از:- سید شعیب حسینی ندوی
عام طور پر مسلمانوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ زمانے کے حالات کو احادیث فتن کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جائے۔ چنانچہ جب بھی دنیا میں کوئی بڑا واقعہ پیش آتا ہے، جنگیں ہوتی ہیں، سیاسی انتشار پیدا ہوتا ہے یا مسلمانوں پر مصائب آتے ہیں تو فوراً ان واقعات کو دجال، قربِ قیامت کی علامات، امام مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ظہور سے جوڑ کر دیکھا جانے لگتا ہے۔ گویا موجودہ دنیا کے حالات کو آخری دور کے تناظر میں سمجھنا ایک عمومی ذہنی رجحان بن چکا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ احادیثِ فتن ایک اہم علمی ذخیرہ اور ہماری دینی تراث کا قیمتی حصہ ہے۔ ان احادیث میں امت کو آنے والے فتنوں سے آگاہ کیا گیا ہے، ان سے بچنے کی تدابیر بتائی گئی ہیں اور ایمان و دین کی حفاظت کے طریقے سکھائے گئے ہیں۔ اس اعتبار سے یہ احادیث امت کی رہنمائی کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔
لیکن ان احادیث کو سمجھنے میں ایک غلط رجحان پیدا ہو گیا ہے، جس کا منفی اثر مسلمانوں کی فکر اور عمل دونوں پر پڑ رہا ہے۔ یہ منفی اثر یہ ہے کہ بہت سے مسلمان ہر واقعہ کو مایوسی کے نقطۂ نظر سے دیکھنے لگے ہیں اور یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ اب اصلاح یا کامیابی کا کوئی عام راستہ نہیں، بلکہ غیر معمولی طریقے سے، یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدی کے ذریعے ہی حالات بدلیں گے، اس لیے ہمیں عملی جدوجہد کی ضرورت نہیں، بس انتظار کرنا ہے۔
یہ سوچ درحقیقت اسلامی تعلیمات کے مجموعی مزاج کے خلاف ہے۔
اگر ہم صرف احادیثِ فتن کو سامنے رکھ کر سوچیں گے تو مایوسی پیدا ہوگی، لیکن اگر ہم پورے ذخیرۂ حدیث اور قرآن کے عمومی پیغام کو دیکھیں تو ہمیں ایک بالکل مختلف تصویر نظر آتی ہے۔ اسلام کا اصل پیغام انتظار، بے عملی اور حالات کے سامنے ہتھیار ڈال دینا نہیں، بلکہ عمل، اصلاح، جدوجہد اور ذمہ داری ہے۔
قرآن مجید بار بار انسان کو عمل کی دعوت دیتا ہے، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا حکم دیتا ہے، ظلم کے مقابلے میں کھڑے ہونے کی تعلیم دیتا ہے، اور حالات کو بدلنے کی کوشش کرنے والوں کی تعریف کرتا ہے۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ کی سیرت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حالات کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں، مسلمان کو جدوجہد چھوڑ کر بیٹھ نہیں جانا چاہیے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ آج بعض تجزیہ نگار، خصوصاً مذہبی حلقوں میں، دنیا کے سیاسی اور سماجی حالات کو صرف آخری زمانے کے فتنوں کے زاویے سے دیکھتے ہیں اور اس انداز میں تجزیہ کرتے ہیں کہ گویا اب سب کچھ خدائی فیصلوں سے اچانک بدل جائے گا، ہماری اور آپ کی کوئی ذمہ داری نہیں، ہم کچھ نہیں کر سکتے، ہم صرف تماشائی ہیں۔
یہ طرزِ فکر نہ صرف غیر متوازن ہے بلکہ امت کو بے عملی، مایوسی اور ذمہ داری سے فرار کی طرف لے جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جب بھی کسی واقعہ یا حالات کا تجزیہ کیا جائے تو صرف ایک زاویے سے نہیں بلکہ اسباب و عوامل، پس منظر، سیاسی و سماجی حالات، نتائج اور اثرات — ان سب پہلوؤں کا مطالعہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ یہی علمی اور درست طریقۂ تجزیہ ہے۔
اگر ہم صرف یہ کہہ دیں کہ یہ سب آخری زمانے کی علامات ہیں اور اب کچھ نہیں ہو سکتا، تو یہ دراصل تجزیہ نہیں بلکہ حالات سے فرار ہے۔
اسلام ہمیں یہ نہیں سکھاتا کہ ہم حالات کو صرف تقدیر پر چھوڑ دیں، بلکہ اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ انسان اپنی ذمہ داری ادا کرے، اصلاح کی کوشش کرے، حق کا ساتھ دے، ظلم کے خلاف آواز اٹھائے اور اپنے دائرے میں تبدیلی لانے کی جدوجہد کرے۔
کیونکہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہم سے یہ نہیں پوچھے گا کہ دنیا کے حالات کیسے تھے، بلکہ یہ پوچھے گا کہ تم نے اپنے حالات میں کیا کیا، اپنی ذمہ داری کس حد تک ادا کی۔
لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم احادیثِ فتن کو ضرور پڑھیں، سمجھیں اور ان سے عبرت حاصل کریں، لیکن ان کو اس انداز میں نہ سمجھیں کہ ہماری عملی ذمہ داری ختم ہو جائے۔
بلکہ ہمیں متوازن سوچ اختیار کرنی چاہیے وہ یہ کہ فتنوں کی احادیث ہمیں حالات کی سنگینی کا شعور دیتی ہیں، جبکہ قرآن و سنت کا عمومی پیغام ہمیں عمل، اصلاح اور جدوجہد کا راستہ دکھاتا ہے۔
مسلمان کا صحیح رویہ یہ ہے کہ وہ نہ تو مایوس ہو اور نہ ہی حالات سے بے پرواہ رہے، بلکہ وہ حالات کا صحیح تجزیہ کرے، اسباب کو سمجھے، حکمت کے ساتھ عمل کرے اور اللہ پر توکل رکھتے ہوئے اپنی ذمہ داری ادا کرتا رہے۔
کیونکہ تاریخ ہمیشہ ان لوگوں سے بدلتی ہے جو حالات کا رونا نہیں روتے بلکہ حالات بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔