دوستانہ

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی،نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ 

 ہماری زندگی میں رشتوں کی بڑی اہمیت ہے، کچھ رشتے خونی ہوتے ہیں، پھر ان کی شاخین پھیلتی جا تی ہیں، یہ رشتے قدرتی طور پر بنتے ہیں، ہمارے اختیار میں یہ بات نہیں ہوتی کہ ہم ان کو چنیں، وہ خود بخود قدرت کی طرف سے منتخب ہوا کرتے ہیں، ان میں مزاجی ہم آہنگی نہ ہو تو بھی انہیں ایڈجسٹ کرکے چلنا پڑتا ہے، ورنہ خاندان اور رشتے ٹوٹ جاتے ہیں اورایک ایسی دشمنی کا آغاز ہوتا ہے جو خاندان کے افراد کو برباد کر کے رکھ دیتا ہے۔

 سماجی زندگی گذارنے کے لیے ہمارے پاس ایک اور رشتہ مختلف لوگوں سے ہماری پسند کے مطابق بنتا ہے، اسے ہم دوستانہ اور یارانہ سے تعبیر کرتے ہیں، یہ دوستانہ بنتا کیسے ہے، اس میں مضبوطی کس طرح آتی ہے اور یہ ٹوٹ کس طرح جاتا ہے؟ا ن امور پر لوگوں کی رائے جاننے کے لیے ریسرچ فرم فیشرمینس، فرینڈ نے دو ہزار لوگوں سے رابطہ کیا، آکسفورڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر رابن ڈنبرنے اس کا تجزیہ کیا تو حیرت انگیز نتائج سامنے آئے،ا ن کے تجزیہ کے مطابق اگر آپ کو جگری دوست بنانا ہے توتین تین گھنٹے کی گیارہ ملاقاتیں ضروری ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ کم وبیش چونتیس گھنٹے مختلف روز وشب میں آپ کو اس شخص کے ساتھ گذارنے ضروری ہوں گے، دوستوں کی لمبی قطار میں زیادہ سے زیادہ پانچ دوست ہی قلبی دوست آپ کے ہو سکتے ہیں، ایسی دوستی کی عمر انتیس سال ہو سکتی ہے، اگر آپ اپنے دوست کو مناسب وقت نہیں دے پاتے ہیں تو دوریاں بڑھ سکتی ہیں اور دوستی کا خاتمہ بھی ہو سکتا ہے۔

دوستی کے حوالہ سے کچھ اور سوالات بھی ذہن میں گردش کرتے رہتے ہیں، اور وہ یہ کہ دوستی کے لیے سب سے زیادہ ضروری کیا چیز ہے؟ سب اچھے دوست کہاں بنتے ہیں، دوستی اور یاری ٹوٹنے کی کیا وجہ ہوا کرتی ہے؟۔

ان سوالوں کا جواب بھی آکسفورڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر رابن نے تلاش لیا ہے۔ ان کے مطابق اکسٹھ (61)فی صد لوگوں کا ماننا ہے کہ اچھے دوست کی سب سے بڑی خصوصیت اس کے اندر انسانیت نوازی کا جوہرہونا ہے، جب کہ چوالیس (44)فیصد لوگوں کے نزدیک ذہنی ہم آہنگی ہونی ضروری ہے، یہ ہم آہنگی مذہبی اور سیاسی نظریات میں ہونی چاہیے، اچھے دوست وہی ہیں جو مشکل وقت میں کام آئیں، جو ایسے وقت میں دور ہوجائیں وہ دوست بنائے رکھنے کے قابل نہیں ہیں، دوستی کے لیے بھروسہ مند ہونا بھی انتہائی ضروری ہے، دوست بنانے کے لیے سب سے اچھی جگہ وہ ہے جہاں انسان کام سے لگا ہوتا ہے، اس لیے کہ وہاں زیادہ وقت گذرتا ہے اور ایک دوسرے کے تعاون کی ضرورت بھی ہوتی ہے، جس سے ہمدردی پیدا ہوتی ہے اور دل مدد کرنے والے کی طرف مائل ہوتا ہے۔

یہ کوئی نئی تحقیق نہیں ہے، ہمارے یہاں تو بہت پہلے سے کہا جاتا رہا ہے کہ”دوست آن باشد کہ گیردد ست دوست در پریشاں حالی ودر ماندگی“، اسلام میں اچھے دوست کے بارے میں کہا گیا کہ جو مخلص، ہمدرد اور اسلام کی طرف راغب کرنے والا ہو، تو اگر آپ بھی کسی سے دوستی کرنا چاہتے ہیں تو صرف اللہ کے لیے کیجئے محبت بھی اللہ کے لیے اور بغض بھی اللہ کے لیے، محبت کا یہ انداز اب عنقا ہوتا جا رہا  ہے، لیکن یہی اسلام کو مطلوب ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top
%d bloggers like this: