طاہر فراز بھی چلے گئے

از:- معصوم مرادآبادی

زندگی تیرے تعاقب میں ہم
اتنا چلتے ہیں کہ مرجاتے ہیں

اس مقبول عام شعر کے خالق طاہر فراز بھی ہم سے جدا ہوگئے۔آج صبح کی اولین ساعتوں میں یہ دردناک خبر ملی تو دل بیٹھ سا گیا ۔ مترنم لہجے کے البیلے شاعر طاہر فراز بظاہر مشاعروں کے مقبول ترین شاعر تھے لیکن ان کا شعری آہنگ آج کے مشاعروں سے بہت بلند تھا ۔

کاش ایسا کوئی منظر ہوتا
میرے کاندھے پہ ترا سر ہوتا
وہ جو ٹھوکر نہ لگاتے مجھ کو
میں کسی راہ کا پتھر ہوتا

طاہر فراز دبستان رامپور کے نمائندہ شاعر تھے۔ ان کی پیدائش 29 جون 1953 کو بدایوں کی اسی سر زمین میں ہوئی جو شاعری کے لیے بڑی زرخیز مانی جاتی ہے ۔انھوں نے اپنا شعری سفر بڑے اعتماد اور وقار کے ساتھ طے کیا ۔
طاہر فراز نے عروس البلاد ممبئی میں آخری سانس لی جہاں وہ ایک نجی تقریب میں شرکت کرنے گئے تھے ۔ ان کا انتقال دل کا دورہ پڑنے سے ہوا ۔ ان کے شعری مجموعے ” کشکول” کو بڑی پزیرائی ملی ۔
طاہر فراز کے لب و لہجہ میں جو سادگی تھی وہی ان کی شخصیت کا پرتو بھی تھا ۔ پچھلے دنوں مجھے راہ چلتے ہوئے دہلی کے نظام الدین علاقے میں ملے تو دیر تک باتیں کرتے رہے۔ کہنے لگے مشاعروں میں شرکت کے لیے فلائٹ پکڑنے بار بار دہلی آنا پڑتا ہے، اس لئے اوکھلا میں ایک فلیٹ لے لیا ہے تو بڑی آسانی ہے۔
طاہر فراز مشاعروں میں بڑے پرسوز ترنم سے اپنا کلام سناتے تھے اور جب وہ گویا ہوتے تو سناٹا چھا جاتا تھا ۔ ان کی غزلوں میں تہذیب بھی تھی ، درد بھی تھا اور سچائی بھی ۔ ان کی آواز میں ایک کشش اور کاٹ تھی

وہ سر بھی کاٹ دیتا تو ہوتا نہ کچھ ملال
افسوس یہ ہے کہ اس نے مری بات کاٹ دی

کیسے مانوں کہ زمانے کی خبر رکھتی ہے
گردش وقت تو بس مجھ پہ نظر رکھتی ہے

طاہر فراز کے پاس اپنی بات کہنے کا جو ہنر تھا وہ ہمارے ہاں کم شاعروں کے پاس ہے ۔

وقت رخصت آئے گا اور ختم ہوگا یہ سفر
میرے دل کی بات میرے دل میں رہ جائے گی

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔