بخل اور ایمان ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتے۔
شح مال کی لالچ اور بخیلی کو کہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جوانسان مال کا حریص ہوگا اس کے اندر بخل کی صفت پائی جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ بخالت ایمان سے میل نہیں کھاتیں۔ ایمان تو یہ چاہتا ہے کہ آدمی مال کا پجاری نہ بنے، مال کی قدر اس کے نزدیک بقدر ضرورت ہو۔ بلکہ جو کچھ انسان کمائے اس میں سے دین کے پھیلانے ، غریبوں کو کھلانے اور دیگر اسلامی ضروریات پر خرچ کرے۔حد سے زیادہ مال کی چاہت اور مال سمیٹنے کا جذبہ نہ تو دینی ضرورتوں پر خرچ کرنے دیتا ہے اور نہ ہی بے سہارا، لاچار و مجبور بندگانِ خدا پر رحم کرنے دیتا ہے۔
بخل اور ایمان ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتے۔ Read More »