بیسویں صدی میں جن تین شخصیات نے مذہب کے نام پر راشٹرواد کا نعرہ دی۔ا ان میں اقبال کے سوا ریاست اسرائیل کے نظریہ ساز ہرتزل اور ہندو راشٹر کے خالق ویر ساورکر یا تو مذہب بیزار تھے یا انہیں مذہب سے کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔ ہاں اگر مذہب کے نام پر پاکستان کی تخلیق میں محمد علی جناح کو بھی شامل کر لیا جاۓ تو یہ تینوں شخصیات ایک لبرل سوچ کی حامل تھیں ۔ خیر میں بحث کر رہا تھا ہندو مذہب کے بارے میں کہ ان کی کتابوں کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ ان کی تعلیمات بھی آسمانی کتابوں کے جیسی ہی ہے ۔قرآن میں چار کتابوں کا تذکرہ آتا ہے ۔ان چار کتابوں میں زبور اور زبور کی قوم کا کہیں پتہ نہیں ہے ۔قران میں جب اللہ تعالٰی یہود و نصارٰی کے ساتھ اہل ایمان کا تذکرہ کرتا ہے تو صائبین کا بھی ذکر کرتا ہے۔ علامہ حمیدالدین فراہی نے کہیں پر صائبین کو ہی ہندو قوم بتایا ہے اور ہندؤں کی وید کو