کتمانِ حق کا جرم قوموں کو تباہ کردیتا ہے

✍️ عبدالغفار صدیقی

________________

جس طرح ڈاکٹر سے بیماری چھپانے کا انجام موت ہے اوروکیل سے حقیقت چھانے کا نتیجہ شکست ہے۔ اسی طرح اپنے معتقدین و مریدین او ر مخاطبین سے حق چھپانے کا انجام نہ صرف خود کی تباہی ہے بلکہ پوری قوم و ملت کوہلاکت میں ڈالناہے۔بدقسمتی سے بر صغیر بھارت میں دین اسلام کی اصل تعلیمات پر پردہ ڈالنے کا عمل ہماری مقدس ہستیوں کی جانب سے انجام دیا گیا ہے اور دیا جارہا ہے۔اللہ و رسولؐ کے متبعین و محبین بنانے کے بجائے اپنے معتقدین و مریدین بنانے پرماضی میں بھی زور صرف کیا گیاتھا اور اب اس کوشش میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔علماء کی اکثریت اپنی تقریروں کے ذریعہ عوام کو اللہ و رسول کی طرف رجوع کرنے کا حکم دینے کے بجائے اپنی طرف یا اپنے کسی شیخ کی طرف رجوع کرنے کی نصیحت کرتے نظر آتے ہیں۔گزشتہ دنوں فیس بک پر ایک ویڈیو دیکھنے کا شرف حاصل ہوا۔جو ہمارے ملک کے ایک جید عالم دین کے بیان پر مشتمل ہے،حضرت خاندانی دیندار ہیں،اور اپنے نام کے ساتھ ”مدنی“ کا لاحقہ لگاتے ہیں۔حضرت فرماتے ہیں:         
میں یہ بات کہتا ہوں بڑی پختگی کے ساتھ کہ جو آدمی جو طالب علم علمائے دیوبند کے مسلک کو آنکھ بند کر کے اپنے سینے سے لگاتا ہے میں اس کو علم حدیث کی اجازت دیتا ہوں اور جو اس مسلک سے ذرا بھی ہٹتا ہے اور اپنے آپ کو مجتہد وقت سمجھتا ہے میں اس کو علم حدیث کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ بہت واضح چیز ہے۔آپ حضرات حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے دامن کو پکڑئے۔ان کے نقش قدم پر چلئے۔آنکھ بند کر کے یہ یقین کیجئے کہ ان حضرات نے جو فرمایا وہی صحابہ اور تابعین کا مسلک تھا، متقدمین کا مسلک تھا،ہم اسے اپنی آنکھ سے لگاتے ہیں ہمارے پاس اگر کوئی دلیل نہیں ہے تو ہم تلاش کریں گے اور یقینا دلیل وہی پائیں گے جو ان کا مسلک ہے۔ اس لیے اپنے آپ کو ان کے مسلک کا پابند کیجئے اور اس پابندی کے ساتھ اللہ تعالیٰ آپ کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے گا۔ہم مجتہد وقت نہیں ہیں۔ہم تو مقلدوں کے مقلد ہیں۔ ہمارے پاس علم اتنا نہیں ہے۔ وہ لوگ علم حدیث کے بہت جاننے والے تھے۔ قرآن کے جاننے والے تھے۔ فقہ کے جاننے والے تھے۔ وہ جو بات کہتے تھے دلیل کی بنیاد پر کہتے تھے اور ان کا مسلک محفوظ مسلک ہے۔ جو آدمی اس کو مانتے ہیں علی الراس والعینین(وہ ہمارے سر آنکھوں پر ہیں) ان کو علم حدیث کی اجازت دی جائے۔“درج ذیل لنک پر آپ ویڈیو ملاحظہ کرسکتے ہیں۔
ذرا سوچیے جو بات حضرت فرمارہے ہیں کیا یہی اسلام کی تعلیم ہے؟خطاب کے موضوع سے اندازہ ہورہا ہے کہ موصوف دورہ حدیث کے فارغین سے مخاطب ہیں۔جب حضرت گنگوہی ؒ کے نقش قدم پر ہی چلنا تھا تو ان بے چاروں کو کتب حدیث کی ورق گردانی کی زحمت کیوں دی گئی؟جب ان کو حدیث کی کتابوں کا ورد کرایاگیا ہے تو حدیث بیان کرنے پر پابندی کیوں لگارہے ہیں؟سوال یہ بھی ہے کہ کسی کو حدیث بیان کرنے کی اجازت کیا آپ سے لینا ضروری ہے،کیا علم حدیث کا آپ کی کمپنی نے پیٹینٹ(Patent) کرالیا ہے؟سوال یہ بھی ہے کہ آنکھ بند کرکے حضرت گنگوہی پر کیوں یقین کرلیا جائے؟کیا موصوف نبی ہیں یا نبیوں کی طرح معصوم ہیں،کیا اللہ نے حضرت گنگوہی وغیرہ کے لیے قرآن مجید میں کوئی دلیل نازل فرمائی ہے؟پھر حضرت گنگوہی نے جس سرچشمہ علم سے فیض حاصل کیا دوسرے طالبان حق اس سرچشمہ سے فیض کیوں نہیں حاصل کرسکتے؟آپ عوام کو براہ راست قرآن و حدیث کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیوں ڈر رہے ہیں؟کیا آپ کو اس بات کا خطرہ ہے کہ عوام حقیقی دین سے واقف ہوجائے گی تو آپ کی دست بوسی چھوڑ دے گی۔کیا آپ کا یہ طرز عمل کتمان حق میں شمار نہیں ہوتا اور کیا آپ بھی علمائے یہود کے نقش قدم کی پیروی نہیں کررہے ہیں؟
اللہ اہل ایمان کو واعتصموا بحبل اللہ(اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو۔آل عمران۔103)،ادخلو ا فی السلم کافۃ(اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ۔البقرہ۔108)کا حکم دے اور آپ فرمائیں کہ علمائے دیوبند کے مسلک کو مضبوطی سے تھام لیں۔اللہ تعالیٰ کامل ایمان والوں کی یہ صفت بیان کرتا ہے:۔وَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْہَا صُمًّا وَّ عُمْیَانًا(الفرقان۔73)”اور وہ لوگ(اہل ایمان) کہ جب انہیں ان کے رب کی آیتوں کے ساتھ نصیحت کی جاتی ہے تو ان پر بہرے اور اندھے ہوکر نہیں گرتے۔“اور آپ حضرت گنگوہی ؒ پر آنکھ بند کرکے یقین کرنے کی بات ارشاد فرمارہے ہیں۔قرآن تو اپنے قاری سے کہے کہ ”اللہ کے رسول کی زندگی تمہارے لیے نمونہ ہے“(احزاب۔21) اور آپ اکابرین دیوبند کو نمونہ بناکر پیش کریں یعنی آباء پرستی کی تعلیم دیں اور اپنے اکابرین کے عمل کو دلیل بنائیں۔اہل مکہ بھی اپنے ہر عمل کی دلیل یہی دیتے تھے ”ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقہ پر پایا اور ہم ان کے نقشِ قدم پر ہی راہ پانے والے ہیں۔(زخرف۔22)۔کیا آپ کی یہ روش علماء اور پیشواؤں کو رب بنانے کے مثل نہیں ہے جیسا کہ عیسائیوں اور یہودیوں کے بارے میں قرآن میں ارشاد فرمایا گیا ہے(سورہ توبہ۔21)۔ جس کی وضاحت میں رسول ؐ نے فرمایا کہ وہ اپنے علماء کو پوجتے نہیں تھے، بلکہ جب وہ ان کے لئے کسی چیز کو حلال قرار دیتے تو یہ حلال سمجھتے اور جب وہ حرام قرار دیتے تو یہ حرام سمجھتے تھے۔ (ترمذی)۔اگر آپ اولوالامر منکم کی اطاعت سے یہ استدال کرتے ہیں کہ اس میں علماء و رہنمایان قوم کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے تو آپ یہ بھی جانتے ہوں گے کہ رسول کے سواکسی مخلوق کی اطاعت خالق کی نافرمانی میں نہیں کی جائے گی۔یعنی مخلوق کے عمل کو خالق کے احکامات کی میزان پر تولا اور پرکھا جائے گا۔
آپ فرماتے ہیں کہ ہم مجتہد وقت نہیں ہیں،ہم مقلدوں کے مقلد ہیں،اس کا مطلب ہے کہ آپ نے اجتہاد کا دروازہ مقفل کردیا ہے۔اب قرآن و حدیث پر غوروتدبر کی ضرورت نہیں ہے،جب کہ قرآن میں ایک دو نہیں سینکڑوں مقام پر آفاق و انفس میں،اللہ کی آیات میں،خود قرآن مجید میں غور و تدبر کا حکم دیا گیا ہے۔آپ کے اس تالے نے مسلمانوں کی عقل پر تالا ڈال دیا ہے،جس کا نتیجہ یہ ہے کہ گزشتہ چار صدیوں سے مسلمانوں نے سائنس کے میدان میں کوئی قابل ذکر کارنامہ انجام نہیں دیا حالانکہ جب تک اجتہاد کا مین گیٹ کھلا ہوا تھا،مسلمان علم کے سمندر میں غوطے لگاکر قیمتی موتی حاصل کررہے تھے۔
آپ نے اللہ کے دین پراکابر پرستی کی ایک دبیز چادر ڈال دی ہے،آپ نے مسلمانوں کی آنکھوں پر اپنی اندھی عقیدت کا کالاچشمہ لگادیا ہے،آپ نے خدا کی کتاب کو سمجھ کر پڑھنے کے لیے چودہ علوم کی شرط لگاکر قدغن لگادیے،یہاں تک کہ آپ کسی پڑھے لکھے انسان کو اپنے ہی بزرگوں کے ذریعہ کیے گئے ترجمہ قرآن اور تفسیر پڑھنے کوبھی ناپسند فرماتے ہیں۔اگر یہ عوام کے لیے نہیں ہیں تو آپ کے اکابرین ترجمہ و تفسیر کی زحمت ہی کیوں اٹھائی تھی،آپ نے ملک کی بیشتر مساجد میں ایک ایسی کتاب کو جگہ دے دی ہے جس میں نہ معاشرت پر کوئی حدیث ہے نہ معیشت پر،نہ علم و تعلیم پر کوئی باب ہے،نہ کسی کے حقوق و فرائض پر کوئی بیان ہے۔آخر جب آپ اللہ کی کتاب کو سمجھنے نہیں دیں گے،حدیث کی اجازت  عطانہیں فرمائیں گے،تو قوم کو دین کی صحیح تعلیم کس طرح پہنچے گی اور وہ کیسے عمل کرے گی؟
آپ نے طلاق کے معاملہ میں قوم کو نہیں بتایا کہ بیک وقت تین طلاق کوطلا ق مغلظہ ماننے کا موقف حضرت عمر ؓ کی حکومت کا وقتی فیصلہ تھا،قرآن و حدیث کے مطابق وہ ایک ہی طلاق ہے،آپ نے عصری علوم کی مخالفت کی لیکن یہ نہیں بتایا کہ اللہ کے رسولؐ نے بدر کے کافر قیدیوں سے مسلمانوں کو کونسی تعلیم دلوائی تھی جس کے عوض انھیں پروانہ رہائی مل گیا تھا، آپ خود راجیہ سبھا میں بیٹھ کر اقتدار کے عیش لیتے رہے اور قوم کو بتاتے رہے کہ سیاست کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔آپ حکومت کے ذریعہ مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کی مخالفت کرتے ہیں لیکن کبھی وراثت کی درست تقسیم اور اس میں خواتین کے حصے پر لب کشائی نہیں فرماتے،جس پر قرآن نے تفصیلی احکامات عطا فرمائے ہیں۔آپ نے مسلم امت کو اشراف اور اراذل میں تقسیم کردیا،جبکہ نبی اکرم ؐ نے فرمایا تھا:”کسی گورے کو کالے پر اور کسی عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت نہیں“۔اسلام نے قوم و طن اور رنگ و نسل کے جن بتوں کو پاش پاش کیا تھا آپ نے انھیں شیخ سید مغل پٹھان کی شکل میں دوبارہ تراش لیا۔آپ نے قوم سے چھپایا کہ اللہ کے نبی ﷺ نے مروجہ تراویح کی کوئی نماز نہیں پڑھی۔آپ نے ہر اس آواز کو دبادیا جس سے آپ کے مفادات پر ضرب پہنچ رہی تھی۔آپ کی اکابر پرستی نے عوام میں فرقہ بندی کو ہوا دی،لاکھوں مسلم لڑکیوں کو ارتداد پر مجبور کردیا،مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کا دروازہ کھول دیااور آپ کی انا نے ملک تقسیم کردیا،تعلیمی ادراوں کے حصے بخرے کردیے،اپنے اکابرین کی قائم کردہ جمعیۃ کو ہوس اقتدارکی خاطر بھائی بھتیجوں میں بانٹ دیا اور اب مدارس کا وجود داؤں پر ہے۔
خدا کے واسطے مسلمانوں پر رحم کیجیے۔انھیں اپنی غلامی سے آزاد کردیجیے،ان کے گلے میں اللہ کی بندگی،رسول ؐکی اطاعت اور صحابہؓ کی عقیدت کا طوق ہی کافی ہے۔انھیں اللہ کے صحیح دین سے واقف کرادیجیے،انھیں اللہ کی کتاب پڑھنے دیجیے،انھیں بھی احادیث و سیرت کو جان لینے دیجیے۔آخر ایک مسلمان جب اپنے کاروبار کی باریکیاں سمجھ سکتا ہے،جب سیاست کی گتھیاں سلجھا سکتا ہے تو اللہ کے دین کی واضح تعلیمات کو کیوں نہیں سمجھ سکتا۔مسلمان اللہ، حضرت محمدؐ اور قرآن پر ایمان لائے ہیں،نہ کہ حضرت گنگوہیؒ اور مسلک دیوبندپر۔جن اکابرین کی طرف آپ دعوت دے رہے ہیں قرآن و حدیث میں ان کا ذکر تک نہیں،جس مسلک دیوبند پر چلنے کی گزارش کررہے ہیں،حضور ؐ کی زبان پر اس کا نام تک نہیں آیا۔میں بزرگوں کی توہین نہیں کررہا ہوں اور نہ ان کی خدمات جلیلہ کا منکر ہوں بلکہ میں ان تمام شخصیات کو سلام کرتا ہوں جنھوں اللہ کے دین کو سمجھنے اور سمجھانے میں ذرہ برابر بھی محنت کی ہے لیکن میں انھیں اللہ و رسول کا درجہ نہیں دے سکتا،میرے نزدیک دنیا کی تمام کتابیں قرآن مجید کے بعد ہیں۔
ابھی ابھی وقت ہے کہ عوام کو کسی مسلک اورکسی شیخ کی جانب دعوت دینے کے بجائے،اللہ و رسول کی طرف بلایا جائے۔قوم کو بھی اس چشمہ صافی سے فیضیاب ہونے دیاجائے جس سے حضرات صحابہ کرام،بزرگان دین نے فیض اٹھایا ہے۔اگر علماء کرام کتمان حق سے باز نہ آئے تو اللہ کے یہاں دوہرے عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔دنیا میں بھی رسوائی ان کے دروازے پر کھڑی ہے۔باطل نے انتقام لینے کی جو قواعد شروع کی ہے وہ بہت جلد ختم ہونے والی نہیں ہے۔آپ نے قوم کو بھلے ہی انجان رکھا ہو،مگر اب سوشل میڈیا کا زمانہ ہے ہر بات ہر شخص تک پہنچ رہی ہے،اب آپ کے فتووں کی اہمیت ختم ہوتی جارہی ہے۔اگر آپ نے اپنی روش نہ بدلی تو ایک دن وہ آئے گا جب قوم بیدار ہوجائے گی اور آپ کو تلاش کررہی ہوگی۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top
%d bloggers like this: