سیل رواں ڈیسک:
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ اسی دوران امریکی پابندیوں میں 30 دن کی عارضی چھوٹ ملنے کے بعد بھارت کے لیے روسی تیل خریدنے کی راہ تو کھلی، مگر ادائیگی کے معاملے پر نئی مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔ بھارت کا سب سے بڑا سرکاری بینک اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) فی الحال روسی تیل کی ادائیگی کو پروسیس کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق بینک کو یہ واضح نہیں ہے کہ یہ چھوٹ کب تک برقرار رہے گی، اسی لیے وہ روسی تیل کی خریداری سے متعلق ادائیگیوں کو آگے بڑھانے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہا ہے۔
بلومبرگ (معروف بین الاقوامی خبری اور مالیاتی معلومات فراہم کرنے والا ادارہ ) کو ذرائع نے بتایا ہے کہ بینک کو خدشہ ہے کہ اس طرح کے لین دین میں شامل ہونے سے اسے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، کیونکہ عالمی مالیاتی منڈی میں اس کے بین الاقوامی قرضوں کی مالیت کافی زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ بینک کو اپنی ساکھ متاثر ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔ ذرائع نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ معلومات فراہم کی ہیں۔
ایس بی آئی کے اس مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ امریکہ نے روسی تیل کی خریداری کے لیے بھارت کو 30 دن کی مہلت دے دی ہے، لیکن اس کے باوجود روسی تیل کی خریداری آسان نہیں ہوگی۔ مالیاتی بینکنگ نظام کے بغیر اس تجارت کو عملی شکل دینا مشکل ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق اکتوبر میں روس کی دو بڑی تیل کمپنیوں روسنیفٹ(Rosneft) اور لوک آئل ( Lukoil ) پر امریکی پابندیاں عائد ہونے کے بعد ہی ایس بی آئی روسی تیل کی درآمد سے متعلق کسی بھی لین دین میں شامل ہونے سے گریز کر رہا ہے۔
البتہ گزشتہ سال کے آخر میں بھارت کے کچھ بینک روسی تیل کی خریداری کے لیے فنانسنگ پر غور کرنے کو تیار ہو گئے تھے، بشرطیکہ تیل کسی بلیک لسٹڈ کمپنی سے نہ خریدا جائے اور تمام پابندیوں کے ضوابط پر عمل کیا جائے۔
دوسری جانب ایران پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں بے چینی مزید بڑھ گئی ہے۔ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کیے تھے، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
ایران نے خطے میں دباؤ بڑھانے کے لیے اہم سویلین انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم آبنائے ہرمز کو بھی ایران نے بند کر دیا ہے، جبکہ سعودی عرب کی تیل کمپنی آرامکو کی ریفائنریوں پر بھی حملے کیے گئے ہیں۔
ادھر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے تیل کے ٹھکانوں پر بڑے حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں تیل اور گیس کے مراکز پر ایرانی حملوں میں تیزی آ گئی ہے۔
بڑھتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی تناؤ کے درمیان امریکہ اپنے تجارتی مفادات کو محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایس بی آئی کے بین الاقوامی قرضوں میں امریکہ کا نمایاں حصہ ہے۔ دسمبر کے آخر تک بینک کے 6.93 ٹریلین روپے (تقریباً 75.1 ارب ڈالر) کے بین الاقوامی قرضوں میں سے تقریباً 26 فیصد حصہ امریکہ سے متعلق تھا۔