از: مسعود جاوید
عوام بالخصوص نوجوان نسل جین زی ( جنریشن زیڈ) ان دنوں دستور ہند اور جمہوری نظام بالخصوص شفاف انتخابات کے لئے کوشاں ہے اور سڑکوں پر اتر رہی ہے ۔ احتجاج کرنے والوں کو لاء اینڈ آرڈر میں خلل ڈالنے کے نام پر پولیس پیٹ رہی ہے اور گرفتار بھی کر رہی ہے۔
اس احتجاج میں ملت اسلامیہ ہند کے فرزندان کی کوئی نمایاں نمائندگی نہیں ہے۔
مصلحتا یہ بھی درست ہے اس لئے کہ فرقہ پرست عناصر اس تاک میں رہتے ہیں کہ کس طرح بلا تفریق مذہب کے اس احتجاج کو فرقہ واریت کا نام دے کر مسلمانوں کو بدنام کیا جائے اور بالآخر ملک دشمن قرار دے کر جیلوں میں ٹھونس دیا جائے ۔ سکھ سماج نے جب کسانوں کے مسائل کو لے کر احتجاج شروع کیا تھا تو انہیں بدنام کرنے کے لئے اس احتجاج کو علحدگی پسند اور خالصتانی تحریک سے منسوب کرنے کی کوشش کی جانے لگی تو سکھ سماج نے اس احتجاج کی قیادت کسانوں( زیادہ تر جاٹ سماج) کو سونپ دی۔ اسے کہتے ہیں سیاسی شعور اور بصیرت ۔ ان پر اگر کریڈٹ لینے اور لیڈری کرنے کا بھوت سوار ہوتا تو وہ کبھی ایسا نہیں کرتے۔ مطمح نظر مسئلے کا حل ہو لیڈری اور نام و نمود نہیں ۔
مسلمانوں کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ معاملہ ہے اس لئے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی قیادت کی بجائے سول سوسائٹی کے سیکولر نمائندوں کی قیادت میں رہ کر ملک و ملت کے مسائل سے اپنے تعلق کا اظہار کرتے رہیں ۔
ایسا نہیں ہے کہ مسلمان مین اسٹریم سے الگ تھلگ ہیں۔ وہ انفرادی طور پر احتجاج میں شریک ہیں جین زی کے بینر تلے یا کسی سیاسی جماعت کے باضابطہ ارکان کی حیثیت سے یا باہر سے ہی سہی جمہوری کاز کی تائید میں۔
تاہم ایسے موقعوں پر نہ جانے کہاں سے مسلمانوں کو سوشل میڈیا پر متحرک ہونے کے لئے کچھ ایسے موضوع مل جاتے ہیں جو ملک کے لئے مفید ہیں اور نہ ملت کے لئے۔
عرب ممالک میں علی میاں رحمۃ اللہ علیہ کی کسی کتاب پر پابندی یا تبلیغی جماعت پر پابندی یہ ان ممالک کے اندرونی معاملات ہیں اور ایکشن لینے کے لئے خود مختار ہیں۔ اندرون ملک بغاوت کے خدشات کے حفظ ما تقدم کے طور پر اسی طرح بعض مصنفین، مقررین، مفکرین اور سماجی کارکنوں کی کتب ، ریسرچ اور رپورٹ کو ان ارباب حل و عقد ” ذہن سازی” کے ڈر سے پابندی لگائی جاتی ہے۔ بسا اوقات، اس سے پہلے کہ خدشات حقیقت میں تبدیل ہو، انٹیلیجنس رپورٹ کی بنیاد پر یہ ممالک احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہیں۔
کسی ملک کی طرف سے اس طرح کے اقدامات پر تنقید غیر ضروری اور بے معنی ہے۔
ایسے ہی کچھ اور مسائل ہیں جو سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنتے رہتے ہیں ۔ مثال کے طور پر عقیدہ توحید کے ضمن میں ہمارا مرجع دینی نہ سعودی عرب ہے اور نہ جامعہ ازہر مصر ۔ ہمارے مراجع دینی (١) قرآن مجید جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اور (٢) حدیث شریف یعنی سنت نبوی علیہ الصلوٰۃ والسلام ہے۔ قرآن کی تفسیر میں معاون احادیث نبویہ ہیں اور احادیث نبویہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ذریعے ہم تک پہنچی ہیں اس لئے انہیں ہم معیار حق مانتے ہیں اور یہ بھی مانتے ہیں کہ قرآن و حدیث تک ہماری رسائی میں ہماری بیچ کی کڑی وہی ہیں وہ ایک سلسلہ ذہبیہ یعنی سنہری زنجیر ہیں جس کی ایک کڑی کے کمزور ہوکر ٹوٹنے سے ہم تک جو باتیں پہنچی ہیں وہ غیر معتبر ہو سکتی ہیں ۔
عقیدہ توحید اور تصوف یا بعض وہ اعمال جن کا ذکر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگی میں نہیں ملتا اس بابت اگر کوئی بات ہمارے بزرگوں کی طرف منسوب بھی ہو تو قرآن و حدیث سے متصادم ہونے کی صورت میں ہم اس سے براءت کا اظہار کرتے ہیں اس لئے کہ ہم شخصیت پرستی کے قائل نہیں ہیں ۔ اب وہ شخصیت حاجی امداد اللہ ہوں مولانا رشید احمد گنگوھی یا مولانا تھانوی رحمہم اللہ ہوں۔ ان لوگوں کی طرف منسوب کر کے مسلکی اختلاف کو ہوا دی جاتی ہے اس کی قطعاً ضرورت نہیں ہے یہ صرف اپنے اپنے مسلک کی برتری اور اپنے تشخص قائم اور مضبوط کرنے کے لئے اور عوام کو ایک دوسرے مسلک والوں سے متنفر کرا کر اپنی دکانیں چمکانے کے لئے ہوتے ہیں ۔ مناظرہ کا دور ختم ہوگیا ۔ دین سے زیادہ مسلک کی تبلیغ و ترویج میں اتنی توانائی صرف کرنا کس دین کا مطالبہ ہے !