حلیم یا لحیم: ایک لسانی مغالطہ

جناب خلیل اللہ خان صاحب کا مراسلہ "حلیم یا لحیم” روزنامہ منصف میں 5 فروری 2025 کو نظر نواز ہوا، جس میں انہوں نے "حلیم” کو غلط اور "لحیم” کو درست قرار دیا، اس سے پہلے "دلیم” کوبھی یہ عزت مل چکی ہے، لیکن یہ ایک لسانی مغالطہ ہے، اولاً، "حلیم” صرف اسمائے حسنیٰ میں سے نہیں بلکہ ایک عام صفت بھی ہے، جیسا کہ قرآن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ایک صفت کے طور پر "حلیم” کا استعمال ہوا ہے، اور عام عربی واردو میں بھی "رجل حلیم” (بردبار آدمی) مستعمل ہے، اسی طرح "کریم”، "رشید”، "مجید” جیسے نام بھی عام افراد کے لیے رائج ہیں، اول وآخر، ظاہر وباطن، قابض، شہید، جامع اور رقیب سب کا یہی حال ہے، بلکہ رقیب تو اردو میں حریف کو بھی کہتے ہیں، جب کہ اللہ تعالیٰ کے لیے صرف نگہبان ونگران کے معنی میں بولا جائے گا۔

حلیم یا لحیم: ایک لسانی مغالطہ Read More »

"اردو صحافت کے ادبی، نسائی اور اطفالی رنگ” ایک مطالعہ

اردو زبان و ادب کی صحافتی روایت ایک درخشاں اور گہرائیوں سے معمور تاریخ رکھتی ہے، جس نے نہ صرف تخلیقی اظہار کو فروغ دیا بلکہ ادب، تہذیب، ثقافت اور فکری مکالمے کی بقا میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ معروف ادیب و نقاد حقانی القاسمی صاحب کی یہ کتاب "اردو صحافت کے ادبی، نسائی اور اطفالی رنگ” اسی تاریخ اور اس کے مختلف پہلوؤں کا علمی و تحقیقی جائزہ پیش کرتی ہے۔

"اردو صحافت کے ادبی، نسائی اور اطفالی رنگ” ایک مطالعہ Read More »

بچوں کا وقت اور توانائی: کھیل، تعلیم یا اسکرین؟

آج کا دور جدت اور ٹیکنالوجی کا ہے، جہاں ترقی کی رفتار نے ہماری زندگیوں کو سہل بنایا ہے، وہیں بچوں کی زندگیوں پر بھی گہرا اثر ڈالا ہے۔ بچوں کا وقت اور توانائی جو کبھی کھیل، تعلیم اور خاندانی سرگرمیوں میں صرف ہوتی تھی، اب بڑی حد تک اسکرین کی نذر ہو چکی ہے۔

بچوں کا وقت اور توانائی: کھیل، تعلیم یا اسکرین؟ Read More »

بغض و حسد اور گھمنڈ !!

کہاوت تو مشہور یہی ہے کہ نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے ، حرکت قلب بند ہوجائے ، روح قفس عنصری سے پرواز کرجائے ، ملک عدم کو راہی ہو جائے ، شہر خموشاں میں آرام کرنے کا موقع آجائے ، قیمتی پوشاک جسم سے اتر جائے ، محلات اور مکانات چھوٹ جائے ، مخمل کے بستر پر سونے والا کفن میں لپٹا ہوا مٹی میں سوجائے

بغض و حسد اور گھمنڈ !! Read More »

……. سیاسی لحاظ تو ضروری ہے !!

ان دنوں بھارت کے دل دلی پر اسمبلی انتخاب کا خمار چڑھا ہوا ہے۔ایک سے بڑھ کر ایک ڈرامے اور نوٹنکیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ان نوٹنکیوں کے ساتھ ساتھ نیتاؤں کی بد زبانی بھی اخلاق و تہذیب کے سارے بند توڑنے پر آمادہ ہے۔بدتمیزی کی شروعات بھاجپا نیتا رمیش بدھوڑی نے کی اور الیکشن ختم ہوتے ہوتے عام آدمی پارٹی کے ممبر اسمبلی امانت اللہ خان کی تُو تڑاک کے چرچے چاروں طرف ہو رہے ہیں۔

……. سیاسی لحاظ تو ضروری ہے !! Read More »

اوپر تک سکرول کریں۔