کیا سنبھل کے واقعے سے ملت سنبھلے گی ؟

جب بھی قوم مصیبت میں ہو، اس کے رہنماؤں اور بزرگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ موقع پر پہنچیں، ان کی حمایت کریں اور ان کے حوصلے کو بلند کریں، تاکہ قوم کا اعتماد قائم رہے۔ سننے میں آرہا ہے کہ یوگی کی پولس نے دو مسلم نوعمر لڑکوں کو گولی مار دی اور وہ شہید ہو گئے۔ ابھی تک ملی قائدین کی جانب سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا اور نہ ہی ابھی تک کوئی پرسان دینے پہنچا ہے۔

کیا سنبھل کے واقعے سے ملت سنبھلے گی ؟ Read More »

سماجی مساوات کی ہندو تحریک

اس وقت وطنِ عزیز کا ایک معروف شرک آئی کون جارحانہ دھارمک یاترا پر ہے، اس یاترا کے دو مرکزی ہدف نمایاں کیے گئے ہیں، مبینہ ہندو راشٹر کی مانگ کے ساتھ ذات پات کا خاتمہ دوسرا علانیہ مدعا ہے، معلوم ہے کہ ہندو سماج کی تشکیل اونچ نیچ پر قائم اور منحصر ہے، اس کے بغیر ہندو معاشرے کے روایتی خدوخال متصور نہیں، تو یہ تحریک بھی مساوات کے پس پردہ مسلم دشمنی کی دعوت ہے؛ لیکن بہ ہر حال وہ اسلام دشمنی میں اپنے اساسی تصور، مذہبی کتابوں کی واضح ہدایت، صدیوں پرانی روایت، علاقائی شناخت، قومی وراثت اور دھارمک سنسکرتی یعنی اونچ نیچ پر نظر ثانی کے لیے متحد ہو رہے ہیں۔

سماجی مساوات کی ہندو تحریک Read More »

ستم یہ ہے کہ انساں نوع انساں کا شکاری ہے !

آج کی مجلس میں اس ملک کی سالمیت کے لیے اور امن و شانتی کے لیے اور لوگوں کو مانوتا اور انسانیت بتانے کے لیے ہم مفکر اسلام حضرت علی میاں ندوی رح کے دل کی آواز اور درد کو ان کی تقریروں سے پیش کریں گے اور ہم اپنے قارئین سے یہ درخواست کریں گے،کہ اس کا ہندی ترجمہ اور انواد کرکے سماج کے مہذب طبقہ اور انسانیت نواز و امن پسند لوگوں تک بھیجیں اور انہیں بتائیں کہ ملک و قوم کی فکر کریں ورنہ کشتی ڈوبے گی تو کشتی کے ہم سارے مسافر غرق ہو جائیں گے ،ہلاک اور برباد ہو جائیں گے۔

ستم یہ ہے کہ انساں نوع انساں کا شکاری ہے ! Read More »

سنبھل میں مسلمانوں کے خلاف پولیس کا ظالمانہ رویہ

وطن عزیز میں مسلمانوں کے لیے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں، جان،مال اور آبرو حملوں کی زد میں ہیں،مساجد کی بے حرمتی کے واقعات میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے۔آر ایس ایس اور ہندوتوا کی سوچ پر مبنی مودی حکومت کے زیر سایہ مسلمانوں کا قتل عام جاری ہے۔

سنبھل میں مسلمانوں کے خلاف پولیس کا ظالمانہ رویہ Read More »

الیکشن کے نتائج اور مذہبی طبقہ کا رویہ

جب سے شعور کی انکھیں کھولی ہیں تقریبا 30 سالوں سے یہ دیکھتے ہیں آیا ہوں کہ جب بھی کوئی انتخاب ہوتا ہے تو اکثر مذہبی جماعت اپنے درمیان غور و فکر کرنے کے بعد اپنے پسندیدہ امیدواروں کے حمایت میں ایک بیان جاری کر دیتے ہیں اور اپنی عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان امیدواروں کو ووٹ دے کر انہیں جتائیں. اس طرح کی اپیل جاری کرنے کے پیچھے اصل منشا یہ ہوتا ہے کہ کسی طرح سے فرقہ پرست امیدواروں کو اور فرقہ پرست جماعتوں کو شکست دی جا سکے.

الیکشن کے نتائج اور مذہبی طبقہ کا رویہ Read More »

اوپر تک سکرول کریں۔