از:- شرف علی بستوی
سابق، سب ایڈیٹر: سہ روزہ دعوت دہلی
کچھ شخصیات اپنے آپ میں ادارہ ہوتی ہیں، مکتبِ فکر ہوتی ہیں، اور اپنے شاگردوں کے لیے چراغ بن جاتی ہیں۔ میرے محسن، میرے مربی، سہ روزہ دعوت کے سابق چیف ایڈیٹر جناب پرواز رحمانی صاحب بھی ایسی ہی ہمہ جہت اور باوقار شخصیت تھے جن کے انتقال سے دل پر ایک گہرا خلا سا پیدا ہو گیا ہے۔
مجھے یہ اعزاز حاصل رہا کہ میں نے ان کی ادارت میں سہ روزہ دعوت میں بطور سب ایڈیٹر تیرہ برس کام کیا ہے ۔ یہ تیرہ برس محض ایک پیشہ ورانہ مدت نہیں تھے بلکہ ایک مسلسل تربیت، فکری بالیدگی اور صحافتی اخلاقیات کی عملی درسگاہ تھے۔ پرواز رحمانی صاحب کے ساتھ کام کرنا دراصل خبر لکھنے، سرخی جمانے یا پروف دیکھنے سے کہیں آگے کا سفر تھا، یہ سچ کے احترام، زبان اور صحافتی ذمہ داری کو سمجھنے کا عمل تھا۔
مرحوم کی سب سے نمایاں خوبی یہ تھی کہ وہ صحافت کو محض روزگار نہیں بلکہ ایک امانت سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک لفظ کا استعمال عبادت کی طرح محتاط اور جواب دہ تھا۔ وہ ہمیں بار بار یہ احساس دلاتے کہ ایک غلط جملہ کسی فرد کی عزت اور ایک غلط سرخی کسی قوم کے ذہن کو مجروح کر سکتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ سخت بھی ہوتے تھے، لیکن ان کی سختی میں خلوص اور اصلاح کا جذبہ نمایاں ہوتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: شخصیت پرستی کی نفسیات اور ہندوستانی مسلمانوں کا المیہ
بطور چیف ایڈیٹر وہ نہ صرف ادارتی پالیسی کے نگہبان تھے بلکہ اپنے رفقا کے مزاج شناس بھی تھے۔ نو آموز ساتھیوں کو پرواز رحمانی صاحب سب کو سیکھنے کا موقع دیتے، غلطیوں کی نشاندہی کرتے اور بہتر کرنے کی راہ دکھاتے۔ ان کی رہنمائی میں کام کرتے ہوئے ہم نے یہ سیکھا کہ اختلاف رائے کیسے شائستگی کے ساتھ کی جا سکتی ہے اور نظریاتی وابستگی کے باوجود صحافتی دیانت کیسے برقرار رکھی جا سکتی ہے۔
سہ روزہ دعوت ان کے لیے صرف ایک اخبار نہیں تھا بلکہ ایک فکری مشن تھا۔ انہوں نے ادارے کی شناخت کو وقار، توازن اور فکری سنجیدگی کے ساتھ جوڑے رکھا۔ ان کی ادارت میں اخبار نے نہ صرف قارئین کا اعتماد حاصل کیا بلکہ ایک ایسے صحافتی معیار کی مثال قائم کی جسے آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔
ذاتی طور پر، میں ان تیرہ برسوں کو اپنی صحافتی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ سمجھتا ہوں۔
سہ روزہ دعوت کے تیرہ برس نے مجھے دنیا کو دیکھنے کی نظر دی، ملت اسلامیہ ہند کے سیاسی، سماجی، اور مذہبی امور کو سمجھنے کا قیمتی موقع دیا، میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ دینک جاگرن، ڈی ڈی نیوز، آل انڈیا ریڈیو نے جہاں مجھے پروفیشنل ایکسپوزر دیا وہیں سہ روزہ دعوت نے فکری نظر عطا کی، مجھے ہمیشہ کہانی کے پیچھے جھانکنے، اس کی گہرائیوں میں اترنے کی ترغیب دی . کہانی کا وہ رخ جو کارپوریٹ میڈیا نظر انداز کردیتا ہے اس کو سامنے لانے اس کا تجزیہ کرنے کی سمجھ دی.
یہ سہ روزہ دعوت سے وابستگی کے اولین دنوں کی بات ہے ایک روز ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا کہ مجھے کیا پڑھنا چاہیے؟ ان کا جواب تھا تمہیں اسلام سمیت دیگر مذاہب کے لٹریچر کے علاوہ فلم، سیاست، کھیل، فنون لطیفہ سب کچھ پڑھنا چاہیے، مجھے خیال تھا کہ وہ مجھے خاص طور پر تحریک اسلامی اور دیگر دینی لٹریچر کی طرف توجہ دلائیں گے کیونکہ وہ تو ایک نظریاتی اخبار کے ایڈیٹر ہیں.
یہ بھی پڑھیں: جب نفرت میرٹ پر غالب آ جائے
پرواز رحمانی صاحب کی شفقت، اعتماد اور رہنمائی نے مجھے پیشہ ورانہ طور پر مضبوط کیا اور فکری طور پر ذمہ دار بنایا۔
سہ روزہ دعوت میں میری خصوصی ذمہ داری انٹرویوز کی رہی میں اس کے ماہانہ فیچر ‘ جائزہ’ کا انچارج تھا میرا کام ملی، ملکی و بین الاقوامی امور جن کا تعلق مسلم دنیا سے ہو ان پر انٹرویوز لینا تھا، شروعات کے دنوں میں کئی ایسی شخصیات سے انٹرویو کے لیے رابطہ کیا جو سہ روزہ دعوت کو اس فکر کی وجہ سے پسند نہیں کرتے تھے وہ اکثر انٹرویو دینے کے لیے تیار ہونے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے میں انہیں اعتماد میں لینے کی کوشش کرتا
ایک روز یہ دشواری پرواز رحمانی صاحب کے سامنے پیش کی، خفیف سی مسکراہٹ کے بعد کہنے لگے تم ان سے کہو کہ آپ کی پوری بات پیش کی جائے گی اس سے آپ بے فکر رہیں، اور ہمیشہ ایسا ہی ہوتا کہ جس نے اپنی جو رائے دی اسے اسی طرح پیش کی گئی جب تک جائزہ نکلا کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی نے یہ شکایت کی ہو کہ میرے انٹرویو کو ایڈٹ کر دیا گیا.
جب جنوری 2013 میں جائزہ بند ہوا تو مجھے ڈیسک پر ذمہ داری دی، اب میرا کام ہر شمارے کے لیے ایک تبصرہ لکھنا اور صفحہ نمبر 6 جو متفرق خبروں کے لیے مختص تھا ، میرا کام اس صفحہ کے لیے ملی و سماجی سرگرمیوں کی خبریں دینا تھا، ایک روز مجھے بلا کر واضح طور پر نصیحت کی اشرف میاں تمہیں خبریں تیار کرتے وقت یہ خیال رہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے کسی بھی مسلکی گروپ کی اہم سرگرم چھوٹنے نہ پائے سب کو رپورٹ کرو، درمیان میں کئی بار ایسا ہوا کہ کسی مسلم گروپ کی جانب سے کوئی سیاسی سرگرمی ایسی ہوئی جس پر چہار جانب تنقید ہو رہی ہے اور اصولی طور پر بھی درست موقف نہیں ہے میں نے بھی اسے اپنے تبصرے کا موضوع بنایا اور تنقید میں ذرا آگے نکل گیا تو انہوں نے فورا ٹوک دیا یہ طریقہ درست نہیں، ملت کا ہر فرد اور ہر تنظیم ہمارے لیے اہم ہے، ہم ملت اسلامیہ ہند میں ہر گز انتشار پھیلانے والا رویہ نہیں اختیار کر سکتے اس سے بچو۔
یہ بھی پڑھیں: دی للن ٹاپ، سوروبھ دویدی اور ایک بنیادی سوال
کیا کیا یاد کروں ایک طویل داستان ہے، انہوں نے ہمیں ہر حال میں صحافتی دیانت داری کو برقرار رکھنے کا جو سبق پڑھایا تھا، آج بھی اسی کمٹمنٹ کے ساتھ جینے کی کوشش جاری ہے.
آج جب وہ ہمارے درمیان موجود نہیں رہے، تو یہ احساس اور بھی گہرا ہو جاتا ہے کہ ہم نے کس قدر عظیم استاد اور سرپرست کھو دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ جناب پرواز رحمانی صاحب کی مغفرت فرمائے، ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور انہیں جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ان کی یادیں، ان کی تربیت اور ان کی دی ہوئی اقدار ہمیشہ ہمارے قلم اور ہمارے رویّوں میں زندہ رہیں گی۔