یروشلم: وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے دورۂ اسرائیل کے دوران اسرائیلی پارلیمان سے خطاب کیا۔ وہ اسرائیلی پارلیمان سے خطاب کرنے والے بھارت کے پہلے وزیر اعظم بن گئے ہیں۔ اس موقع پر انہیں کنیسٹ کا اعلیٰ اعزاز بھی پیش کیا گیا۔
اپنے خطاب میں مودی نے کہا کہ یہ ان کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ وہ 140 کروڑ بھارتیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک قدیم تہذیب کے پارلیمانی ایوان میں موجود ہیں۔ انہوں نے بھارت اور اسرائیل کے درمیان تاریخی تعلقات، باہمی احترام اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
اس موقع پر اسرائیلی وزیر اعظم بنجامین نیتن یاہو نے مودی کا پرتپاک خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف ایک اچھے دوست نہیں بلکہ ان کے لیے بھائی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ نیتن یاہو نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط اور دیرپا قرار دیتے ہوئے کہا کہ دفاع، تجارت اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون نئی بلندیوں تک پہنچا ہے۔
کنیسٹ کے اسپیکر امیر اوہانا نے بھی وزیر اعظم مودی کا خیرمقدم کیا اور انہیں عصرِ حاضر کے اہم عالمی رہنماؤں میں شمار کیا۔ انہوں نے ہندی زبان میں مودی کو یروشلم اور کنیسٹ میں خوش آمدید کہا۔
خطاب کے دوران ارکانِ پارلیمان نے وزیر اعظم مودی کا کھڑے ہو کر استقبال کیا اور تالیاں بجا کر خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس موقع پر دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔