مسجد اقصی کی حفاظت اور ہماری ذمہ داری

 افادات: مفتی ابو القاسم نعمانی دامت برکاتہم مہتمم و شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند

جمع وترتیب:   عبدالرشید طلحہ نعمانی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمداللہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین سیدنا ومولانا محمد وآلہ واصحابہ اجمعین. اما بعد۔

بزرگو اور بھائیو !

فلسطین، مسجد اقصی اور سر زمین قدس کے ساتھ مسلمانوں کا جو ایمانی وجذباتی تعلق ہے وہ ایسا نہیں ہے کہ اس کو فراموش کردیا جائے۔ مسجد اقصی کے سلسلہ میں قرآن پاک میں اللہ تعالی نے مستقل آیتیں نازل فرمائی ہیں :

اعوذباللہ من الشیطان الرجیم،بسم اللہ الرحمٰن الرحیم’’ سُبْحَانَ الَّـذِىٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَى الذی بَارَكْنَا حَوْلَـهٝ لِنُرِيَهٝ مِنْ اٰيَاتِنَا ۚ اِنَّهٝ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْر‘‘ (الاسراء:1)

ترجمہ:پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے،تا کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں یقیناً اللہ تعالٰی ہی خوب سننے دیکھنے والا ہے ۔

اس آیت میں مسجد اقصی کا ذکرہے نیزمسجد اقصی کے ماحول اور اردگرد کی زمین کےمبارک ہونے کا تذکرہ ہے ۔ آیت کا اصل مقصد تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے سفر اسراء اور سفر معراج کو بیان فرمانا ہے؛ لیکن اسی کے ضمن میں اگلی آیات کے اندر یہودیوں اور بنی اسرائیل کے عروج و زوال کی داستانیں بھی بیان کی گئیں ہیں۔

فلسطین ایک تاریخی مطالعہ:

تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ مسجد اقصی کے ساتھ کئی اہم واقعات مربوط ہیں۔ یہ نبی کریم ﷺ کے سفر معراج کی پہلی منزل ہے،معراج کے موقع پر مکہ مکرمہ سے آپ مسجد اقصی تشریف لے گئے پھر وہاں سے آپ کو آسمانوں کی سیر کرائی گئی، واپسی میں بھی آپ مسجد اقصی تشریف لائے پھر وہاں سے مکہ مکرمہ واپس ہوئے۔ مکہ سے مسجد اقصی تک کے سفر کو اسراء اور مسجد اقصی سے آسمانوں تک کے سفر کو معراج کہا جاتاہے ۔اسی سفر میں مسلمانوں کو پانچ وقت کی نماز کا تحفہ ملا ،اسی سفر سے واپسی پر نبی کریمﷺ نے مسجد اقصی کے پاس تمام انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی امامت فرمائی۔مسجد اقصی سے تعلق کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ مسلمانوں کا قبلۂ اول رہا، ہجرت مدینہ طیبہ کے بعد سولہ یا سترہ مہینے تک رسول اللہﷺ نے مسجد اقصی کی طرف رخ کر کے نماز ادا فرمائی،پھر تحویل قبلہ کا حکم آنے کے بعد خانۂ کعبہ کی طرف آپ نے رخ فرمایا جس کا تذکرہ دوسرے پارے کی ابتدائی آیات میں موجود ہے:

سَيَقُوْلُ السُّفَهَآءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلَّاهُـمْ عَنْ قِبْلَتِهِـمُ الَّتِىْ كَانُـوْا عَلَيْـهَا ۚ قُلْ لِّلّـٰهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ۚ يَـهْدِىْ مَنْ يَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِـيْمٍ (البقرۃ:142)

ترجمہ:بے وقوف لوگ کہیں گے کہ کس چیز نے مسلمانوں کو ان کے قبلہ سے پھیر دیا جس پر وہ تھے، کہہ دو مشرق اور مغرب اللہ ہی کا ہے، وہ جسے چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔

اس میں” القبلۃ التی کانو علیہا "سے مراد مسجد اقصی ہے۔

مسجد اقصی اور سر زمین فلسطین متعدد انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی قیام گاہ اور ان کا مدفن رہ چکی ہے، وہاں کی مسجد حضرت سلیمان اور حضرت داؤد علیہما السلام کے ذریعہ تعمیر کی گئی ہے، پہلی تعمیرتو فرشتوں کے ذریعہ ہوئی،جب کہ دوسری تعمیر حضرت سلیمان اور حضرت داؤد علیہما السلام کے ذریعہ ہوئی ہے اس لئے مسلمانوں کا جو تعلق سرزمین فلسطین سے،وہاں کے باشندوں سے اور مسجد اقصی سے ہے وہ انتہائی جذباتی قسم کا ،گہرا قلبی تعلق ہے آج یورپ کی سازش کی بناء پر عین قلب عرب کے اندر جو اسرائیل کی شکل میں خنجر گھونپا گیا ہے اس کی ٹیس اس وقت سےلےکر آج تک پورا عالم اسلام محسوس کررہاہے ۔چونکہ یہ ایک سازشی عمل تھا اس لیے مسلسل ہر مغربی ملک کی جانب سے اس کی پشت پناہی کی جارہی ہے،اور نام نہاد ملک اسرائیل اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے ساتھ نہ صرف یہ کہ اپنے قدم آگے بڑھا رہاہے؛ بلکہ فلسطین کے جو اصل باشندے ہیں ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑرہاہے۔

اہل فلسطین کی جرأت و عزیمت کو سلام:

ابھی رمضان المبارک کے اندر جو تازہ حادثات پیش آئے ہیں کہ عین نماز کے وقت مسجد اقصی کے مصلیوں پر ظلم ڈھایا گیا، انہیں مارا پیٹا گیا اور اس کے بعد ان کی طرف سے جو معمولی سی مزاحمت ہوئی اس کو بہانہ بنا کر غزہ کے علاقے میں بمباری کی گئی جس میں ہزاروں فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے، بچے اور عورتیں تک ماری گئیں؛ لیکن شاباشی کے قابل ہیں وہ نہتے مجاہدین جنھوں نے اپنی بے سرو سامانی کے باوجود مزاحمت کی یہاں تک کہ اسرائیل جیسے نومولود،متکبر اور سرکش ملک کو گھٹنے ٹیکنا پڑا اور وہ جنگ بندی کے لیے مجبور ہوا۔

ہم کیا کریں؟:

بہر حال اس وقت ہمارے کرنے کے کئی کام ہیں۔ پہلا کام تو یہ ہے کہ پوری دنیا کے مسلمان فلسطین کے نہتے مسلمانوں کے ساتھ اپنی ہم آہنگی اور تعاون کا اظہار کریں؛ تاکہ انہیں یہ محسوس ہو کہ اس مسئلہ میں ہم اکیلے نہیں ہے ؛بل کہ پورا عالم اسلام ہمارے ساتھ ہے۔

آج کی دنیا رائے عامہ کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کی عادی ہے؛ اس لیے تمام دنیا کے مسلمان اور خاص طور سے بر صغیر اور خصوصاً ہندوستان کے مسلمان فلسطین اور اہل فلسطین کی حمایت میں اپنی آواز کو بلند کریں اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش کریں۔ وہ مغربی ممالک وہ UNO وہ سلامتی کونسل جو اپنے من مانے مقاصد کے لیے خود ساختہ مسائل کے لیے امن وآشتی کا ڈھنڈھورا پیٹتے ہیں، جہاں چاہتے ہیں، وہاں کے لوگوں پر اپنے فیصلے مسلط کردیتے ہیں،ان کی نگاہوں کے سامنے فلسطینی مسلمانوں اور وہاں کے باشندوں پرظلم ہورہا ہے؛ لیکن ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ؛اس لیے ضروری ہے کہ فلسطین اور باشندگان فلسطین کے حق میں اس زور و شور کے ساتھ آواز بلند کی جائےکہ سلامتی کونسل فلسطین کے مسئلے میں حق و انصاف کا فیصلہ کرنے پر مجبور ہو، فلسطینیوں کو ان کا حق دلایا جائے، ان کی جو زمینیں چھین لی گئی ہیں، وہ انہیں واپس کی جائیں نیز اسرائیل اور اس کے آقاؤں کی طرف سے جو اقدامات ہورہے ہیں ان پر بندش قائم کی جائے ۔

اسی کے ساتھ ساتھ ہم سب کے سب مل کر بارگاہ الہی میں دعا بھی کریں کہ اللہ تعالی قدس کے باشندوں کی حفاظت فرمائے، انہیں ان کا چھینا ہوا وقار واپس دلائے، مسجد اقصی کو یہودیوں کے نرغے سے نکلنے کے اسباب پیدا فرمائے۔آمین

قابل توجہ پہلو:

اس موقع پر ایک بات خاص طور سے توجہ کے قابل ہے کہ بیت المقدس کے علاقے میں ایک تو قبۂ صخرہ ہے اور ایک مسجد اقصی ہے۔ عام طور سے مسجد اقصی کے نام پر جو تصویر دکھلائی جاتی ہے جس کا سنہرا گنبد ہے، وہ حقیقت میں مسجد اقصی نہیں ہے؛ بلکہ وہ قبۂ صخرہ ہے مسجد اقصی اس سے الگ عمارت ہے اور اسرائیل اور صیہونی خاص طور سے مسلسل کوشش کررہے ہیں کہ مسجد اقصی کے ارد گرد کھدائی کرکے،اس عمارت کو کمزور کردیں تاکہ وہ عمارت منہدم ہو جاے یہ ایک سازش ہے کہ دنیا کے سامنے مسجد اقصی کا اصلی نقشہ پیش کرنے کے بجاے قبۂ صخرہ کو مسجد اقصی کے نام پر دکھلایاجاتاہے تاکہ خدانخواستہ خدانخواستہ اگر کسی وقت یہ اسرائیلی اور صیہونی اپنی ناپاک مقصد کے اندر کامیاب ہوجائیں اور مسجد اقصی کو نقصان پہونچا بیٹھیں تو اس وقت دنیا کے واویلا کرنے پر یہ قبۂ صخرہ کو سامنے لاکر دکھلا دیں کہ نہیں مسجد اقصی محفوظ ہے؛ اس لیے ان دونوں کے فرق کو جاننا چاہیے اور مسجد اقصی کی تاریخ سے لوگوں کو واقفیت کرانی چاہیے۔

مشکل یہ ہے کہ ہم اپنی تاریخ سے بھی واقف نہیں ہیں؛اس لئے یہ بھی ایک ضرورت ہے کہ عالم اسلام کی عمومی تاریخ سے اور خاص طور سے وہ مقامات وہ علاقے کہ جن سے اہم واقعات متعلق ہیں پوری ملت کو اور خاص طور سے آنے والی نئی نسلوں کو واقف کرایا جائے۔

ائے اللہ!    اپنے فضل و کرم سے اس پروگرام کو قبول فرما، فلسطین کے مسلمانوں کی حفاظت فرما، مسجد اقصی کی حفاظت فرما، ظالموں کو ان کے ظلم سے روک دے،انہیں کیفر کردار تک پہنچا ،مظلوموں کی حمایت فرما، پورے عالم اسلام کے مسلمانوں کے ضمیروں کو بیدار فرمااور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کی انہیں توفیق عطا فرما ۔آمین

وصلی اللہ تعالی علی خیر خلقہ وآلہ وصحبہ اجمعین۔ آمین برحمتک یاارحم الراحمین۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top
%d bloggers like this: