بکھرتے خاندان، ڈگمگاتے رشتے

! مفتی ناصر الدین مظاہری

______________

حضرت مولانا مفتی محمد سلمان منصور پوری مدظلہ نے ایک واقعہ لکھا ہے کہ ایک بس میں کچھ لوگ سفر کررہے تھے راستہ میں بس رکی اور کچھ لوگ سوار ہوگئے، پہلے سے موجود لوگوں میں سے بعض لوگوں نے نو واردوں کو دیکھتے ہی گاڑی رکوائی اور سر راہ اترگئے۔ کنڈیکٹر نے ہرچند منت سماجت کی لیکن وہ لوگ یہی کہتے رہے کہ ہم اپنے دشمنوں کے ساتھ ایک ہی بس میں نہیں بیٹھ سکتے۔
نوواردوں نے بتایا کہ ہمارا ایک دوسرے کے خلاف عدالت میں ایک کیس چل رہا ہے آج دونوں کی پیشی ہے وہیں جارہے ہیں۔

یہ تو ایک منفرد واقعہ ہے، اس قسم کے احمقوں سے دنیا بھری ہوئی ہے، مجھے یاد آیا ہمارے گاؤں میں ایک صاحب نے اپنے لڑکے کی شادی کی، دعوت نامہ تمام متعلقین کو دیا، ایک اہل تعلق نے کہا کہ فلاں کوبلاؤگے تو میں نہیں آؤں گا وہ بے چارہ پریشان کہ کیا کروں، میں نے مسئلہ حل کیا کہ جب وہ مسجد میں آئے گاتوتم نہیں آؤ گے، جب وہ عیدگاہ جائے گا تو تم عیدگاہ سے کھسک جاؤ گے، جب وہ زمین پر چلے پھرے توتم دنیا سے ہی نکل لوگے؟ کہنے لگا نہیں، تو میں نے کہا اپنا جھگڑا دوسروں کے سر تھوپنے سے کیا فائدہ ہوگا وہ اسے بلالے تمہیں چھوڑ دے تو تمہارے دل پر کیا گزرے گی؟ بالکل یہی حال اس شخص کاہے، جھگڑا تم کرو اور رگڑا کوئی اور جائے یہ ممکن نہیں ہے۔

حضرت مولانا اعجاز احمد اعظمی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ دو بھائیوں کے درمیان جائداد کی تقسیم کولے کر جھگڑا ہوگیا، دونوں ایک رکشہ سے کچہری جاتے تھے تاکہ خرچ کم آئے، کبھی کسی کے پاس کھلے پیسے نہیں ہوئے تو دوسرے نے دیدیا اور اگلی پیشی پر پہلے نے ادھار بیباق کردیا۔

اصل میں ہماری قوم عقل سے نہیں سوچتی ہے، سوچیں جو لوگ بس سے اترگئے اگر ان کو سواری نہیں ملی اور وقت پر پیشی میں حاضر نہیں ہوئے تو نقصان کس کا ہوگا؟

ہر چیز کا ایک دائرہ اور حد ہوتی ہے غصہ کا ابھی ایک دائرہ ہے اور اس دائرہ کو کراس کر جانے والے لوگ بزدل اور نکمے ہیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ والتسلیم کا ارشاد ہے : ليس الشديد بالصُّرَعة، إنما الشديد الذي يملك نفسه عند الغضب.(متفق عليه)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: طاقتور وہ نہیں جو پہلوان ہو بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصّہ کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔ 

بہادر شاہ ظفر نے فرمایا تھا:

ظفرؔ آدمی اس کو نہ جانئے گا وہ ہو کیسا ہی صاحب فہم و ذکا
جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا

اور ہم سے یہی نہیں ہوپاتا ہے، دولت آتے ہی عیاشی شروع ہوجاتی ہے اور غصہ آتے ہی اول فول اور پھرجدال وقتال، لڑائی جھگڑے، تھانہ پولیس، کورٹ کچہری، نتیجہ ہرصورت میں کسی نہ کسی کو جیل ہوجاتی ہے۔ اور اس دنیاوی کھیل سے اخروی سزائیں ٹل نہیں سکتی ہیں نہ تخفیف وتقلیل ہوسکتی ہے۔

مجھے یاد آیا حضرت حسن حسین کے باپ شریک بھائی حضرت محمد بن حنفیہ تھے، بڑے مدبر، دوراندیش، صاف گو، حق جو، غیور، جسور، فاتح اور بہادر انسان تھے۔

"حضرت محمد بن حنفیہؒ اور حضرت حسن بن علیؓ کے آپس میں تعلقات خراب ہوگئے۔ حضرت محمد بن حنفیہؒ نے حضرت حسنؓ کو خط لکھا کہ:

’’حق تعالیٰ نے آپ کو کئی اعتبار سے اونچا درجہ نصیب فرمایا ہے۔ کئی اعتبار سے آپ کو مجھ پر برتری عطا کی، وہ اس طرح کہ:

آپ کی والدہ ماجدہ رسول اقدسؐ کی بیٹی (حضرت فاطمہؓ) ہیں اور میری والدہ ماجدہ قبیلہ بنو حنفیہ کی ایک عام عورت ہیں۔

اسی طرح آپ کے نانا خدا کے رسولؐ اور اس کی مخلوق کے سردار ہیں اور میرے نانا جعفر بن قیس ایک عام آدمی ہیں۔
جب میرا یہ خط آپ کے پاس پہنچے تو میرے ساتھ صلح کرنے کے لئے فوراً چلے آئیے، تاکہ اس میں بھی آپ کو ہی فضیلت و برتری حاصل رہے۔‘

جب یہ خط حضرت حسنؓ کے پاس پہنچا تو وہ جلد ان کے پاس آئے اور صلح فرما لی۔

آج یہ سب چیزیں ختم ہوتی جارہی ہیں، بیٹے باپ سے لڑتے ہیں، بھائی بھائی سے جھگڑتاہے،ماں بیٹی سے ٹکراتی ہے، اور شوہر بیوی سے دست وگریباں ہے، خاندان بکھر رہے، ہیں، قبیلہ اورقریہ اجڑ رہے ہیں، حالات آئے دن بگڑ رہے ہیں، شیطان اور اس کے کارندے ہماری گردنیں جکڑ رہے ہیں، مادیت ہمارا خواب، دولت ہمارا مطمح نظر بن چکا ہے۔ ہماری حالت اس قافلہ اور کارواں جیسی بن چکی ہے جو قزاق کے ہاتھوں لٹ چکا ہے پھر بھی شیخی بگھار رہے ہیں، ہم تاریخ کے رحم و کرم پر پلنے والے وہ بندہ اور نمائیندہ ہیں جن کے آگے کھائی اور پیچھے خندق ہے نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top
%d bloggers like this: