بہار میں راجیہ سبھا کی پانچ نشستوں پر سیاسی رسہ کشی تیز، این ڈی اے مضبوط پوزیشن میں

سیل رواں ڈیسک

ملک میں راجیہ سبھا کی خالی ہونے والی نشستوں کے لیے انتخابی بگل بج چکا ہے۔ آئندہ 26 فروری 2026 کو باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا، جبکہ نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ 5 مارچ 2026 مقرر کی گئی ہے۔

بہار میں اگر صرف پانچ امیدوار نامزدگی داخل کرتے ہیں تو انتخاب بلا مقابلہ ہو جائے گا، لیکن اگر پانچ سے زیادہ امیدوار میدان میں اترے تو 16 مارچ 2026 کو ووٹنگ اور ووٹوں کی گنتی ہوگی۔

آئیے! سب سے پہلے جانتے ہیں کہ اپریل 2026 میں جن پانچ ارکانِ پارلیمنٹ کی مدتِ کار ختم ہو رہی ہے، ان میں کون کون شامل ہیں:

  • ہری ونش نارائن سنگھ (جے ڈی یو – نائب چیئرمین راجیہ سبھا)
  • رام ناتھ ٹھاکر (جے ڈی یو – مرکزی وزیر)
  • پریم چند گپتا (آر جے ڈی)
  • امریندر دھاری سنگھ (آر جے ڈی)
  • اوپیندر کشواہا (آر ایل ایم – این ڈی اے حمایت یافتہ)

نشستوں کا حساب و کتاب

بہار اسمبلی میں کل 243 نشستیں ہیں۔ راجیہ سبھا کی ایک نشست جیتنے کے لیے تقریباً 41 پہلی ترجیحی ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس وقت این ڈی اے کے پاس 202 ارکانِ اسمبلی ہیں۔ اس عددی طاقت کے ساتھ این ڈی اے بآسانی چار نشستیں جیت سکتا ہے (41 × 4 = 164)، اور اس کے بعد بھی اس کے پاس 38 اضافی ووٹ بچ جائیں گے۔

مہاگٹھ بندھن کے پاس صرف 35 ارکان ہیں۔ ایک نشست جیتنے کے لیے بھی اسے کم از کم مزید 6 ووٹوں کی ضرورت ہوگی۔

این ڈی اے کو پانچویں نشست کے لیے صرف 3 اضافی ووٹ درکار ہیں، جبکہ مہاگٹھ بندھن کو 6 ووٹوں کی ضرورت ہے۔ ایسی صورت میں اسد الدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم کے 5 اور بہوجن سماج پارٹی کے ایک رکن اسمبلی ستیش پنٹو یادو مجموعی طور پر 6 ووٹوں کے ساتھ ’کنگ میکر‘ کے کردار میں نظر آتے ہیں۔

این ڈی اے میں اندرونی کھینچا تانی

این ڈی اے میں پانچویں نشست کو لے کر رسہ کشی ہو سکتی ہے۔ جیتن رام مانجھی نے پرانے وعدوں کا حوالہ دیتے ہوئے دعویداری پیش کی ہے، جبکہ چراغ پاسوان اور اوپیندر کشواہا کی نظریں بھی اسی نشست پر مرکوز ہیں۔ جے ڈی یو اور بی جے پی دو دو نشستیں چاہیں گی تاکہ معاملہ آسانی سے طے ہو جائے، لیکن اتحادی جماعتیں بھی پرزور دعویداری کر رہی ہیں۔

مہاگٹھ بندھن کی حکمتِ عملی

آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو اویسی کو اپنے حق میں کرنے کی کوشش میں ہیں۔ چرچا ہے کہ وہ مرحوم محمد شہاب الدین کی اہلیہ حنا شہاب کو امیدوار بنا کر مسلم ووٹوں کا توازن اپنے حق میں کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، تاکہ اے آئی ایم آئی ایم کی حمایت حاصل ہو سکے۔

تاہم اے آئی ایم آئی ایم کے ریاستی صدر اخترالایمان نے اپنا امیدوار اتارنے کی بات کہہ کر معمہ پیدا کر دیا ہے۔ ویسے بھی ایم آئی ایم کی سیاست ’کچھ دو اور کچھ لو‘ کے اصول پر چلتی رہی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ سیمانچل کے لیے کسی بڑے خفیہ پیکیج کے مطالبے کے ساتھ ایم آئی ایم کے اراکین ووٹنگ سے دور رہ کر حکومت کو فائدہ پہنچا دیں۔

لیکن حنا شہاب کے نام پر پسپائی اختیار کرنا ایم آئی ایم کے لیے آئندہ سیاست میں مشکلات کھڑی کر سکتا ہے۔ اسی لیے پارٹی کے موقف پر بہت کچھ منحصر ہوگا۔

فی الحال مرکز اور ریاست دونوں میں این ڈی اے کی حکومت ہونے کی وجہ سے پلڑا اسی کے حق میں جھکا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ عددی طاقت کے حساب سے این ڈی اے 4-1 یا کلین سوئپ (5-0) کی پوزیشن میں نظر آ رہا ہے۔

اپوزیشن کے لیے اپنی ایک بھی نشست بچانا ایک بڑا چیلنج ہوگا، جس کے لیے اسے چھوٹی جماعتوں، آزاد امیدواروں اور ممکنہ کراس ووٹنگ پر انحصار کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔