کانگریس کا شرم ناک رویہّ!
کانگریس کا شرم ناک رویہّ!

✍️شکیل رشید (ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز) ___________________ لوک سبھا کے انتخابات میں اپنی ’بہترکامیابی‘ کے بعد کانگریس نے ایک اور ’ تیر مارلیا ہے ‘۔ کانگریس کی ترجمان سپریا شرینیت نے مودی حکومت کی ایک مہینے کی کارکردگی پر رپورٹ کارڈ پیش کیا ہے ، جس میں مرکزی سرکار کوآڑے ہاتھوں لیا ہے ۔ یہ […]

کانگریس کا شرم ناک رویہّ!
غم جہاں سے نڈھال سراپا درد و ملال!!
غم جہاں سے نڈھال سراپا درد و ملال!!

✍️ جاوید اختر بھارتی محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یو پی _____________ دینی ، سیاسی ، سماجی اور تعلیمی مضامین اکثر و بیشتر لکھا جاتاہے اور چھوٹے بڑے سبھی قلمکار لکھتے رہتے ہیں مگر ضروری ہے کہ کچھ ایسے موضوع بھی سامنے آئیں جو حقائق پر مبنی ہوں یعنی آپ بیتی ہوں مرنے کے بعد تو […]

غم جہاں سے نڈھال سراپا درد و ملال!!
جمہوری سیکولر سیاست میں دھرم کی مداخلت: ہندوستانی تناظر میں
جمہوری سیکولر سیاست میں دھرم کی مداخلت: ہندوستانی تناظر میں

✍️ محمد شہباز عالم مصباحی ____________ جمہوریت کا مفہوم ہی اس بات پر منحصر ہے کہ عوامی رائے کو فیصلہ سازی میں اولیت دی جائے اور ہر شہری کو یکساں حقوق اور مواقع فراہم کیے جائیں۔ سیکولرزم، جمہوریت کی بنیاد کو مضبوط کرتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست کو مذہبی معاملات میں […]

جمہوری سیکولر سیاست میں دھرم کی مداخلت: ہندوستانی تناظر میں
کیجریوال کا قصور
کیجریوال کا قصور

✍️ مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھاڑکھنڈ ________________ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کی پریشانیاں دن بدن بڑھتی جارہی ہیں، نچلی عدالت سے ضمانت ملتی ہے، ہائی کورٹ عمل در آمد پر روک لگا دیتا ہے، سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرتے ہیں، اس کے قبل ہی […]

کیجریوال کا قصور
این جی اوز اور فلاحی اداروں میں علماء کا رول
این جی اوز اور فلاحی اداروں میں علماء کا رول

✍️ نقی احمد ندوی ________________ اس میں کوئی شک نہیں کہ علماء و فارغینِ مدارس اور طلباء کے اندر قوم و ملت اور ملک کی خدمت کا جو حسین جذبہ پایا جاتا ہے وہ عصری تعلیم گاہوں کے فارغین کے اندر عنقا ہے۔ این جی اوز اور فلاحی ادارے ان کے اس حسین جذبہ استعمال […]

این جی اوز اور فلاحی اداروں میں علماء کا رول
previous arrow
next arrow
Shadow

زمینی حقائق کی روشنی میں اقدامات کریں

زمینی حقائق کی روشنی میں اقدامات کریں

ڈاکٹر ظفرالاسلام خان

ہمارے یہاں دو طرح کی تقریریں ہوتی ہیں۔ ایک مرثیہ خوانی ہوتی ہے جس میں ہم اپنی بےبسی اور اغیار کی سازشوں کا رونا روتے ہیں اور اپنی کمیوں، کوتاہیوں اوراپنے مسائل کی ذمےداری دوسروں کے سر پر ڈال کر مطمئن ہوجاتے ہیں۔ کبھی یہ تقریریں مغرب اور اسرائیل کے خلاف ہوتی ہیں تو کبھی اپنے ملک میں شدت پسند غیر مسلمین کے بارے میں۔ ہماری دوسری تقریریں ہوش سے عاری، جوشیلی تقریریں ہوتی ہیں جن میں ہم دھواں دھار لفاظی کرکے بڑے بڑے دعوےکرتےہیں کہ ہم یہ کر دیں گے اور وہ کر دیں گے ۔ لیکن یہ وقتی جوش جھاگ کی طرح ہوا میں بکھر جاتا ہے ، بات وہیں ختم ہو جاتی ہے اور اصل مسئلے جوں کے توں قائم رہتے ہیں۔ ہماری تحریریں بھی کچھ اسی قسم کی ہوتی ہیں۔

یہ دونوں طریقے غلط ہیں اور کبھی بھی ہمیں اچھے نتائج کی طرف نہیں لے جاسکتے ہیں بلکہ یہ صرف ہماری بےبسی کو مزید اجاگر کرتے ہیں اور ہماری ہمت کو پست کر دیتے ہیں۔ اس کے برعکس ہم کوحقیقت پسندی کے ساتھ اپنے حالات، اپنی قوت اور اپنی کمیوں کا جائزہ لینا چاہئے اور قوم کے سامنے ایک عملی لائحۂ عمل رکھنا چاہئے جس سے مستقبل بعید میں ہمارے حالات بہتر ہو سکیں۔ اس قسم کے حقیقت پسندانہ جائزے کا لازماً حصہ یہ بھی ہونا چاہئے کہ ہمیں اپنے حالات کو بدلنے کے لئے کیا کرنا چاہئے۔ اس نقطۂ نظر سے جب ہم اپنے حالات کاجائزہ لیتے ہیں تو ہم کو لگتا ہے کہ ہم مسلسل کئی صدیوں سے اپنے مسائل کا علاج غلط طریقے سے کر رہے ہیں۔

پچھلی تین صدیوں سے حالات کی ڈور دھیرے دھیرے ہمارے ہاتھ سے نکلتی جا رہی ہے۔ ہر اگلا سال پچھلے سال سے مزید خراب ہوتا ہے۔اس کے کچھ بنیادی اسباب ہیں۔ اس میں نمبر ایک بدلتے ہوئے حالات کو نہ سمجھنا اور بالخصوص جدید تعلیم کو نہ اپنانا ہے۔ اس میں دوسرا مسئلہ اپنے ماحول کو سمجھنے میں غلطی اور باہر سے مدد کی خواہش ہے۔ تیسرا مسئلہ اپنے ملک کے اندر موجود اکثریت سے عمدہ تعلقات قائم کرنے میں ناکامی اور چوتھا مسئلہ آپس میں اتحاد کا فقدان ہے۔ یہ سب وجوہات مل کر ایک ایسا معجون مرکب (کوکٹیل )بناتے ہیں جس کے نتیجہ میں ہم کو وہی ملنا چاہئے تھا جس سے ہم آج یا کم از کم ۱۹۴۷ سے دوچار ہیں۔

آئیے اپنے ماضی قریب پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ جب آکسفرڈ اور کیمبرج یونیورسٹیاں بن رہی تھیں، اس وقت ہمارے ملک میں شاہ جہاں اپنی بیوی کے لئے تاج محل بنوا رہا تھا اور اپنےدربار کے لئے تختِ‌طاؤس جس کی لاگت آج کے لحاظ سے ایک ہزار ملین ڈالر تھی۔اس جیسا مہنگا فن پارہ artefact سن ۱۰۰۰ء اور ۱۹۹۹ ءکے درمیان یعنی ایک ہزار سال کے دوران نہیں بنا۔ اس وقت پرتگالی سمندروں پر قابض ہو رہے تھے اور سمندروں پر ہمارے تجارتی قبضے کو ملیامیٹ کر رہے تھے، لیکن بے تحاشا مادی دولت ہونے کے با وجود مغلوں نے سمندری بیڑہ نہیں بنایا۔ مختلف یوروپین ملکوں کے لوگ ہمارے ملک کے مختلف حصوں پر دھیرے دھیرے قابض ہورہے تھے۔ ان میں پرتگالی، فرانسیسی، ولندیزی اور انگریز شامل تھے۔ہم نےا ن کو بڑاا مسئلہ نہیں سمجھا یہاں تک کہ وہ سیاسی حکمراں بن بیٹھے اور تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ پرنٹنگ پریس کے ذریعے یوروپ میں پندرہویں اور سولہویں صدی میں اُسی طرح کا معلوماتی اور علمی انقلاب آرہا تھا جیسا آج انٹرنٹ کے ذریعے آیا ہے۔ لیکن اکبر، جہانگیر ، شاہجہاں اور اورنگزیب کو پرنٹنگ پریس کا خیال نہیں آیا جبکہ ترکوں نے اس کو عرصۂ‌دراز تک حرام قرار دیا۔ میگناکارٹا (۱۲۱۵ء) اور فرانسیسی انقلاب (۱۷۸۹) کے ذریعے ایک نیا سیاسی انقلاب آرہا تھا جس میں حاکم کے بجائے افراد یا سروں کی قوت اور اہمیت ہوتی ہے۔ اس وقت ہمارے حاکموں نے صرف اشارہ کیا ہوتا تو سارے دلت، ادیواسی اور قبائلی مسلمانوں ہوگئے ہوتے اور آج کے جمہوری کھیل میں ہم بازی نہ ہارتے۔

ہر نتیجہ،صحیح یا غلط، کسی صحیح یا غلط عمل کی پیداوار ہوتا ہے۔ کیا آج جو ہماری اتنی بڑی کمیونٹی کے ساتھ ہو رہا ہے وہ صرف دوسروں کی مکاری اور سازش ہے؟ نہیں! ہماری پچھلی دو تین سو سال کی تاریخ حماقتوں سے بھری ہوئی ہے۔ انگریزوں کے پیر جمانے میں ہماری حماقتوں اور غداریوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ جنوبی ہند اور بنگال میں انگریزوں کی کامیابیوں میں کچھ مسلمانوں اور ہمارے ہم وطن لوگوں کی غداریوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ پھر جب ۱۸۵۷؍ میں انگریزوں کو نکال پھینکنے کا وقت آیا تو اس وقت بھی ہمارے کچھ لوگوں نے انگریزوں کا ساتھ دیا اور یہ وہ۵۲۰؍نواب اور راجہ مہا راجہ تھے جن کی حکومتیں ۱۹۴۷ تک قائم رہیں۔ خود۱۸۵۷ کے مجاہدین کی صفوں میں غدار موجود تھے جو انگریزوں کو پل پل کی خبریں پہنچارہے تھے اور اندر سے انقلاب کو کھوکھلا کر رہے تھے۔ یہی نہیں بلکہ خود مجاہدین کے درمیان اقتدار کی لڑائی ہو رہی تھی کہ کون فوج کا کمانڈر بنے اور مالیات کس کے پاس ہو۔

۱۸۵۷ کی تحریک کی ناکامی کے بعد ایک حقیقی مردمجاہد سید احمد خان نے بڑی محنت کرکے انگریزوں کا غصہ ٹھنڈا کیا،مسلمانوں کو ایک نئے تعمیری راستے پر ڈالا اور ان کو تعلیم کی طرف متوجہ کیا، جس کی وجہ ان کو اپنی ہی قوم سے گالیاں اور چپل کھانے پڑے۔ ان کا بنایا ہوا کالج آج ایک بڑی یونیورسٹی میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اس مثبت تحریک کا اثر پورے برّصغیر پر پڑا اور ایک طرح کی تبدیلی آئی لیکن وہ تبدیلی مکمل نہیں تھی۔ اس کے بعد بھی ہمار ا مذہبی حلقہ انگریزی زبان اور جدید علوم کو حرام ہی کہتا رہا۔

۱۸۵۷ اور اس بعد کے سالوں میں بری طرح پٹائی کے باوجود ہماری قوم جوشیلے لیڈروں کے پیچھے تب سے اب تک بھاگ رہی ہے۔ کبھی ۱۹۲۰ کی تحریک ہجرت تو کبھی تحریک خلافت تو کبھی تحریک پاکستان اور آزادی کے بعد تحریک شاہ بانو اور بابری مسجد کی تحریک ……… یہ سب جوشیلی تحریکیں تھیں جن کا زمینی حالات اور حقائق سے بہت کم تعلق تھا۔

میں یہ بالکل نہیں کہہ رہا ہوں کہ شاہ بانو اور بابری تحریکوں کا جو حشر ہوا وہی ہونا چاہئے تھا۔ یقینا ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا۔ لیکن ہم کو معلوم ہونا چاہئے تھا کہ سیاسی اور قانونی حقوق زمینی حقائق سے الگ وجود نہیں رکھتے ہیں۔ ان مسائل کو کسی اور طریقے سے سڑک سے دور حل کرنا چاہئے تھا۔ شروع میں بابری مسجد کا مسئلہ ٹھنڈے طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی گئی جس میں مسلمانوں کی سبکی نہ ہوتی۔باہمی بات چیت کے علاوہ عدالتی کارروائی کاراستہ بھی کھلا ہوا تھا۔ لیکن جذباتی اور جوشیلے قائدین نے ان کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا اور سڑک کا راستہ اپنایا جس میں ہمارے کامیاب ہونے کا کوئی امکان نہیں تھا کیونکہ اگر ہم ایک لاکھ لوگ جمع کریں گے تو دوسرا فریق دس اور بیس لاکھ جمع کرسکتا ہے۔ بالآخر جب انھوں نے چھ لاکھ لوگ جمع کئے اور مسجد توڑ دی تو ہمارا ایک آدمی بھی وہاں نہیں پہنچا۔نتیجۃ ً ہمیں ایسی نا کامی ملی ہے کہ ہم سر اٹھا نے اور بولنے کے بھی قابل نہیں رہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ ہماری ماضی کی جوشیلی تحریکوں نے ہمارے مسائل کو سلجھانے کے بجائے صرف مزید الجھایا۔ تحریک ہجرت سے ہندوستان کی آزادی کا مسئلہ حل نہیں ہوا بلکہ قوم کو مزید خواری ملی۔ تحریک خلافت سے ترکی میں خلافت کی حفاظت نہیں ہوئی بلکہ ہماری طاقتوں اور سرمائے کا برسوں غلط استعمال ہوا اور بالآخر وہ تحریک ہم کو شکست خوردہ کر کے چھوڑ گئی جبکہ ’’خلافت ہاؤس ‘‘آج بھی بمبئی اور کلکتہ میں موجود ہیں۔ تحریک پاکستان نے ہندوستانی مسلمانوں کو نہ صرف تین ٹکڑوں میں بانٹ دیا بلکہ ہندوستانی مسلمانوں کے مقدر میں ہمیشہ کے لئے ذلت و خواری لکھ دی۔تقسیم کے ۷۵ سال کے بعد بھی آج تک ہم اس خواری اور خلا سے نہیں نکل پائے ہیں جو تقسیم کا لازمی نتیجہ ہونے والا تھا لیکن ہم میں بہت ہی کم ایسے بینا لوگ موجود تھے جو آنے والے دنوں کا تصور کر سکتے۔ ان میں مولانا حسین احمد مدنی اورمولانا ابوالکلام آزاد سرفہرست تھے لیکن ہم نے ان کی نہیں سنی۔تقسیم کے بعد بھی ہم نے اپنے ہم وطنوں سے عمدہ تعلقات بنانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ سال، دو سال میں کوئی کانفرنس منعقد کرنے سے عمدہ تعلقات قائم نہیں ہوجاتے ہیں بلکہ اس کے لئے ہر روز جہدِمسلسل درکار تھی اور کچھ لوگوں کو اس کام کے لئے اپنی زندگیاں وقف کر دینی چاہئے تھیں اور ملت کو ان کی کفالت کرنی چاہئے تھی۔

نئے ہندوستان میں ملک کی تقسیم اور نفرت کی سیاست کی وجہ سے جو سماجی، سیاسی اور معاشی صورت حال بنی تھی اور جس طرح ہم ہر طرح سےحاشیے پر آگئے تھے، اس کی وجہ سے جذباتی سیاست کی نا کامی نوشتۂ دیوار بن چکی تھی اور ہمیں کوئی اور طریقہ اپنانا چاہئے تھا جیسے جاپان اور جرمنی نے دوسری جنگ عظیم کے بعد اپنایا۔ ان دونوں ملکوں نے امریکہ کے خلاف مزاحمت یا جنگ جاری رکھنے کے بجائے اپنے ملک کی تعمیرِنو کے فیصلے سے اپنی تقدیر چند دہوں میں بدل دی۔ افسوس ہے کہ ہمارے یہاں کوئی ایسی دور رس قیادت نہیں تھی جو ہم کو تعلیم اور معاشیات کی طرف موڑتی اور ٹکراؤ اور جذباتی سیاست سے دور رکھتی۔ نتیجۃ ً ہم جذباتی سیاست کا شکار ہو کر اِس بند گلی سے اْس بند گلی کا چکر لگاتے رہے اور آج بھی ہم منزل سے دور وہیں چکر لگا رہے ہیں ۔ اگر مسلمانوں نے کوئی ترقی کی ہے تو وہ افراد کی اپنی ذاتی سوجھ بوجھ اور پہل کی وجہ سے ہے، ہماری قیادت کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔

ہماری اِس جذباتی سیاست سے، نفرت کی اْس سیاست کو بھی تقویت ملتی چلی گئی جو ملک کے دستوری ڈھانچے کےبدلنے کے در پے ہے اور مسلمانوں کو دوسرے نمبر کا شہری بنانا چاہتی ہے، حالانکہ اب بھی ہمارے ملک میں ایسے بہت سے انصا ف پسند لوگ موجود ہیں جو قانون اور دستور کی حمایت میں کھڑے ہوئے ہیں لیکن ان کی تعداد بھی روز بروز کم سے کم تر ہوتی چلی جارہی ہے۔

اپنے حقوق کے لئے اور مظالم کے خلاف اداروں اور عدالتوں کے ذریعے ہماری حقوق کی لڑائی قانون کے تحت جاری رہنی چاہئے۔ میڈیا، تحقیقاتی اداروں اور تھنک ٹینکس کو قائم کرکے ہمیں اپنی قوت اور آواز مضبوط کرنی چاہئے۔ یہ وہ میدان ہیں جہاں ہم تقریبا صفر ہیں۔ لیکن یہ کام بھی کچھ افراد اور کچھ تنظیمیں ہی کریں گی ،ہم پوری قوم کو ہم ان امور پر سڑکوں پر نہیں لائیں گے اور نہ ہی علانیہ کسی کے خلاف سب و شتم کے مرتکب ہونگے۔ اس قانونی لڑائی میں ہم سماج کے ایک بڑے حصے کو دشمن نہیں بنائیں گے۔ ہم کو سماج کی تمام نمائندہ طاقتوں اور پارٹیوں کے ساتھ تعلقات، بات چیت اور ڈائیلاگ جاری رکھنا چاہئے۔ اس میں وہ بھی شامل ہیں جو ہم کو یا ہم ان کو دشمن سمجھتے ہیں۔ سیاست میں کوئی اچھوت نہیں ہوتا ہے۔ ہمیں بھی اس حکمتِ‌عملی پر عمل کرنا چاہئے۔

ہمارے ساتھ یہ مسئلہ بھی رہا ہے کہ جن مسائل کے بارے ہمارا خیال ہے کہ وہ براہ راست ہم پر اثر انداز ہوتے ہیں، ہم انھیں میں دلچسپی لیتے ہیں۔ سماج میں جو دوسرے مسائل ہیں اور جو اور زیادتیاں ہو رہی ہیں ہمیں ان سے سروکار نہیں ہوتا ہے۔ ہمیں یہ رویہ بدلنا ہوگا اور ہمیں ان سارے مسائل میں دلچسپی لینی ہوگی جن کا ملک کے حاضر اور مستقبل سے تعلق ہے۔

آج کے زمانے میں کوئی قوم دوچیزوں کے بغیر سر اٹھا کر نہیں جی سکتی۔ ایک ہے تعلیم اور دوسرا ہے بزنس میں حصہ داری۔ ہم ان دونوں میدانوں میں انتہائی پیچھے ہیں۔ بزنس یعنی تجارت میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ چھوٹی چھوٹی دکانوں اور خوانچوں میں تو ہم بہت آگے ہیں لیکن بڑی تجارتیں، بڑی کمپنیاں اور بڑی فیکٹریاں ہماری پہنچ سے باہر ہیں۔ ایک قوم جس کی تعداد ہندوستان میں محض ۷۰ہزار ہے، یعنی پارسی قوم، تجارت میں۰ ۲۰ملین مسلمانوں سے کہیں آگے ہے اسی لئے اس کا بہت احترام بھی ہوتا ہے۔ حکومت ہند، جو مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے پریشان ہے، یہ ریسرچ کرارہی ہے کہ پارسیوں کی تعداد کیسے بڑھائی جائے!

کسی بڑی مسلم تنظیم نے تعلیم اور بزنس کی طرف توجہ نہیں دی۔ یہی وہ دو طاقتیں ہیں جو مادی دنیا میں کسی قوم کو سرخرو اور طاقت ور بناتی ہیں۔ ملک کے باہر یہودی اور ملک کے اندر پارسی اس کی مثال ہیں۔ جو جدید تعلیمی ادارے ہماری قوم نے پچھلے دو سو سالوں میں بنائے تھے ، آج ان کی بری حالت ہے۔ کم از کم شمالی ہندوستان میں یہی حالت ہے، جبکہ کیرالا میں حالات بہتر ہیں اور اسی لئے کیرالا کے مسلمانوں کی حالت بھی مجموعی طور پر بہت بہتر ہے۔ ہمارے مسلم اسکولوں اور کالجوں کی حالت انتہائی خراب ہے۔ آپس میں لڑائی اور گروپ بندی کی وجہ سے تعلیمی معیار بہت گر گیا ہے۔ پھر ہمارے بچے کیسے ان اسکولوں میں عمدہ تعلیم حاصل کرسکیں گے؟ نتیجۃً جو بھی برداشت کر سکتا ہے وہ اپنے بچے کو دوسروں کے اسکولوں میں بھیجتا ہے۔

تعلیم اور بزنس پر توجہ دیجئے۔ عمدہ اسکول کھولئے۔ جو مسلم اسکول آپ کے علاقوں میں کھلے ہوئے ہیں ان کی بہتری کے لئے مہم چلائیے تاکہ رسّہ‌کشی والی کیفیت ختم ہو اور تعلیم پر توجہ مرکوز ہو۔ ’’یونیورسٹی‘‘ قائم کرنے کی مت سوچئے۔ آج ہم کو اچھے اسکولوں کی ضرورت ہے۔ اگر ہمارے بچے اسکولوں میں اچھی تعلیم نہیں حاصل کریں گے تو وہ یونیورسٹیوں میں کیسے جائیں گے؟

تعلیمی طور سے ہندوستان کے مسلمان دوسرے گروپوں سے پیچھے ہیں۔ ہمارا ۴۰۔۴۵؍ فیصد معاشرہ نا خواندہ ہے۔ اسکول چھوڑنے والے یعنی ڈراپ آؤٹ ہونے والے بچوں کا تناسب ہمارے یہاں سب سے زیادہ ہے جبکہ ہمارادین روز اول سے علم حاصل کرنے کی ہمیں تلقین کر رہا ہے۔ علم میں یقینا دینی علوم شامل ہیں لیکن دوسرے دنیاوی علوم بھی اسی طرح اہم ہیں۔ جب اللہ کے رسول ﷺ نے ہم سے کہا کہ ”علم حاصل کرو چاہے چین میں ہی کیوں نہ ہو“ تو اس کا مطلب دینی علوم تو نہیں تھے۔ ہمارا فرض ہے کہ زمانے اور حالات کے لحاظ سے جو علوم بھی مطلوب ہوں ان کو سیکھیں اور ان میں امتیاز حاصل کریں۔ ہمارے قدیم مدارس میں دینی علوم اور دنیاوی علوم کی تفریق نہیں تھی بلکہ وہیں سے مفسر اور عالم حدیث پیدا ہوتے تھے اور اُنھیں مدرسوں سے ریاضیات ، فلک اور طب کے ماہرین بھی نکلتے تھے۔ مغربی سامراج کے آنے کے بعد یہ سلسلہ ٹوٹا اور مسلمانوں نے ایسے پرائیویٹ مدرسے بنانے شروع کر دئے جہاں صرف دینی کیا بلکہ صرف مسلکی تعلیم دی جاتی ہے۔ یہ سلسلہ اس بنیاد پر شروع کیا گیا تھا کہ کہیں سرکاری مدارس کے ذریعے سامراجی حکمراں ہمارے دین میں بھی دخل اندازی نہ شروع کر دیں۔ وقت گذرنے کے ساتھ یہ پرائیویٹ مدرسے اور ان کا نظام ِتعلیم مقدس ہو گئے ہیں۔ اب ان میں کسی تبدیلی کی بات کی جاتی ہے تو دین خطرے میں پڑ جاتا ہے۔

مدارس کے نصاب کی اصلاح کی باتیں تقریبا ایک صدی سے چل رہی ہیں لیکن عملا کوئی اصلاح بہت کم اور بہت دیر میں آتی ہے۔ ضرورت یہ تھی کہ یہ مدارس دینی اور عصری دونوں تعلیم دیتے اور ان سے نکلنے والا نوجوان ہائی اسکول اور سینئر سیکنڈری اسکول کےسرٹیفکٹ لے کر باہر نکلتا ۔ آج ہمارا نوجوان مدرسے سے جو سند لے کر نکلتا ہے اس کی دنیا میں کوئی قیمت نہیں۔ وہ صرف امام، مؤذن یا کسی مدرسے میں تدریس کے لائق ہوتا ہے۔ اگر وہ زیادہ تیز و طرار ہوتا ہے تو ایک اور مدرسہ کھول لیتا ہے۔اس کے علاوہ چند سو فارغین مدارس بعض ہندوستانی یونیورسٹیوں میں داخلے لے کر انسانیات کے کچھ کورس کرلیتے ہیں یا ان میں سے دس ،بیس بعض عرب یونیورسٹیوں میں داخلے پا جاتے ہیں۔ لیکن ان فارغین مدارس کی اکثریت عظمی حاشیے پر زندگی گذارنے پر مجبور ہوتی ہے۔ آپ میں سے بہت سے ہوں گے جو مدارس کی مدد کرتے ہیں۔ آپ ضرور مدد کریں بلکہ مدد میں اضافہ کریں لیکن مدارس کے ذمے داروں پر یہ بھی زور ڈالیں کہ وہاں جدید علوم کی تعلیم بھی ہو اور بچے آخر میں ایک ایسا سرٹیفیکیٹ لے کر نکلیں جس کو دنیا تسلیم کرتی ہو۔ جمعیت علماء ہندنے اس سلسلے میں پہل کی ہے کہ ان کے مدارس میں نیشنل اوپن اسکول NIOSکا نصاب بھی پڑھایا جائے گا تاکہ ان کے بچے اس ذریعے سے سکنڈری اور ہائر سکنڈری اسکول کے سرٹیفیکیٹس لے کر نکلیں۔ یہ اچھی ابتدا ہے۔ ضرورت ہے کہ ہمارے دینی مدارس پوری طرح سے جدید نظام تعلیم سے جڑیں اور دین کے علاوہ دنیا کی بھی معیاری تعلیم اپنے طلبہ کو دیں۔

بزنس کی طرف بھی پوری توجہ دیجیے تاکہ قوم کےہاتھ میں پیسہ آئے اور ہم وہ سب کام کر سکیں جو آج ہونے چاہئیں لیکن نہیں ہو پارہے ہیں ، جیسے میڈیاہاؤسز، تھنک ٹینکس اور ریسرچ سنٹرز وغیرہ کا قیام۔ لیکن یہ ضروری کام ہم نہیں کر سکتے ہیں کیونکہ اس طرح کے کسی بڑے کام کے لئے ہمارے پاس سرمایہ نہیں ہے۔

آج ہماری جو صورت حال ہندوستان میں ہے، ہم اپنی نا اہلی، بد عملی ، لاعملی اور جوشیلے اقدامات کی وجہ سے اس کے پوری طرح ذمے دار ہیں۔ دوسری قوموں، خصوصا ہندؤوں سے،ہمارا کوئی خاص ربط و تعامل نہیں رہا جس کی وجہ سے دوریاں اور ایک دوسرے کے خلاف شک وشبہات بڑھتے چلے گئے۔

فی الحال جو پاگل پن ہندوستان میں برپا ہے وہ ایک دن میں وجود میں نہیں آیا ہے بلکہ اس کا تعلق ہماری لمبے عرصے کی غلطیوں اور خامیوں سے بھی ہے۔ آج یہ طوفان ساری حدود کو پار کر چکا ہے۔ اس کا مقابلہ ہم انھیں کے حربوں سے نہیں کرسکتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس پیسے ، ایڈمنسٹریشن، پولیس اور میڈیا کی طاقت نہیں ہے جبکہ دوسرے فریق کے پاس یہ طاقتیں پوری طرح موجود ہیں۔

اب بھی ضرورت ہے کہ ہم اکثریت کے ساتھ محبت اور تفاہم کے پل بنائیں اور ان کو اپنا ہمنوا بنائیں۔ اچھے لوگوں کی آج بھی ہندوستان میں کمی نہیں ہے۔ نفرت کی سیاست کرنے والے ملک کی اکثریت نہیں ہیں۔ ۲۰۱۴ کے انتخابات میں بی جے پی کو صرف ۳۱فیصد ووٹ ملے تھے اور ۲۰۱۹ کے الیکشن میں اس کو صرف ۳۹ فیصد ووٹ ملے تھے یعنی اکثریت نے ان کو ووٹ نہیں دیا تھا۔ ان کو ووٹ دینے والوں میں ایسے بہت ہیں جو’’وکاس‘‘کے نعرے سے بےوقوف بنے تھے جبکہ نفرت کی سیاست کے ہمنوا شاید ۱۰-۱۵ فیصد سے زیادہ نہیں ہیں۔ نفرت کے اس پاگل پن اور طوفان کو ہم دنیا کے سامنے ننگا کرکے روک یا کم کر سکتے ہیں۔ یہ طریقہ advocacy کا ہے جس کو دوسرے لوگ، بالخصوص ہندوستان کی عیسائی کمیونٹی، کامیابی سے اپنائے ہوئے ہے۔ یہ کام سنجیدہ کتابوں ، تحقیقاتی رپورٹوں، ڈاکیومنٹری فلموں اور حقوق انسانی کے عالمی اداروں اور تنظیموں سے رابطہ کرکے ان کو صحیح معلومات پہنچا کر کیا جاسکتا ہےتاکہ دنیا کو معلوم ہو کہ ہمارے یہاں کیا ہو رہا ہے۔دنیا میں، بالخصوص اقوام متحدہ، امریکہ اور یورپ میں ایسے متعدد ادارے ہیں جو ان امور پر نظر رکھتے ہیں اور ان پر بر وقت رائے دیتے ہیں جس کا بین الاقوامی اثر ہوتا ہے اور وہ ہماری حکومت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ انٹرنٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی آواز پھیلائیے۔ مظالم کے بارے میں باہر کے لوگوں کو معتدل انداز سے با خبر کیجئے۔ یہ اگر چہ ایک وقتی کام ہے لیکن فی‌الحال بہت اہم ہے کیونکہ ملک کے اندر جو پاگل پن اس وقت چل رہا ہے، اس پر بیرونی دباؤ سے بڑی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔ اس کام میں اگر کوئی سنجیدہ لوگ مدد کرنا چاہتے ہیں تو وہ مجھ سے رابطہ قائم کر سکتے ہیں۔

جو پاگل پن ہمارے ملک میں فی الحال جاری ہے وہ ہمیشہ نہیں رہے گا بلکہ ایک دن ختم ہوگا۔ یہی اللہ پاک کا قانون ہے ورنہ فرعون وہامان، نمرود و شداد اور ہٹلر و موسولینی آج بھی زندہ ہوتے۔ اس پاگل پن کے جلد خاتمے کے لئے ہم کو یہ پلاننگ کرنی ہے کہ مستقبل میں ہم کس طرح سر اٹھا کر ہندوستان میں جیئیں گے اور اپنے جائز حقوق حاصل کریں گے؟ اس کے لئے ہم کو وہی طریقہ اپنانا ہے جو دوسری قومیں کرتی ہیں۔ اس پلاننگ میں تعلیم نمبر ایک پر ہے۔ اس میں دینی اور دنیاوی تعلیم دونوں شامل ہیں ۔ دینی تعلیم کا مطلب مسلکی تعلیم نہیں ، جوہمارے مدارس میں رائج ہے ، بلکہ وہ تعلیم ہے جس سے دین کی حقیقت اور روح معلوم ہوتی ہے اور جس کو پڑھ کر اور جان کر آدمی سچا مسلمان بنتاہے اور دارین میں سرخرو ہوتا ہے۔ اور جدید تعلیم وہ ہے جس سے دنیا میں دوسری قومیں آج ترقی کر رہی ہیں۔

آج آئی ٹی کا زمانہ ہے جس کا زندگی کے ہر شعبے میں دخل ہو گیا ہے۔ جو قوم بھی اس میں آگے ہے وہی آج ترقی کر رہی ہے اور جو قومیں پیچھے ہیں وہ دوسروں کی دست نگر ہیں۔ اس کے لئے کوئی ایک بڑا کارخانہ نہیں بنتا ہے بلکہ لاکھوں لوگ ہزاروں ریسرچ انسٹی ٹیوٹس ، کمپنیوں، آفسوں اور فیکٹریوں میں کام کرتے ہیں اور ان کا مجموعی نتیجہ ان کی سوسائٹی اور ملک کو سرخرو بناتا ہے۔

صحیح معنوں میں ہم نے اپنا یہ سفر اب بھی شروع نہیں کیا ہے۔ کچھ افراد کے اس طرح کی تعلیم حاصل کرلینے سے پوری قوم کی حالت نہیں بدلے گی بلکہ لاکھوں لوگوں کو اس طرف متوجہ ہونا ہو گا اور اس اجتماعی کوشش سے ہی ہماری صورتحال بدلے گی۔ جس دن ہم یہ کر لیں گے یعنی تعلیم اور بزنس میں صف اول میں آ جائیں گے تو ہمارے سارے مسائل بھی خود بخود ختم ہو جائیں گے۔

یہاں میں ایک اور بات آپ سے کرنا چاہتا ہوں اور یہ صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو آج بالخصوص خلیجی ممالک میں مقیم ہیں۔ خلیج کا راستہ ہمارے لئے تقریباً ۴۰ سال پہلے کھلا ہے۔ اس سے ہمارے لاکھوں خاندانوں کے حالات بہتر ہوئے ہیں۔ ٹوٹے مکانات کی مرمت ہوئی ہے اور بچوں نے تعلیم پانا شروع کیا ہے۔ یہ ایک خوش آیند بات ہے، لیکن اس کا ایک تاریک پہلو بھی ہے اور وہ یہ ہےکہ اس طرح آنے والی دولت کا ہم نے صحیح استعمال نہیں کیا۔ گاؤں اور چھوٹے شہروں میں عالیشان مکان بنانا، ان کو ہر طرح کی آسائش سے مزین کرنا، گھروں کے باہر عمدہ گاڑیوں کا کھڑا کرنا، شادی بیاہ پر بےتحاشا خرچ کرنا ہماری دولت کا صحیح استعمال نہیں ہے۔

دولت کا صحیح استعمال یہ ہے کہ آپ خود پیش بینی کر کے وطن میں اپنے لئے املاک assets بنائیں جیسے اسکول، کالج، فیکٹریاں، دوکانیں وغیرہ جو بعد میں آپ کے کام آئیں گی کیونکہ خلیج کی نوکریاں ہمیشہ کی نہیں ہیں اور ایک نہ ایک دن آپ کی اکثریت کو یہاں سے واپس جانا ہے۔ آپ یہ غلطی نہ کریں کہ جو بھی آ رہا ہے وہ خرچ ہو جائے کیونکہ اس کا نتیجہ اچھا نہیں ہو گا بلکہ جب آپ واپس جائیں گے تو خود کو بےدست و پا پائیں گے۔ میں نے یہ غلطی کی تھی۔ میں نے کافی عرصے باہر نوکری کی ۔ میں اپنے ضروری خرچ کے علاوہ سارے پیسے ہر ماہ اپنے گھر بھیج دیتا تھا۔ سالوں بعد جب میں نوکری چھوڑ کر واپس گیا تو دیکھا کہ میرے اکاؤنٹ میں ایک روپیہ بھی نہیں ہے اور کچھ نہیں معلوم ہوا کہ نکالا ہوا پیسہ کہاں گیا۔ آپ اپنے گھر والوں کی ضرور مدد کریں لیکن اپنے مستقبل کی بھی روزِاول سے فکر کریں اور یہ سمجھ لیں کہ ایک دن آپ کو وطن واپس جانا ہے اور اس وقت آپ کے ہاتھ میں کچھ ایسا املاک ہوناے چاہئیں جو آپ کی ضروریات کے لئے کافی ہوں۔ اسی کے ساتھ آپ کا یہ فرض بھی ہے کہ ملت کے اداروں، اسکولوں، مدرسوں، یتیم خانوں وغیرہ کی حتی المقدور مدد کریں کیونکہ یہ ادارے آپ کی قوم کے لئے ہیں اور وہ قوم کے پیسے سے ہی چل سکتے ہیں۔ یہ ادارے بہت بڑی ضرورت پوری کر رہے ہیں۔ ان کی مدد کرنا فرض کفایہ ہے۔ اگر کوئی مدد نہیں کر ے گا تو پوری قوم گنہگار ہوگی۔

آپ میں سے بہت سے لوگ ہندوستان میں پیسہ انوسٹ کر رہے ہوں گےیا کرنا چاہتے ہوں گے۔ آپ یہ کام ضرور کریں بلکہ اپنی آمدنی کا ایک مقررہ حصہ جیسے ۲۰؍فیصد اس کام کے لئے مقرر کرلیں اور صرف ایسے مالیاتی ا داروں میں کریں جو اچھے فنڈ چلارہی ہوں اور جن کو حکومت ہند کی طرف سے بزنس کرنے کی اجازت ملی ہو۔ ہمارے یہاں کافی دنوں سے اسلامی بینکنگ یا اسلامی فائننس کمپنیوں کا شور وقتا فوقتا اٹھتا رہتا ہے۔ یہ کمپنیاں ملک میں مسلمانوں کو اوربیرون ملک ا ٓپ جیسے لوگوں کو شکار بناتی ہیں۔ یہ ہمارے پیسوں کو لوٹنے والی کمپنیاں ہیں جیسے المیزان اور الفلاح نامی ادارے جن کو ہمارے بعض مفتیان نے فتوے بھی دے رکھے تھے۔ ایسی کمپنیوں میں ہزاروں کروڑ کھونے کے باوجود ہم نے کوئی سبق نہیں سیکھا بلکہ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ ابھی کچھ عرصہ قبل نوھیرہ شیخ نامی عورت نے بھی مسلمانوں کے ہزاروں کروڑ روپئے اسلامی فائننس کے نام پر تباہ کئے۔ ایسی فراڈ کمپنیوں سے بچئے لیکن اسی کے ساتھ اپنی بچت کا یک حصہ عمدہ اسکیموں میں انوسٹ کرنا نہ بھولئے۔ اپنے مستقبل اور اپنے بچوں کی بہبود کے لئے ایسی پلاننگ آپ کے لئے ضروری ہے۔

آج ہمارے پاس جو پیسے بھی ہیں ہم ان کو غلط رسوم بالخصوص شادیوں پر بے تحاشہ خرچ کر کے اڑا رہے ہیں بلکہ اس کی وجہ سے بہت سے لوگ بری طرح مقروض ہو رہے ہیں اور آباء و اجداد کی جائدادوں کو بلا وجہ کے دکھاوے کے لئے فروخت کر رہے ہیں۔ جن کے پاس ذرا سے پیسے ہیں وہ دکھاوے کے لئے باربار حج اور عمرے کر رہے ہیں حالانکہ ہمارے یہاں، غرباء، مدارس اور یتیم خانے وغیرہ بہت بری حالت میں ہیں۔ صرف فیس نہ دے پانے کی وجہ سے لاکھوں لوگ اپنے بچوں کو ہر سال اسکولوں سے نکال لیتےہیں۔ کیا یہ ہماری ذمےداری نہیں ہے کہ ہم ایسے بچوں کی کفالت کریں؟ آپ اپنے علاقے سے شروعات کیجئے اور حتی المقدور ایک، دو، تین بچوں کی فیس براہِ راست ان کے اسکولوں میں جمع کرائیے۔ پڑھ لکھ کر ایسے بچے قوم کے لئے بڑا سرمایہ بنیں گے اور نہ پڑھ لکھ کر آسانی سے غلط راستوں پر پڑ جائیں گے اور ملت کے لئے سبکی کا سبب بنیں گے۔

میں نے ابھی تعلیم اور بزنس کا ذکر کیا جن کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے لیکن میرے نزدیک ہمارے سارے مسائل میں سر ِفہرست ہماری اخلاقی تنزلی کا مسئلہ ہے۔ یہ صحیح ہے کہ عمدہ اخلاق کے حامل لوگ آج بھی ہماری سو سائٹی میں موجود ہیں لیکن عمومی حالت اخلاقی تنزلی کی ہے۔ آج ہماری عمومی حالت یہ ہے کہ دیگر اقوام کی بہ نسبت ہم میں اخلاقی ابتری زیادہ ہے۔ جھوٹ بولنا، امانت میں خیانت کرنا، وعدہ خلافی کرنا ہمارا وطیرہ بن چکا ہے۔ اور یہی وہ صفات ہیں جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺنے کہا تھا کہ اگر ان میں سے کوئی ایک خصلت بھی کسی آدمی کے اندر ہو تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے اور اگر یہ تینوں خصلتیں کسی انسان میں پائی جائیں تو وہ پورا منافق ہے۔ یہ گویا ایک معیار ہے جس سے ہم ناپ سکتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں یا نہیں ہیں۔ ہمارے لئے یہ بہت تشویش کا مقام ہے کہ ہماری کثیر آبادی میں یہ تینوں بری خصلتیں موجود ہیں جن کے بارے میں رسول اکرمﷺنے پندرہ سو سال قبل وارننگ دے دی تھی کہ جن میں یہ خصلتیں ہوں وہ منافق ہے اور یہ ہم جانتے ہیں کہ منافق کا آخری مقام جہنم ہے۔ یہ مسئلہ ہمارے لئے سر فہرست ہونا چاہئے کہ کس طرح مسلمانوں کی اخلاقی ابتری کو سدھارا جائے اور ان کو اللہ پاک سے ڈرنے والے بندے بنایا جائے جو بڑے سے بڑے دنیاوی فائدے کے لئے بھی نہ جھوٹ بولتےہوں ، نہ وعدہ خلافی کرتے ہوں اور نہ امانت میں خیانت کرتے ہوں۔

اس اخلاقی ابتری کی ایک بڑی وجہ ہمارا کلام اللہ یعنی قرآن پاک سے دور ہونا ہے۔آج اکثر ہندوستانی مسلمان قرآن پاک نماز میں یا ثواب کے لئے بغیر سمجھے ہوئے پڑھتے ہیں لیکن اُس ابدی ہدایت کے لئے نہیں پڑھتے ہیں جس کے لئےہمارے اکثر لوگوں کو قرآن پاک کا ترجمہ پڑھنا چاہئے جو ہماری تقریبا تمام زبانوں میں میسر ہے۔ قرآن پاک کے ذریعے اللہ پاک ہم سب سے ذاتی طور پر مخاطب ہیں۔ لیکن افسوس ہے کہ ہم اللہ کا پیغام، اللہ کی کتاب سے نہیں بلکہ کچھ مولویوں سے حاصل کرتے ہیں جو کلام اللہ کے بجائے دین کو بعض فقہی کتابوں سے حاصل کرتے ہیں بلکہ ان میں سے بعض کی جرأت تو اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ وہ عوام کو قرآن پاک کا ترجمہ پڑھنے سے ہی منع کرتے ہیں کیونکہ انکے خیال میں عوام اس سے گمراہ ہو جائیں گے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ایک زندہ کلام کو چھوڑ کر ہم کچھ مولویوں کی خودساختہ آراء کو سنتے ہیں اور ان سارے تعصبات کا شکار ہوجاتے ہیں جو ان کو ان کے مسلکی مدرسوں میں رٹائے جاتے ہیں۔

مسجدوں کا مسئلہ بھی ہمارے لئے بہت اہم ہے۔ ابتدائے اسلام میں مسجد حکومت اور سوسائٹی کا مرکز ہوا کرتی تھی۔ یہیں حضور پاکؐ اور خلفائے راشدین بیٹھتے تھے، یہیں قاضی یعنی جج بیٹھ کر فیصلے کرتے تھےاور یہیں بیرونی سفراء سے ملاقات ہوتی تھی۔ آج ہم نے مساجد کو صرف نماز کے لئے مخصوص کر دیا ہے اور نماز کے بعد ان کو بند کر دیتے ہیں۔ ضرورت ہے کہ کمیونٹی کی ضروریات جیسے میٹنگ، کانفرنس، ریڈنگ روم وغیرہ کے لئے ان کو کھولا جائے تاکہ سوسائٹی کی بہت سی ضروریات بغیر فضول خرچی کے پوری ہو سکیں۔ اسی طرح جمعہ کے پہلے خطبے کو مقامی زبان میں ہونا چاہئے تاکہ خطبے کا اصل مقصد عوام کو حاصل ہو سکے اور قوم کو ہرہفتے اپنے مسائل اور ذمےداریوں کے بارے میں ہدایت مل سکے۔ خطبے کو عربی میں دینے پر اصرار کر کے ہم نے خطبے کے عظیم مقصد کو فوت کر دیا ہے۔ مساجد کو مسلکی نہیں ہونا چاہئے۔ اللہ پاک نے قرآن پاک میں کہا ہے کہ ’’المساجد للہ‘‘ (مسجدیں اللہ کی ہیں)۔ پھر کیسے مساجد کچھ خاص فرقوں کی ہو گئیں؟ مساجد میں نہ صرف تمام مسلمانوں کا استقبال ہونا چاہئے بلکہ غیرمسلمین پر بھی پابندی نہیں ہونی چاہئے تاکہ وہ آ کر اپنی آنکھ سے اسلامی عبادت کی سادگی اور روحانیت کا مشاہدہ کر سکیں۔ آپ اپنے علاقوں میں ائمۂ کرام اور مساجد کے ذمےداروں پر ان باتوں کے بارے میں زور ڈالیں۔

آخر میں ایک اور بات کہنا چاہتا ہوں کہ جس ملک میں آپ ہیں، اس کے قوانین و ضوابط اور کلچر کا احترام کریں۔ یہ ہر فرد کی ذمےداری ہے کیونکہ اگر ہمارا ایک فرد بھی غلطی کرتا ہے تو پورے گروپ کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ جس علاقے میں آپ ہیں وہاں حکومتیں تنقید برداشت نہیں کرتی ہیں ۔ آپ بھی اس کا خیال رکھیں اور اپنے کام سے کام رکھیں تاکہ اپنے لئے اور دوسرے ہندوستانیوں کے لئے مسئلہ کھڑا نہ کریں۔

(منامہ، بحرین، میں جامعہ ملیہ اور علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈبوائز کے منعقد کردہ پروگرام بتاریخ ۹؍دسمبر ۲۰۲۲ میں کلیدی تقریر)

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top
%d bloggers like this: