی ضروری ہے تاکہ سائبر حملوں سے بچا جا سکے۔