امتِ مسلمہ کا بحران: خود احتسابی اور مقصدیت کا فقدان اور غلط ترجیحاتِ زندگی

از: سید شعیب حسینی ندوی

عصرِ حاضر میں امتِ مسلمہ جن پیچیدہ اور کٹھن حالات سے گزر رہی ہے، وہ کسی ایک خطے یا ملک تک محدود نہیں، بلکہ عالمی سطح پر مسلمانوں کی اجتماعی صورتِ حال فکری، تعلیمی اور تہذیبی کمزوری کی عکاس بن چکی ہے۔ خصوصاً برِ صغیر، اور بالخصوص ہندوستان میں مسلمانوں کو جن سماجی اور سیاسی دباؤ کا سامنا ہے، وہ محض خارجی عوامل کا نتیجہ نہیں، بلکہ اس کے پس منظر میں کئی داخلی اسباب بھی کارفرما ہیں۔ ان اسباب کا سنجیدہ اور غیر جذباتی تجزیہ وقت کی ایک اہم فکری ضرورت ہے۔
اگر ان حالات کے بنیادی محرکات پر غور کیا جائے تو بادی النظر میں اسباب کی ایک طویل فہرست سامنے آتی ہے، لیکن ان سب کے درمیان دو ایسے پہلو نمایاں ہیں جو اس بحران کی جڑ میں پیوست دکھائی دیتے ہیں: فرضِ منصبی سے غفلت اور زندگی میں مقصدیت کا فقدان۔

فرضِ منصبی سے غفلت اور خود احتسابی کا فقدان:
اسلام نے امتِ مسلمہ کو محض ایک مذہبی گروہ کے طور پر نہیں، بلکہ ایک ذمہ دار اجتماعی قوت کے طور پر متعارف کرایا تھا۔ قرآن مجید امت کو خیر امت قرار دے کر اسے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ذمہ داری سونپتا ہے۔ اس کا لازمی تقاضا یہ تھا کہ امت اپنے اعمال، رویّوں اور ترجیحات کا مسلسل احتساب کرتی رہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ ہم اس اجتماعی ذمہ داری سے بتدریج غافل ہوتے چلے گئے۔

آج صورتِ حال یہ ہے کہ امت نہ تو عالمی سطح پر اخلاقی گواہی کا فریضہ ادا کر پا رہی ہے اور نہ ہی داخلی طور پر اپنا خود محاسبہ کرنے کے لیے آمادہ نظر آتی ہے۔ جب خود احتسابی ختم ہو جائے تو فکری جمود جنم لیتا ہے، اور یہی جمود بالآخر زوال میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ قوموں کا زوال ہمیشہ بیرونی یلغار سے پہلے اندرونی کمزوری سے شروع ہوتا ہے۔

غفلت، اسراف اور بے مقصد زندگی کا المیہ:

دوسرا بنیادی مسئلہ ہماری اجتماعی زندگی میں مقصدیت کے فقدان کا ہے۔ غفلت، لاابالی پن اور وقتی لذتوں نے ہماری ترجیحات کو اس حد تک مسخ کر دیا ہے کہ ہم نے اپنی صلاحیتوں، وسائل اور وقت کو بے سمت مشاغل میں ضائع کرنا معمول بنا لیا ہے۔ خاص طور پر اسراف ہماری معاشرتی زندگی کا ایک نمایاں اور خطرناک پہلو بن چکا ہے۔

شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں بے تحاشا خرچ، محض سماجی دباؤ یا تفاخر کے تحت، اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم نے دولت کو تعمیر کے بجائے نمائش کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ نوجوان اپنی پوری جمع پونجی، بلکہ اپنی زندگی کی معاشی منصوبہ بندی تک، چند رسمی تقریبات کی نذر کر دیتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف انفرادی سطح پر نقصان دہ ہے بلکہ اجتماعی اعتبار سے بھی قوم کی معاشی اور فکری بنیادوں کو کمزور کرتا ہے۔

تعلیم اور اجتماعی ذمہ داری میں عدم توازن:

اس کے برعکس جب ہم تعلیم کے میدان کا جائزہ لیتے ہیں تو ایک واضح تضاد سامنے آتا ہے۔ تعلیم، جو کسی بھی قوم کی فکری خود مختاری اور سماجی استحکام کی بنیاد ہوتی ہے، ہمارے اجتماعی اہتمام میں ثانوی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ تعلیمی مقابلے دن بہ دن سخت تر ہوتے جا رہے ہیں، مگر ان کے لیے اجتماعی سرمایہ کاری، وظائف، تعلیمی اداروں کی سرپرستی اور باہمی تعاون نہایت محدود ہے۔

اگر اسرافی تقریبات پر ہونے والے اخراجات کا موازنہ تعلیمی اور فکری منصوبوں پر خرچ ہونے والی رقم سے کیا جائے تو یہ فرق نہایت افسوس ناک حد تک واضح ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر انہی فضول مصارف کا نصف بھی منظم انداز میں تعلیم، تحقیق اور فکری تربیت پر صرف کر دیا جائے تو امت کی سماجی اور تعلیمی صورتِ حال میں بنیادی تبدیلی ممکن ہے۔
اصلاحِ فکر اور اجتماعی شعور کی ضرورت
اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں، بلکہ ترجیحات کی غلط ترتیب ہے۔ جب تک امت کا اجتماعی شعور بیدار نہیں ہوگا، اور جب تک فکر و نظر کی اصلاح نہیں کی جائے گی، محض شکوہ اور ردِ عمل سے حالات تبدیل نہیں ہو سکتے۔ اصلاح کا آغاز فرد سے ہوتا ہے، مگر اس کا ثمرہ اجتماع میں ظاہر ہوتا ہے۔

قرآن مجید کا اصول واضح اور غیر مبہم ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنے کا ارادہ اور عملی اقدام نہ کرے۔ یہ آیت محض ایک وعظ نہیں بلکہ تاریخ اور سماج کا ایک مستقل قانون ہے۔

حاصل کلام:

امتِ مسلمہ کا موجودہ بحران ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم جذباتی نعروں کے بجائے سنجیدہ فکری محاسبہ کریں۔ خود احتسابی، مقصدیت، تعلیم کی ترجیح اور اجتماعی ذمہ داری، یہ وہ ستون ہیں جن کے بغیر کوئی بھی قوم اپنے وجود کو مؤثر اور باوقار نہیں بنا سکتی۔ اگر ہم نے اپنی ترجیحات درست کر لیں اور وسائل کو تعمیرِ ملت کے لیے استعمال کرنا سیکھ لیا، تو زوال کا یہ سفر ایک نئی بیداری میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔