تحریر: محمد فداء المصطفٰی قادری
پی جی اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی
زبان محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتی؛ یہ انسان کے باطن میں اترے ہوئے احساسات، اس کے تجربات، اس کی تہذیبی یادداشت اور اس کے اجتماعی شعور کی آواز ہوتی ہے۔ اردو اسی اجتماعی شعور کی وہ نرم مگر گہری آواز ہے جو صدیوں کے فکری سفر، تہذیبی میل جول اور انسانی درد سے گزر کر وجود میں آئی۔ اردو ادب نے انسان کو اپنے اندر جھانکنے کا سلیقہ سکھایا، جبکہ اردو صحافت نے اسی اندرونی شعور کو سماج کی کھلی فضا میں بولنے کا حوصلہ عطا کیا۔ جب ادب اور صحافت اپنے اپنے دائرے میں ذمہ داری نبھاتے ہیں تو زبان محض اظہار کا وسیلہ نہیں رہتی بلکہ قوم کی سمت متعین کرنے والا چراغ بن جاتی ہے۔ ایسے ہی نازک اور فیصلہ کن موڑ پر غلام سرور جیسی شخصیت سامنے آتی ہے، جو قلم کو ہنر نہیں بلکہ امانت سمجھتی ہے۔ ان کے یہاں لفظ سوچ کے تابع ہیں اور سوچ انسان کے دکھ سے جڑی ہوئی ہے۔ غلام سرور نے اردو کو محض زندہ رکھنے کی کوشش نہیں کی، بلکہ اسے وقار، معنویت اور اخلاقی وزن عطا کیا۔ ان کی تحریروں میں نہ وقتی جذبات کا شور ہے، نہ مصنوعی انقلابی نعرے؛ وہاں خاموشی ہے، ٹھہراؤ ہے اور سچ کی تلاش میں ڈوبا ہوا ایک سنجیدہ ذہن ہے۔ انہوں نے اردو صحافت کو بازار کی چکاچوند سے بچا کر ضمیر کی سطح پر لا کھڑا کیا، جہاں خبر محض اطلاع نہیں رہتی بلکہ سوال بن جاتی ہے، اور سوال سماج کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ غلام سرور کو پڑھنا دراصل اردو کے اس شعور کو محسوس کرنا ہے جو انسان کو انسان سے جوڑتا ہے، جو طاقت کے سامنے جھکنے کے بجائے سچ کے ساتھ کھڑا رہتا ہے، اور جو خاموش رہ کر بھی بہت کچھ کہہ جاتا ہے۔
اردو صحافت کی اصل حقیقت خبر کے گرد گھومنے والے الفاظ سے کہیں آگے کی چیز ہے۔ یہ دراصل انسان کے اجتماعی شعور میں اترنے، اس کے احساسات کو پہچاننے اور اس کی خاموش چیخوں کو زبان دینے کا عمل ہے۔ غلام سرور نے اردو صحافت کو اسی گہرے اور ذمہ دار زاویے سے دیکھا۔ ان کے نزدیک خبر کوئی خشک اطلاع نہ تھی، بلکہ ایک زندہ انسانی تجربہ تھی، جس کے پیچھے درد بھی ہوتا ہے، سوال بھی اور کبھی کبھی ایسی امید بھی جو بظاہر دکھائی نہیں دیتی۔ وہ جانتے تھے کہ اگر صحافت صرف واقعات کی فہرست بن جائے تو اس کی روح مر جاتی ہے، اس لیے انہوں نے لفظوں میں شعور بھرنے کی کوشش کی، اور خبر کو سوچ کا دروازہ بنایا۔
غلام سرور کی تحریروں میں ایک خاص ٹھہراؤ نظر آتا ہے۔ وہاں جلدی نہیں، شور نہیں، اور نہ ہی خودنمائی کی کوئی خواہش۔ ان کا قلم حالات پر چیختا نہیں تھا بلکہ خاموشی سے سوال رکھتا تھا، اور یہی خاموش سوال قاری کے ذہن میں دیر تک گونجتا رہتا تھا۔ انہوں نے اردو صحافت کو اشتعال، مفاد اور وقتی مقبولیت کی دوڑ سے الگ رکھا۔ ان کے یہاں اختلاف بھی شائستہ تھا اور تنقید بھی ذمہ دار۔ وہ اس حقیقت سے آگاہ تھے کہ صحافت اگر اخلاقی بنیادوں سے کٹ جائے تو وہ طاقت کا ہتھیار بن جاتی ہے، اور اگر ضمیر سے جڑی رہے تو سماج کی رہنمائی کرتی ہے۔ غلام سرور نے اسی ضمیر کی حفاظت کی۔
ان کی صحافت میں انسان مرکز میں تھا وہ انسان جو نظام کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، جس کی آواز اکثر سنائی نہیں دیتی، اور جس کے مسائل کو سرخیوں میں جگہ نہیں ملتی۔ غلام سرور نے ایسے انسان کو اردو صحافت کے صفحے پر جگہ دی، اور یہی ان کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ ان کا قلم نہ اقتدار سے مرعوب ہوا اور نہ ہی عوامی جذبات کا استحصال کیا۔ وہ جانتے تھے کہ سچ بولنے کے لیے بلند آواز ضروری نہیں، بلکہ مضبوط ارادہ کافی ہوتا ہے۔ غلام سرور کی تحریریں قاری کو صرف معلومات نہیں دیتیں بلکہ اسے اپنی ذمہ داری کا احساس بھی دلاتی ہیں۔ ان کی صحافت قاری کو تماشائی بننے نہیں دیتی، بلکہ سوچنے والا فرد بناتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریریں وقت گزرنے کے باوجود اپنی معنویت نہیں کھوتیں۔ وہ اردو صحافت کو ایک ایسے مقام پر لے آئے جہاں خبر محض خبر نہیں رہتی بلکہ شعور میں بدل جاتی ہے، اور یہی شعور سماج کی اصل طاقت ہوتا ہے۔ غلام سرور نے اردو صحافت کو اسی طاقت کا شعور عطا کیا۔
کچھ ادارے وقت کی ضرورت کے تحت وجود میں آتے ہیں اور کچھ وقت کے مزاج کو بدلنے کے لیے۔ ’سنگم‘ دوسرے زمرے میں آتا ہے۔ غلام سرور کے لیے ’سنگم‘ محض ایک اخبار نہیں تھا بلکہ ایک فکری وعدہ تھا ایک ایسا عہد جس میں زبان، سماج اور سچ ایک دوسرے سے جدا نہیں تھے۔ انہوں نے اس اخبار کی بنیاد کسی کاروباری منصوبے کے طور پر نہیں رکھی، بلکہ اسے ایک فکری پلیٹ فارم کے طور پر پروان چڑھایا، جہاں لفظ بکتے نہیں تھے بلکہ تولے جاتے تھے۔ ’سنگم‘ کے صفحات پر جو کچھ لکھا جاتا، وہ صرف چھپنے کے لیے نہیں بلکہ تاریخ کے سامنے جواب دہ ہونے کے لیے ہوتا تھا۔ ’سنگم‘ کی پہچان اس کی آواز نہیں بلکہ اس کا لہجہ تھا۔ یہ اخبار نہ چیختا تھا، نہ خود کو مسلط کرتا تھا، بلکہ دھیرے دھیرے قاری کے ذہن میں اتر جاتا تھا۔ غلام سرور نے اسے اس طرح ترتیب دیا کہ ہر صفحہ ایک مکالمہ بن جائے طاقت اور سوال کے درمیان، مرکز اور حاشیے کے درمیان، اور خاموشی اور اظہار کے درمیان۔ یہاں زبان محض خبر کی خدمت گزار نہیں تھی بلکہ اپنے وقار کے ساتھ کھڑی نظر آتی تھی۔ ’سنگم‘ میں اردو کو اس کی مکمل تہذیبی شان کے ساتھ برتا گیا، نہ اسے کمزور سمجھ کر سہارا دیا گیا اور نہ ہی جذباتی بنا کر استعمال کیا گیا۔
غلام سرور نے ’سنگم‘ کے ذریعے اردو کو دفاعی پوزیشن سے نکال کر فکری اعتماد عطا کیا۔ یہ اخبار اس احساس کا اظہار تھا کہ اردو کو رحم کی نہیں، احترام کی ضرورت ہے۔ ’سنگم‘ کے صفحات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ زبان اگر خود اپنے وقار سے واقف ہو تو وہ کسی سہارے کی محتاج نہیں رہتی۔ یہاں اردو کو نہ صرف بولنے کا موقع ملا بلکہ سوچنے کا دائرہ بھی ملا۔ یہ اخبار اس خاموش یقین کا اظہار تھا کہ سچ وقتی طور پر دب تو سکتا ہے، مٹ نہیں سکتا۔ ’سنگم‘ نے ایک ایسا صحافتی مزاج پیدا کیا جس میں جلدی نہیں تھی، لیکن سمت تھی؛ شور نہیں تھا، لیکن وزن تھا۔ غلام سرور نے اسے ایک ایسی جگہ بنایا جہاں قلم کو خوف سے نہیں، ذمہ داری سے چلایا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ’سنگم‘ نے قاری کو محض معلومات نہیں دیں بلکہ اسے زبان کے ساتھ جینے کا سلیقہ سکھایا۔ یہ اخبار اپنے قاری سے مطالبہ نہیں کرتا تھا، بلکہ اسے شریکِ فکر بناتا تھا۔
یوں ’سنگم‘ ایک اخبار سے بڑھ کر ایک علامت بن گیا اس بات کی علامت کہ اگر نیت صاف ہو، فکر زندہ ہو اور زبان سے محبت سچی ہو تو کاغذ پر چھپے الفاظ بھی سماج کی سمت بدل سکتے ہیں۔ غلام سرور نے ’سنگم‘ کے ذریعے یہی ثابت کیا۔
اور یاد رکھیں کہ سیاست اگر صرف اقتدار کا نام ہو تو وہ جلد یا بدیر انسان سے کٹ جاتی ہے، اور سماج اگر زبان سے محروم ہو جائے تو وہ اپنے دکھ خود بھی پہچان نہیں پاتا۔ غلام سرور نے سیاست، سماج اور اردو کے رشتے کو اسی گہرے تناظر میں سمجھا۔ ان کے نزدیک سیاست نعروں کی ترتیب نہیں تھی بلکہ سماج کے اندر بہتے ہوئے سوالات کا شعوری اظہار تھی، اور اردو اس اظہار کا وہ فطری وسیلہ تھی جس میں انسان اپنی پوری سچائی کے ساتھ بول سکتا ہے۔ انہوں نے زبان کو سیاست کا تابع نہیں بنایا، بلکہ سیاست کو زبان کے اخلاقی دائرے میں رکھنے کی کوشش کی۔ غلام سرور کی فکر میں سماج ایک ہجوم نہیں بلکہ زندہ انسانوں کا مجموعہ تھا ایسے انسان جو تاریخ، تہذیب اور حالات کے دباؤ میں اپنی شناخت تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔ انہوں نے سیاست کو اسی تلاش سے جوڑا۔ ان کی سوچ میں کوئی بھی سیاسی موقف اس وقت تک معتبر نہیں ہو سکتا تھا جب تک وہ سماج کے اندر موجود انسان کی عزتِ نفس کو تسلیم نہ کرے۔ اردو یہاں محض اظہار کا ذریعہ نہیں رہی، بلکہ ایک اخلاقی کسوٹی بن گئی، جس پر سیاسی رویّوں کو پرکھا جاتا تھا۔
غلام سرور اس حقیقت سے بخوبی واقف تھے کہ جب زبان کمزور کی جاتی ہے تو دراصل سماج کو بے زبان کیا جاتا ہے۔ اسی لیے انہوں نے اردو کو صرف ثقافتی ورثہ سمجھ کر محفوظ کرنے کے بجائے اسے موجودہ وقت کے سوالات سے جوڑے رکھا۔ ان کے یہاں اردو ماضی کی یاد نہیں بلکہ حال کا شعور اور مستقبل کی ذمہ داری تھی۔ انہوں نے سیاست کو اسی شعور کے ساتھ برتنے کی کوشش کی، جہاں طاقت کے فیصلے زبان کے وقار کو مجروح نہ کریں اور سماج کی تہذیبی سانس برقرار رہے۔ ان کی فکری ہم آہنگی کا خاص پہلو یہ تھا کہ وہ کسی ایک دائرے میں قید نہیں رہے۔ سماج، سیاست اور زبان یہ تینوں ان کے یہاں الگ الگ نہیں بلکہ ایک ہی سلسلے کی کڑیاں تھیں۔ وہ جانتے تھے کہ اگر سیاست سماج سے کٹ جائے تو وہ جبر بن جاتی ہے، اور اگر سماج زبان سے دور ہو جائے تو وہ بے سمت ہو جاتا ہے۔ اردو ان دونوں کے درمیان ایک ایسا پل تھی جس پر چل کر بات دلیل تک پہنچتی تھی اور اختلاف شائستگی میں بدل جاتا تھا۔
یوں غلام سرور کی فکر کسی مخصوص نظریے کی قید میں نہیں بلکہ ایک وسیع انسانی دائرے میں سانس لیتی ہے۔ ان کے نزدیک اصل کامیابی یہ نہیں تھی کہ کون اقتدار میں ہے، بلکہ یہ تھی کہ سماج اپنے وجود کو کتنی سچائی کے ساتھ سمجھ پا رہا ہے۔ اردو اس سمجھ کا ذریعہ بنی، اور سیاست اس فہم کا امتحان۔ غلام سرور نے ان تینوں کو ایک ہی فکری لڑی میں پرو کر ایک ایسا نمونہ پیش کیا جو آج بھی سوچنے والوں کے لیے راستہ دکھاتا ہے۔
مجھے لگتا ہے کچھ شخصیات اپنی آواز سے نہیں بلکہ اپنی موجودگی سے پہچانی جاتی ہیں۔ غلام سرور بھی انہی میں سے تھے۔ ان کی شخصیت میں کوئی اضافی پن نہیں تھا نہ انداز میں، نہ گفتار میں، نہ طرزِ فکر میں۔ وہ خود کو پیش کرنے کے قائل نہیں تھے، بلکہ کام کو بولنے دیتے تھے۔ ان کے رویّے میں ایک قدرتی سادگی تھی جو بناوٹ سے پاک اور تصنع سے آزاد تھی۔ یہی سادگی آہستہ آہستہ وقار میں ڈھل جاتی تھی، اور وقار ان کی شناخت بن جاتا تھا۔ غلام سرور کے یہاں فکر کا بہاؤ اندر سے باہر کی طرف تھا۔ وہ پہلے سوچتے تھے، پھر بولتے تھے، اور اکثر خاموش رہ کر بھی بہت کچھ کہہ جاتے تھے۔ ان کی خاموشی میں الجھن نہیں بلکہ ترتیب تھی۔ وہ جلد نتیجہ اخذ کرنے کے بجائے معاملے کو وقت دیتے تھے، اور یہی تحمل ان کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو تھا۔ ان کے نزدیک دانش مندی کا مطلب سب کچھ کہہ دینا نہیں تھا، بلکہ یہ جاننا تھا کہ کہاں رک جانا ہے۔
ان کی شخصیت میں ایک نرمی تھی جو کمزوری نہیں بنتی تھی، اور ایک سختی تھی جو تلخی میں نہیں بدلتی تھی۔ وہ اختلاف کو دشمنی نہیں سمجھتے تھے، اور تنوع کو خطرہ نہیں مانتے تھے۔ اسی لیے ان کے گرد رہنے والے لوگ خود کو سنا ہوا محسوس کرتے تھے، نہ کہ زیرِ اثر۔ غلام سرور کسی پر اپنی رائے مسلط نہیں کرتے تھے، بلکہ سوچ کا دروازہ کھول دیتے تھے اور یہی اصل قیادت ہوتی ہے۔ ان کی فکری بلندی کسی دعوے کی محتاج نہیں تھی۔ وہ خود کو مرکز میں رکھنے کے بجائے اصول کو مرکز بناتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی ذات وقت کے ساتھ بڑی ہوتی چلی گئی، بغیر شور، بغیر تشہیر۔ ان کا وقار کسی منصب سے نہیں آیا، بلکہ مسلسل فکری دیانت سے تشکیل پایا۔
یوں غلام سرور کی شخصیت ایک مکمل دائرہ بن جاتی ہے جہاں فکر خاموش ہے مگر گہری، مزاج سادہ ہے مگر باوقار، اور موجودگی کم لفظوں میں بھی مکمل محسوس ہوتی ہے۔ وہ اپنے پیچھے کوئی ہلچل نہیں چھوڑ گئے، بلکہ ایک ٹھہرا ہوا اثر چھوڑ گئے اور یہی اثر دراصل اصل میراث ہوتا ہے۔
الغرض! غلام سرور اردو کے اس شعوری سفر کا نام ہیں جہاں زبان محض اظہار نہیں بلکہ ذمہ داری بن جاتی ہے۔ انہوں نے اردو صحافت کو وقار، تہذیب اور فکری سنجیدگی عطا کی اور اسے سطحیت سے نکال کر شعور کی سطح تک پہنچایا۔ ان کی کاوشوں میں ادارہ محض ادارہ نہیں رہا بلکہ ایک فکری علامت بنا، اور سیاست محض عمل نہیں بلکہ اخلاقی سوال۔ غلام سرور کی فکر میں اردو، سماج اور انسان ایک دوسرے سے جڑے ہوئے نظر آتے ہیں، جہاں زبان عزت پاتی ہے اور اختلاف شائستگی میں ڈھل جاتا ہے۔ ان کی شخصیت سادگی، خاموشی اور فکری بلندی کا ایسا امتزاج تھی جو بغیر شور کے اپنا اثر چھوڑ جاتا ہے۔ یوں غلام سرور کا ورثہ لفظوں میں نہیں، بلکہ اس شعور میں محفوظ ہے جو آج بھی اردو سے وابستہ سنجیدہ ذہنوں کو راستہ دکھاتا ہے۔