ایک پیغام بے روزگار علماء و حفاظ کے نام

✍🏻 محمد عادل ارریاوی

________________

آج کل ایک نہایت ہی افسوسناک صورتِ حال ہمارے سامنے ہے۔ دینی مدارس سے ہر سال ہزاروں علماء حفاظ اور مفتیان کرام فراغت حاصل کرتے ہیں مگر ان میں سے بڑی تعداد مناسب روزگار سے محروم رہتی ہے۔ جو حضرات امامت یا تدریس سے وابستہ ہیں ان میں بھی اکثر کی ماہانہ تنخواہ صرف آٹھ سے دس ہزار روپے ہوتی ہے جس سے موجودہ مہنگائی کے دور میں گھر کا بنیادی خرچ پورا کرنا بھی انتہائی دشوار ہے۔

اس سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ اگر امام کسی دینی یا اصلاحی مسئلے پر حق بات بیان کر دے اور چند افراد کو ناگوار گزر جائے تو اسے امامت سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے۔ پھر وہی عالم دین اپنے اہل و عیال کی کفالت کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

میرے پیارے بھائی اگر مناسب لگے تو میرا مشورہ یہ ہے کہ حلال تجارت سنت ہے اور باعثِ عزت بھی۔ اگر مناسب ملازمت میسر نہ ہوں تو معمولی سرمایہ سے عطر ٹوپی مسواک تسبیح اور دینی کتابوں کا چھوٹا سا کاروبار شروع کیجیے۔ مسجد کے سامنے بازار یا کسی مناسب جگہ باوقار انداز میں بیٹھ کر رزق حلال کمائیے۔
اس کے ساتھ اپنے محلے یا مکتب میں بچوں کو نورانی قاعدہ ناظرۂ قرآن اور بنیادی دینی تعلیم بھی پڑھائیے۔ دین کی خدمت صرف بخاری، مسلم، ترمذی، ہدایہ اور مشکٰوۃ پڑھانے کا نام نہیں جو شخص ایک بچے کو صحیح قرآن پڑھا دے وہ بھی دین کا عظیم خادم ہے۔

میرے ایک استاذ محترم حضرت مولانا و مفتی محمد انصار صاحب قاسمی دامت برکاتہم جو جامع مسجد امروہہ میں استاذِ حدیث ہیں، درس و تدریس کے ساتھ مدرسہ کے مرکزی دروازے کے قریب روزانہ عصر کے بعد عطر کی دکان بھی لگاتے ہیں۔ اللہ ربّ العزت نے ان کے رزق میں ایسی برکت عطا فرمائی کہ اس سال انہیں حجِ بیت اللہ کی سعادت بھی نصیب ہوئی اور ماشاء اللہ خوش حال زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ علم اور تجارت ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ دونوں جمع ہو سکتے ہیں پہلے بھی ہمارے بےشمار اکابرین درس و تدریس کے ساتھ تجارت بھی کرتے تھے اور اب بھی کرتے ہیں ۔

حال ہی میں ایک نہایت ہی غمگین واقعہ پیش آیا ہے کہ ایک مولانا جو مسجد کے امام تھے مگر کم تنخواہ کی وجہ سے اپنے گھر کے اخراجات پورے نہ کر سکے۔ مجبوری میں امامت چھوڑ کر ڈیلیوری بوائے کی ملازمت اختیار کی۔ ایک دن آرڈر پہنچانے کیلئے گئے تو کئی منزلہ عمارت میں جب وہ آڈر دینے لگے تو لفٹ کے خالی جگہ پر پیر پھسل گیا جس کی وجہ سے نیچے گر گئے اور موقع ہی پر ان کا انتقال ہوگیا۔
ذرا سوچیے کہ ان کی بیوی بچے اور بوڑھے ماں باپ کی ذمہ داری کون اٹھائے گا سب کو پیچھے چھوڑ گئے کیا ہم نے کبھی اپنے ائمہ اور علماء کے معاشی حالات پر سنجیدگی سے غور کیا ہے؟۔
ہم شادیوں تقریبات کھیل تماشوں اور غیر ضروری نمائش پر لاکھوں روپے خرچ کر دیتے ہیں لیکن مسجد کے امام کی تنخواہ بڑھانے میں بخل کرتے ہیں۔ یاد رکھیں اگر آج علماء کی عزت کفالت اور مناسب معاش کا انتظام نہ کیا گیا تو کل دین سکھانے والے نکاح پڑھانے والے جنازہ پڑھانے والے اور امت کی رہنمائی کرنے والے امت کا باگ ڈور سنبھالنے والے مخلص علماء کم ہوتے جائیں گے۔

اپنے حفاظ علماء اور ائمہ کی قدر کریں انہیں باعزت زندگی گزارنے کے لیے مناسب تنخواہ دیں ان پر بے جا ظلم اور تنگ نظری نہ کریں بلکہ انہیں امت کا سرمایہ سمجھ کر ان کی دل جوئی کریں۔
دعا ہے کہ اللہ رب العزت تمام علماء و حفاظ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے انہیں عزت کے ساتھ حلال اور کشادہ رزق نصیب فرمائے اور پوری امت کو اہلِ علم کی قدر داں بنائے آمین یا رب العالمین۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔