انسان کی فطرت، مفاد پرستی اور بے وفائی

از:- محمد قمر الزماں ندوی

دگھی، گڈا، جھارکھنڈ

انسانی طبیعت اور فطرت اپنے اندر عجیب تضادات سمیٹے ہوئے ہے۔ بظاہر وہ محبت، وفاداری، ہمدردی اور قدردانی جیسے اعلیٰ اوصاف کا دعوے دار ہے، مگر جب امتحان اور آزمائش کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو اس کے کردار کی اصل پرتیں کھلتی ہیں۔ ضرورت کے لمحوں میں وہ دوسروں کو سایۂ عاطفت، سہارا اور نجات دہندہ سمجھتا ہے؛ ان کے در پر امیدوں کی دستک دیتا ہے، تعلقات کو مضبوط بنانے کے دعوے کرتا ہے اور زبان سے وفاداری کے عہد باندھتا ہے۔ لیکن جیسے ہی حاجت پوری ہو جاتی ہے، مفاد کی دھوپ تیز ہو جاتی ہے اور وقتی رفاقت کا سایہ سمٹ جاتا ہے۔ وہی شخص جو کل تک احسان مند تھا، آج بے نیاز بن کر گزر جاتا ہے۔ گویا اس کے نزدیک تعلق ایک وسیلہ تھا، مقصد نہیں؛ رفاقت ایک سیڑھی تھی، منزل نہیں۔

یہ کرادر اور رویہ کوئی نیا نہیں۔ تاریخ انسانی کے ہر دور میں ایسے کردار ملتے ہیں جو مفاد کے موسم کے ساتھ بدلتے رہے۔ خصوصاً عہدِ نبوی میں منافقین کا طرزِ عمل اسی فطرت کی جیتی جاگتی تصویر تھا۔ وہ بوقتِ ضرورت مسلمانوں کے ساتھ وابستگی کا اظہار کرتے، “اَنَا مَعَکُمْ” کہہ کر اپنی شمولیت کا اعلان کرتے، لیکن جب آزمائش کا وقت آتا یا مفاد کی راہ الگ ہوتی تو وہی لوگ استہزا اور بے وفائی کی راہ اختیار کرتے۔ ان کا ظاہر کچھ اور اور باطن کچھ اور تھا۔ یہ دوغلا پن نہ صرف اخلاقی کمزوری تھا بلکہ سماجی اعتماد کے لیے زہرِ قاتل بھی۔

اسلام نے ایسے طرزِ عمل کو سخت ناپسند کیا ہے۔ قرآن و سنت میں اخلاص، خلوص، محبت، وفاداری، امانت اور شکرگزاری کو مومن کی پہچان قرار دیا گیا ہے۔ جس معاشرے کی بنیاد باہمی اعتماد پر ہو، وہاں احسان فراموشی اور مفاد پرستی کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تعلیمات میں وعدہ خلافی کو نفاق کی علامت کہا گیا اور احسان کے بدلے احسان کو انسانی شرافت کا تقاضا ٹھہرایا گیا۔ درحقیقت، اسلام انسان کو محض عبادات کا پابند نہیں بناتا بلکہ اس کے باطن کو سنوارتا ہے، اسے کردار کی سچائی اور تعلقات کی حرمت کا شعور دیتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی مہذب سماج ایسے افراد کو عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا جو ضرورت کے وقت ہاتھ تھامیں اور فراغت کے وقت پہچاننے سے انکار کر دیں۔ معاشرتی وقار کا دارومدار دولت، عہدے یا وقتی کامیابی پر نہیں بلکہ کردار کی پختگی پر ہوتا ہے۔ جو شخص اپنے محسن کو بھول جاتا ہے، جو مشکل گھڑی میں ساتھ دینے والوں کو نظر انداز کر دیتا ہے، وہ وقتی طور پر فائدہ تو اٹھا سکتا ہے، مگر دلوں میں جگہ نہیں بنا سکتا۔ عزت وہ سرمایہ ہے جو مسلسل حسنِ سلوک، وفاداری اور شکرگزاری سے حاصل ہوتا ہے؛ مفاد پرستی سے نہیں۔

ایسے لوگ بظاہر چالاک اور وقتی طور پر کامیاب دکھائی دے سکتے ہیں، مگر تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ کردار کے حق میں آیا ہے، نہ کہ مصلحت کے۔ جنہوں نے تعلقات کو مفاد کا ذریعہ بنایا، وہ آخرکار تنہائی کے حصار میں قید ہو گئے۔ کیونکہ جب لوگوں کو یہ یقین ہو جائے کہ فلاں شخص کا ساتھ صرف ضرورت تک محدود ہے، تو وہ بھی اس سے فاصلے پر رہنے میں عافیت سمجھتے ہیں۔ یوں مفاد پرست انسان آہستہ آہستہ اعتماد کے دائرے سے خارج ہو جاتا ہے، اور اعتماد کے بغیر نہ قیادت ممکن ہے، نہ عزت، نہ دوام۔

یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جسے سمجھنا اور سمجھانا ضروری ہے کہ احسان فراموشی محض ایک اخلاقی کمزوری نہیں بلکہ سماجی بگاڑ کی جڑ ہے۔ جو فرد اپنے محسن کو بھول جاتا ہے، وہ دراصل اپنی انسانیت کے ایک روشن پہلو کو مٹا دیتا ہے۔ اور جو قومیں شکرگزاری اور وفاداری کے اصولوں کو نظر انداز کر دیں، وہ اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس فطرت کے لوگوں کا کردار بے نقاب کیا جائے، تاکہ معاشرہ یہ پہچان سکے کہ حقیقی عزت کن اوصاف سے جنم لیتی ہے اور کن رویوں سے زائل ہو جاتی ہے۔
مذکورہ بالا تحریر اسی اخلاقی تضاد کی نقاب کشائی کی ایک کوشش ہے،تاکہ واضح ہو سکے کہ مفاد کی بنیاد پر قائم تعلقات ریت کی دیوار ہوتے ہیں، جبکہ اخلاص پر استوار رشتے وقت کی آندھیوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ اور یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ جو لوگ ضرورت کے بعد اپنے محسنوں کو بھول جاتے ہیں، وہ کبھی بھی سماج میں حقیقی عزت اور پائیدار مقام حاصل نہیں کر سکتے۔ عزت کردار سے پیدا ہوتی ہے، اور کردار کی بنیاد وفاداری، شکرگزاری اور سچائی پر ہوتی ہے۔

ایک صاحب دل کی دلکش تحریر اور تجزیہ انسان کی فطرت، مفاد پرستی اور بے وفائی سے متعلق ملاحظہ کیجئے ۔ مشہور صاحب قلم محمد ہارون صاحب لکھتے ہیں:

"انسان کی فطرت کا ایک عجیب تضاد ہے: جب ضرورت ہو تو دوسروں کو اپنا ’’سایہ“، ’’سہارا“ اور ’’دریا“ بنا لیتا ہے، لیکن جب مقصد حاصل ہوجائے تو وہی چہرہ بیگانہ کر لیتا ہے جس کے ذریعے اس نے اپنی منزل تک رسائی پائی ہوتی ہے۔ یہ طرزِ عمل محض اخلاقی کمزوری نہیں بلکہ انسانی نفس کی وہ تاریک کیفیت ہے جو قرآن نے "إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوء” کہہ کر واضح کی ہے۔ مفادات کی دنیا انسان کو ایسا خود غرض بنا دیتی ہے کہ وہ احسان کو بوجھ اور تعلق کو محض استعمال کی سیڑھی سمجھنے لگتا ہے۔

تاریخِ انسانی اس کردار کے درجنوں نمونے پیش کرتی ہے: فرعون نے موسیٰؑ کی پرورش اپنے گھر میں کی، لیکن جب اپنی حکومت کا مفاد سامنے آیا تو اسی پرورش کو بھلا کر اسے مٹانے پر تُل گیا۔ اسی طرح قرآن منافقین کا کردار دکھاتا ہے کہ جب ان سے پوچھا جائے کہ تم کس کے ساتھ ہو؟ تو جواب دیتے ہیں: "نَحْنُ مَعَكُمْ”؛ لیکن جب اپنا مفاد نکل آئے تو وہی چہرہ بدل کر کہتے ہیں: "إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُون”۔ یہ انسان کی اس داخلی کمزوری کا آئینہ ہے جو ضرورت کے وقت وفاداری کا نقاب پہنتی ہے اور مقصد پورا ہوتے ہی چہرہ بدل دیتی ہے۔
اخلاقی و سماجی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو ایسے لوگ معاشرتی اعتماد کو زہر آلود کرتے ہیں۔ رشتے محض لین دین نہیں بلکہ ذمہ داری اور امانت ہیں۔ جب انسان دوسرے کو صرف اپنے کام نکالنے کا ’’وسیلہ“ سمجھتا ہے تو وہ انسانی عظمت کے بنیادی اصول کو پامال کرتا ہے۔ اسلام نے احسان، وفا، شکر اور امانت کو انسانی شخصیت کی بنیاد قرار دیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "لا یشکرُ اللہَ مَن لا یشکرُ الناس” جو لوگوں کا شکر گزار نہیں وہ اللہ کا بھی شکر گزار نہیں ہو سکتا۔ یعنی جو انسان احسان فراموش ہے، وہ روحانی اعتبار سے بھی کھوکھلا ہے۔

سماج میں مفاد پرستی کا بڑھتا ہوا رجحان اس بات کی علامت ہے کہ انسان اپنی اصل فطرت سچائی، وفاداری اور خیرخواہی سے دور ہوچکا ہے۔ فطرت انسان کو دھوکہ دینا نہیں سکھاتی، بلکہ یہ اس کی خواہشات و خود غرضی کا پیدا کردہ زاویہ ہے۔ فطری انسان وہ ہے جو ضرورت کے وقت ہاتھ تھامے اور مقصد پورا ہونے کے بعد بھی ہاتھ نہ چھوڑے۔ حقیقی انسانیت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب انسان قرض یاد رکھتا ہے، احسان بھولتا نہیں، اور تعلقات کو استعمال نہیں کرتا بلکہ نبھاتا ہے۔

آخر میں، یہ حقیقت قابلِ غور ہے کہ دوسرے کو صرف ’’کام کا دریا‘‘ سمجھنا انسان کی کم ظرفی ہے، اور کام نکلنے کے بعد اس دریا کو سوکھا ہوا کنواں سمجھ لینا اس کی روحانی بدبختی ہے۔ معاشرے کی اصل تعمیر اس وقت ہوگی جب انسان ضرورت کے وقت دوسروں سے فائدہ بھی اٹھائے لیکن مقصد پورا ہونے کے بعد ان کا حق بھی ادا کرے، ان کی قدر بھی جانے اور تعلقات کو مفادات کی تجارت نہ بنائے۔ یہی انسانیت کا حسن اور اخلاق کا معیار ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔