وہ دیکھنا پڑے گا جو دیکھا نہ جاۓ گا
ہم دنیا کی کوئی بھی زبان بولیں۔ رویوں کی اپنی ایک عالمی زبان ہوتی ہے ۔زبان آدمی کی پہچان کرواتی ہے کہ وہ کس ملک اور کس علاقے کا ہے لیکن رویے شخصیتوں کی پہچان کرواتے ہیں کہ وہ خاندانی ہے یا نہیں ۔خاندانی سے ہماری مراد ماں کی آغوش سے لیکر باپ کی نصیحت اور وہ معاشرہ ہے، جس میں ایک نسل مسلسل تربیت کے ادوار سے گزرتی ہے اور یہی تربیت اسے اپنے اسکول کالج سناج اور یونیورسٹی میں بھی منفرد بناتی ہے ۔
وہ دیکھنا پڑے گا جو دیکھا نہ جاۓ گا Read More »