کلمئہ استرجاع تسکین قلب کا بہترین ذریعہ !

صابرین کی طرف نسبت کرکے قرآن مجید میں یہ فرمایا گیا ہے کہ وہ مصیبت ،رنج اور تکلیف کے وقت "انا للّٰہ وانا الیہ راجعون” کہا کرتے ہیں، بے شک ہم اللہ ہی کے لئے ہیں اور بے شک ہم اسی کی طرف واپس ہونے والے ہیں، (خواہ آج خواہ چند روز بعد)،حقیقت میں اس کی تعلیم و تلقین سے مقصود یہ ہے کہ مصیبت والوں کو ایسا کہنا چاہیے ،کیونکہ ایسا کہنے میں اجر و ثواب بھی بڑا ہے ،اور اگر دل سے معنی و مفہوم کو سمجھ کر یہ الفاظ ادا کئے جائیں تو رنج و الم اور غم و تکلیف کے دور کرنے اور قلب کو تسلی دینے کے معاملہ میں بھی یہ دعا اور یہ کلمہ اکسیر کا حکم رکھتے ہیں ۔

کلمئہ استرجاع تسکین قلب کا بہترین ذریعہ ! Read More »

غیر مسلم صحافیوں کی خدمات : فرقہ پرستوں کے بھرم کو توڑنے کی ایک لاجواب کوشش

بھرم لفظ کے معنی ہیں کسی جھوٹ کو سچ مان لینا ، بلکہ ایسا سچ مان لینا کہ جھوٹ ، جو سچ مانا گیا ہے ، ہمیشہ کے لیے مٹ جائے ۔ ایسا ہی ایک بھرم یہ کہنا یا ماننا ہے کہ ’ اردو مسلمانوں کی زبان ہے ہندوؤں کی نہیں ۔‘ معروف صحافی سہیل انجم نے اپنی تازہ ترین کتاب ’ اردو صحافت کے فروغ میں غیر مسلم صحافیوں کی خدمات ‘ کے ذریعے اس متھ یا بھرم کو توڑنے یا مٹانے کی قابل قدر کوشش کی ہے ۔

غیر مسلم صحافیوں کی خدمات : فرقہ پرستوں کے بھرم کو توڑنے کی ایک لاجواب کوشش Read More »

مولانا سید جعفر مسعود حسنی ندوی کا انتقال ملت اسلامیہ کا عظیم حادثہ: جنرل سکریٹری بورڈ

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد فضل الرحیم مجددی صاحب نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ مولانا سید جعفر مسعود حسنی ندوی صاحب رحمۃاللہ علیہ ناظر عام ندوۃ العلماء لکھنؤ کی اچانک وفات کے حادثہ نے ملت اسلامیہ بالخصوص ندوی برادری کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا

مولانا سید جعفر مسعود حسنی ندوی کا انتقال ملت اسلامیہ کا عظیم حادثہ: جنرل سکریٹری بورڈ Read More »

مولانا سید جعفر مسعود حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ

آج مولانا سید جعفر مسعود حسنی ندوی رح کے جنازہ اور تدفین میں شرکت کے بعد اندازہ ہوا کہ مولانا کو علماء اور اہل علم طبقہ میں کس قدر محبوبیت اور مقبولیت حاصل تھی ، اور لوگوں کو خصوصاً علماء اور اہل علم طبقہ کو ان سے کیسی شیفتگی اور انسیت تھی۔ یقینا مولانا نیک طبیعت ،سادگی پسند اور خاموش مزاج انسان تھے، شہرت اور اسٹیج کی زینت بننے میں انہیں کوئی دلچسپی نہیں تھی

مولانا سید جعفر مسعود حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ Read More »

اسرائیل حماس جنگ، فاتح کون ؟

اسرائیل اور حماس کے درمیان پندرہ ماہ سے چلنے والی جنگ؛ بلکہ تاریخ کی طویل ترین صہیونی جارحیت بالآخر جنگ بندی کے نفاذ  کے ذریعہ 19/ جنوری 2025ء کو اپنے اختتام پر پہنچ جائے گی۔ جنگ بندی کے معاہدہ میں باقاعدہ اس بات کی ضمانت ہے کہ یہ جنگ دوبارہ شروع نہیں ہوگی؛ آخری صہیونی قیدی کی رہائی کے ساتھ فلاڈلفیا کے ایک حصے سے بھی صہیونی فوجیوں کا انخلاء ہو جائے گا۔ اس طویل ترین جنگ میں فتح کس کی ہوئی، کیا اسرائیل اپنے مقاصد کو حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے؟ کیا حماس نے جس مقصد کے لیے 7/ اکتوبر کو حملہ کیا تھا وہ حاصل کر لے گا؟ ذیل میں ہم دونوں کے اہداف و مقاصد کی روشنی میں جائزہ لیتے ہیں۔

اسرائیل حماس جنگ، فاتح کون ؟ Read More »

اوپر تک سکرول کریں۔