رمضان المبارک کی بابرکت تیاری اور ہماری ذمہ داریاں

از:- محمد عادل ارریاوی

_________________

محترم قارئین! رمضان المبارک اللہ ربّ العزت کی عظیم نعمت اور رحمتوں والا مہینہ ہے یہ وہ مبارک وقت ہے جس میں نیکیوں کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے اور بندے کو اپنے رب کے قریب ہونے کا بہترین موقع ملتا ہے اس بابرکت مہینے کی تیاری جتنی اچھی ہوگی فائدہ بھی اتنا ہی زیادہ ہوگا اس لیے ضروری ہے کہ رمضان کی آمد سے پہلے ہم خود کو روحانی جسمانی اور عملی طور پر تیار کریں۔

رمضان المبارک کا مہینہ مجموعی فضیلت کے اعتبار سے تمام مہینوں کا سردار ہے یہ وہ مبارک مہینہ ہے جس میں قرآن کریم نازل ہوا اس مہینے میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر قرار دی گئی ہے اور اس رات کا نام لیلۃ القدر ہے لیلۃ القدر کی فضیلت بیان کرنے کے لیے قرآن مجید میں مکمل ایک سورت نازل کی گئی ہے جس کا نام سورہ قدر ہے رمضان المبارک کا مہینہ لوگوں کے حق میں مغفرت کا پروانہ حاصل کرنے اپنے رب کو راضی کرنے اور اپنے گناہوں کو بخشوانے کی بنیاد ہے۔

اس ماہ مبارک میں روزے اس لیے فرض کیے گئے تاکہ لوگوں میں تقوے اور طہارت و پاکیزگی کی صفت پیدا ہو اور پھر یہ صفت انسان کے لیے آنے والے گیارہ مہینوں میں عمل صالح کا محرک اور عبادت الہی کی راہوں پر چلنے کے لیے زینہ بنے۔ رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ ہر سال رحمتوں اور برکتوں کو لے کر لوگوں کے سروں پر سایہ فگن ہوتا ہے اور شروع ہو کر بڑی تیزی سے ختم ہو جاتا ہے محروم القسمت اور ناقدر لوگ بالعموم اس ماہ کے فیضان سے محروم رہ جاتے ہیں جب کہ خوش قسمت اور قدردان لوگ مغفرت اور بخشش کی سند کا پروانہ پالیتے ہیں اور دنیاوی اور اخروی برکتیں اور سعادتیں سمیٹ لیتے ہیں خوش قسمت لوگ رمضان المبارک کی آمد سے پہلے ہی اس مہینے کا انتظار اور اس کے استقبال کی تیاری شروع کر دیتے ہیں مگر قسمت کے ماروں اور کم نصیبوں کو جوں ہی معلوم ہوتا ہے کہ رمضان کا مہینہ آرہا ہے تو وہ رمضان کی مکمل تیاری کرنے لگتے ہیں اور روزوں کی وجہ سے اپنی خواہشات اور تقاضوں پر پابندی کی فکر سوار ہو جاتی ہے۔
شعبان کا مہینہ دراصل رمضان کی تیاری کا مہینہ ہے رمضان المبارک کا مہینہ گزرنے کے بعد ایک لمبا اور طویل عرصہ درمیان میں آجانے کی وجہ سے رمضان کے روزوں سے پیدا شده تقوے اور طہارت اور ایمان کی حرارت میں جو کمی آجاتی ہے شعبان کا مہینہ اس تقوے اور حرارت میں حرکت پیدا کرنے کا زمانہ ہے جس طرح لمبے وقت سے کھڑی ہوئی گاڑی کو چلانے سے پہلے اسٹارٹ کر کے کچھ دیر گرم کرنے اور انجن کو حرارت پہنچانے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اس حرارت کے بعد گاڑی کا مطلوبہ رفتار سے چلنا آسان ہو اور یک بار انجن پر زور اور دباؤ پڑنے کی وجہ سے پیش آنے والے نقصان اور سفر کی مشکلات سے بچنے کا انتظام اور انجن میں برداشت کی قوت پیدا ہو اسی طرح شعبان کا مہینہ رمضان المبارک کی نیکیوں اور تقوی و طہارت کے تحمل کی صلاحیت اپنے اندر پیدا کرنے کا عبوری زمانہ ہے جو شخص شعبان کے مہینے میں عمل صالح پر مواظبت اور بد عملیوں سے اجتناب کر کے ایمانی اسٹیم اپنی روح و بدن کو بہم پہنچا کر سرگرم و فعال ہو جاتا ہے اس کو رمضان المبارک میں نیکی و تقوے کے بلند درجات کا سفر کرنے میں مشکلات پیش نہیں آتیں اور اس کے برعکس جو شخص اس مہینے میں رمضان کی تیاری نہیں کرتا اور گناہوں میں مبتلا رہتا ہے اس کے حق میں یک بارگی رمضان کا مہینہ شروع ہو جانے سے مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں۔

لہذا ہمیں چاہیے کہ زندگی کے قیمتی لمحات کو غنیمت شمار کرتے ہوئے رمضان المبارک کے لیے پہلے سے تیاریاں شروع کر دیں رمضان سے پہلے سب سے اہم کام اپنی نیت کو خالص کرنا ہے سچے دل سے توبہ کریں پچھلی کوتاہیوں پر ندامت محسوس کریں اور آئندہ بہتر زندگی گزارنے کا عزم کریں اللہ ربّ العزت توبہ کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے اس لیے رمضان سے پہلے دل کو صاف کرنا بہت ضروری ہے۔

رمضان کو قرآن کا مہینہ کہا جاتا ہے اس لیے بہتر ہے کہ رمضان سے پہلے ہی تلاوت کی عادت بنائیں روزانہ تھوڑا وقت قرآن مجید کی تلاوت اور ترجمہ سمجھنے کے لیے مخصوص کریں تاکہ رمضان میں آسانی ہو اور دل میں شوق پیدا ہو رمضان کی آمد سے پہلے ہی اپنے تمام گناہوں سے سچی توبہ کیجیے اور سچی توبہ کے لیے تین باتوں کا لحاظ کیجیے ایک تو یہ کہ گزرے ہوئے گناہوں پر افسوس اور شرمندگی دل میں ہو اور ساتھ ہی جن چیزوں کی قضاء ضروری ہے خواہ وہ اللہ کے حقوق ہوں جیسے قضاء نمازیں روزے زکاۃ حج قربانی صدقہ فطر قسم کا کفارہ جائز منت وغیرہ ان کو حسب قدرت ادا کیجیے اور خواہ بندوں کے حقوق ہوں جیسے قرض و لین دین میراث کسی بھی قسم کا دوسرے کا جانی و مالی نقصان اور ایذاء رسانی وغیرہ ان کو ممکنہ حد تک ادا کرنے کی کوشش کیجیے یا حق دار سے معافی حاصل کیجیے دوسری یہ کہ توبہ کرتے وقت ان گناہوں کو چھوڑ دیجیے اور ان سے الگ ہو جائیے تیسری یہ کہ تو بہ کرنے کے وقت آئندہ کے لیے ان گناہوں کو نہ کرنے کا پختہ ارادہ کر لیجیے۔ اگر خدانخواستہ نماز کی پابندی نہیں کی ہے تو پانچوں وقت نماز کی پابندی کا اہتمام کیجیے ہر قسم کی بدعات و خرافات اور رسومات وغیرہ سے بچنے کی فکر کیجیے۔ دنیاوی مشاغل اور مصروفیات کو کم کرنے کی کوشش کیجیے تا کہ رمضان کے سیزن میں زیادہ سے زیادہ وقت لگا کر آخرت کی خوب کمائی کی جاسکے اگر کسی سے ناراضگی یا رنجش ہے تو اسے ختم کریں معاف کرنا اور معافی مانگنا دل کو ہلکا کر دیتا ہے
رمضان رحمت اور مغفرت کا مہینہ ہے اس لیے کوشش کریں کہ اس میں داخل ہونے سے پہلے دل میں کسی کے لیے کینہ نہ ہو۔ رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ شروع ہونے کے لیے 29 شعبان ہی کی شام کو رمضان کا چاند دیکھنے کا اہتمام و کوشش کیجیے کیونکہ یہ بھی عبادت ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ رمضان المبارک کا چاند نظر بھی آجائے اور ہمیں خبر ہی نہ ہو اور اس طرح غافل لوگوں میں شمار نہ ہو جائیں رمضان المبارک کے چاند کے متعلق جمہور مسلمانوں کی رفاقت اختیار کیجیے اور اگر مسلمانوں کا ملک ہے تو حکومت کی طرف سے مقرر کردہ کمیٹی کے فیصلہ پر عمل کیجیے۔ جب رمضان المبارک کا چاند نظر آجائے یا چاند نظر آنے کا فیصلہ ہو جائے تو سمجھ لیجئے کہ رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ شروع ہو گیا ہے اور انتظار کی گھڑیاں ختم ہو چکی ہیں اس پر جتنا بھی ہو سکے اللہ ربّ العزت کا شکر ادا کیجیے اور اس مہینے کی قدر کرنے کی توفیق حاصل ہونے کی رب تعالیٰ کے حضور دعاء کیجیے۔ یاد رکھئے کہ رمضان المبارک کا مہینہ چاند نظر آنے پر مغرب کے بعد ہی سے شروع ہو جاتا ہے لہذا 29 شعبان کو ہی آپ کی رمضان المبارک کے لیے بھر پور تیاری ہو جانا چاہیے پہلے سے تراویح اور قرآن مجید صحیح سنانے والے مناسب امام کی اقتداء میں تراویح میں قرآن سننے کا انتظام کیجیے جو حافظ نماز تراویح اور قرآن مجید بہت تیز پڑھتے ہیں اور نماز و قرأت کے اصولوں کا لحاظ نہیں کرتے اور انھیں مسائل کی بھی واقفیت نہیں ہوتی یا ان کی وضع قطع شریعت کے مطابق نہیں ہوتی ان سے احتراز رکھنے میں ہی سلامتی و عافیت ہے۔ رمضان صدقہ و خیرات کا بہترین موقع ہے اگر آپ پر زکوٰۃ فرض ہے تو اس کا حساب پہلے سے لگا لیں مستحقین کی فہرست بنائیں تاکہ رمضان میں آسانی سے ادائیگی ہو سکے۔ ضرورت مندوں کی مدد کا ارادہ کریں تاکہ آپ کا رمضان دوسروں کے لیے بھی خوشیوں کا سبب بنے۔

اللہ ربّ العزت ہمیں رمضان کی صحیح قدر کرنے اور اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین ۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔