خواہشات پر کنٹرول

از:- محمد قمر الزماں ندوی

مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ

انسان فطری طور پر خواہشات کا پیکر ہے۔ اس کے دل میں طرح طرح کی آرزوئیں جنم لیتی رہتی ہیں؛ وہ اچھا کھانا، اچھا لباس، خوب صورت رہائش، آرام و آسائش اور خوش حال زندگی چاہتا ہے۔ خواہش کا ہونا کوئی بری چیز نہیں، بلکہ یہ انسانی فطرت کا حصہ ہے؛ البتہ خواہش کا بے محل، بے لگام اور حد سے زیادہ ہوجانا انسان کے لیے نقصان دہ بن جاتا ہے۔

اسلام خواہشات کو ختم کرنے کا نہیں، بلکہ انہیں شریعت، عقل اور اخلاق کے تابع رکھنے کا درس دیتا ہے۔ انسان دنیا کی جائز نعمتوں سے فائدہ اٹھائے، مگر اسراف، دکھاوے اور نام و نمود سے بچے؛ خواہش رکھے، مگر خواہش کا غلام نہ بنے۔ جب خواہش عقل پر غالب آجائے اور انسان حلال و حرام کی تمیز بھول جائے تو یہی خواہش انسان کے سکون اور کردار دونوں کو متاثر کرنے لگتی ہے۔

دنیا میں ہر خواہش پوری نہیں ہوتی۔ اس لیے مومن کی زندگی کا حسین اصول یہ ہے کہ جو ملے اس پر شکر کرے، جو نہ ملے اس پر صبر کرے اور جو مطلوب ہو اسے حاصل کرنے کے لیے جائز کوشش کرے۔ قناعت انسان کو محرومی کے باوجود سکون دیتی ہے اور شکر اسے حاصل شدہ نعمتوں کی قدر سکھاتا ہے۔
حقیقی کامیابی یہ نہیں کہ انسان کے اندر خواہشات نہ ہوں، بلکہ یہ ہے کہ خواہشات اس کے اندر ہوں مگر وہ ان کا غلام نہ بنے۔ خواہش ہو تو شریعت کی نگرانی میں، آرزو ہو تو عقل و دانش کے ساتھ، اور تمنا ہو تو آخرت کے شعور کے ساتھ۔ خواہشات کو ختم کرنا نہیں، انہیں صحیح سمت دینا ہی خواہشات پر حقیقی کنٹرول ہے۔
کسی صاحب دانا بہت اچھا لکھا ہے، اسے آپ بھی ملاحظہ فرمائیں ۔

وہ لکھتے ہیں :
خواہش (desire) ہر انسان کی ایک فطری صفت ہے- کوئی عورت یا مرد خواہش کی نفسیات سے خالی نہیں- تاہم خواہش کوئی برائی (evil) نہیں، یعنی خواہش اپنے آپ میں برائی نہیں ہے، بلکہ خواہش کا غلط استعمال اس کو برا بنا دیتا ہے- انسان کے اندر سب سے بڑی صفت محرک (incentive) ہے- ہر عمل کی جڑ میں ایک محرک هوتا ہے- اگر کسی انسان کے اندر محرک نہ پایا جائے تو وه کوئی کام نہیں کر سکتا- یہ محرک تمام تر خواہش کی پیداوار ہے- یہ خواہش ہے جو انسان کے اندر محرک پیدا کرتی ہے- خواہش نہیں تو محرک نہیں اور محرک نہیں تو کوئی عمل نہیں-

اس معاملے میں انسان کا اصل کام یہ ہے کہ وه اپنی خواہش کو کنٹرول کرے- وه اپنی خواہش کو غلط رخ کی طرف جانے سے روکے- مثلا کهانے میں ساده کهانا کهائے اور لذیذ کهانے سے پرہیز کرے- کوئی عمل کرے تو خدمت کے جذبے سے کرے، نہ کہ شہرت (fame) حاصل کرنے کے لیے- کپڑا پہنے تو ستر پوشی کے لیے پہنے، نہ کہ خوش نمائی کے لیے- پیسہ کمائے تو صرف ضرورت پوری کرنے کے لیے، نہ کہ دولت کا ڈهیر اکهٹا کرنے کے لیے- گهر بنائے تو رہائشی ضرورت کے لیے، نہ کہ شان وشوکت کے اظہار کے لیے- یہی خواہش پر کنٹرول ہے-

خواہش پر کنٹرول کا مقصد اپنے آپ کو ڈسٹریکشن (distraction) سے بچانا ہے- جب آدمی اپنے آپ کو ڈسٹریکشن سے بچاتا ہے تو اس کو یہ موقع ملتا ہے کہ وه ذہنی اور روحانی ترقی میں مشغول هو سکے، وه اپنی شخصیت کے ارتقا کے اعلی تر مقصد کو حاصل کر سکے- خواہش پر کنٹرول صرف وه شخص کر سکتا ہے جو مطالعہ اور غور و فکر کے ذریعے اپنے مقصد تخلیق کو دریافت کرے- اس دریافت کا نتیجہ یہ هوتا ہے کہ آدمی عارضی دنیا کی وقتی لذتوں سے اوہر اٹهہ جاتا ہے، وه اپنے آپ کو اس ربانی شخصیت کی تشکیل میں لگا دیتا ہے جو دنیا میں اللہ کی مرضی پر چلے اور آخرت میں اللہ کی ابدی جنت میں داخلے کا مستحق قرار پائے ——- خواہش پر کنٹرول آدمی کو اعلی انسان بناتا ہے- اس کے برعکس، خواہش کی پیروی کرنے والا آدمی حیوانیت کی سطح پر پہنچ جاتا ہے-

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔