ہندو مذہب حقیقت اور بدگمانی کے آئینے میں

انسانی تخلیق کے بارے میں جدید سائنس کا اپنا نظریہ یہ ہے کہ آدمی کئی ملین سال پہلے بندر تھا اور پھر مختلف علم و فن کے مراحل سے گزرتے ہوۓ متمدن اور مہذب انسان کہلایا ۔دنیا کی تمام آسمانی کتابیں اور آسمانی مذاھب کے ماننے والوں نے اس نظریے کو رد کیا مگر ان کے رد کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑا ۔میں نے پچھلے مضمون "ہندو مذہب حقیقت اور بدگمانی کے آئینے میں” لکھا ہے کہ بیسویں صدی کے نئے ورلڈ آرڈر نے کیسے منصوبہ بند طریقے سے اقوام عالم پر سیاسی اور معاشی برتری حاصل کی اور سیکولرزم اور لبرلزم کے نام پر مذہبی تعلیمات کو بے وقعت قرار دے دیا ۔اس طرح سیکولر ممالک کے تعلیمی نصاب اور دستور میں بھی یہ بات تسلیم کروا لی گئی کہ انسانوں کا وجود ایک حادثاتی تخلیق کا نتیجہ ہے ۔اور یہ خدا ودا کا تصور جہالت کی باتیں ہیں ۔

ہندو مذہب حقیقت اور بدگمانی کے آئینے میں Read More »

مدارس ملحقہ کے حوالے سے کچھ میٹھی کچھ کٹھی باتیں

مدارس ملحقہ کے مسائل ہیں کہ حل ہونے کا نام نہیں لیتے۔ لیڈران خاموش تماشائی بنے ہیں، اور مدارس کے مسائل میں روز افزوں اضافہ ہوتے جارہا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ ہر پارٹی کے لیڈران اس تعلق سے پیش قدمی کریں۔

مدارس ملحقہ کے حوالے سے کچھ میٹھی کچھ کٹھی باتیں Read More »

فوقانیہ و مولوی فارم بھرنے کا اعلان

بہار مدرسہ بورڈ کی طرف سے فوقانیہ و مولوی کے امتحانات کے لیے فارم بھرنے کا اعلان کردیا گیا ہے۔ آخری تاریخ ۲۰ؔ؍مارچ ۲۰۲۳ مقرر کی گئی ہے۔ اور کئی طرح کے ہدایات دیے گئے ہیں۔ جس میں مولوی آرٹس، کامرس، سائنس، اور اسلامیات اہمیت کے حامل ہیں۔

فوقانیہ و مولوی فارم بھرنے کا اعلان Read More »

ہندو مذہب حقیقت اور بدگمانی کے آئینے میں

بیسویں صدی میں جن تین شخصیات نے مذہب کے نام پر راشٹرواد کا نعرہ دی۔ا ان میں اقبال کے سوا ریاست اسرائیل کے نظریہ ساز ہرتزل اور ہندو راشٹر کے خالق ویر ساورکر یا تو مذہب بیزار تھے یا انہیں مذہب سے کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔ ہاں اگر مذہب کے نام پر پاکستان کی تخلیق میں محمد علی جناح کو بھی شامل کر لیا جاۓ تو یہ تینوں شخصیات ایک لبرل سوچ کی حامل تھیں ۔ خیر میں بحث کر رہا تھا ہندو مذہب کے بارے میں کہ ان کی کتابوں کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ ان کی تعلیمات بھی آسمانی کتابوں کے جیسی ہی ہے ۔قرآن میں چار کتابوں کا تذکرہ آتا ہے ۔ان چار کتابوں میں زبور اور زبور کی قوم کا کہیں پتہ نہیں ہے ۔قران میں جب اللہ تعالٰی یہود و نصارٰی کے ساتھ اہل ایمان کا تذکرہ کرتا ہے تو صائبین کا بھی ذکر کرتا ہے۔ علامہ حمیدالدین فراہی نے کہیں پر صائبین کو ہی ہندو قوم بتایا ہے اور ہندؤں کی وید کو

ہندو مذہب حقیقت اور بدگمانی کے آئینے میں Read More »

اوپر تک سکرول کریں۔