نئی دہلی، 17 فروری:
نئی دہلی میں منعقدہ AI Impact Summit 2026 کے افتتاحی روز انتظامی بدانتظامی اور غیر متوقع بھیڑ کے باعث شرکاء کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایونٹ مقام کے باہر طویل قطاریں دیکھنے میں آئیں جبکہ متعدد مندوبین کو داخلے کے لیے گھنٹوں انتظار کرنا پڑا۔
اطلاعات کے مطابق سخت سکیورٹی انتظامات کے دوران بعض حصوں کو خالی بھی کروایا گیا، جس سے شرکاء میں بے چینی پھیل گئی۔ کچھ اسٹارٹ اَپس نے اپنے سامان کی گمشدگی کی شکایات بھی درج کرائیں، جب کہ سوشل میڈیا پر ایونٹ انتظامیہ کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے مرکزی وزیر برائے الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی اشونی ویشنو نے شرکاء سے معذرت کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر پہلے دن کسی کو کسی بھی قسم کی دشواری پیش آئی ہے تو وہ اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ وزیر نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ سیشنز کے لیے انتظامات میں فوری بہتری لائی جا رہی ہے تاکہ شرکاء کو بہتر اور منظم تجربہ فراہم کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ اس عالمی نوعیت کے ٹیکنالوجی اجلاس میں دنیا بھر سے ماہرینِ مصنوعی ذہانت، صنعتکار اور پالیسی ساز شریک ہو رہے ہیں، اور بھارت اس پلیٹ فارم کے ذریعے عالمی سطح پر اپنی ڈیجیٹل قیادت کو اجاگر کرنے کا خواہاں ہے۔
اطلاعات کے مطابق انتظامیہ نے آئندہ دنوں میں بھیڑ کے بہتر نظم و نسق اور سکیورٹی ہم آہنگی کو یقینی بنانے کا وعدہ کیا ہے۔