شیر مارکیٹ کیا ہے؟

شیر مارکیٹ کیا ہے؟

What is Share Market?

   آپ نےکئی طرح کے بازار  یا دوکان کا نام سنا ہوگا۔ مگر کیا آپ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ ہمیں تمام بازاروں کا علم ہے؟

 ہم میں سے کوئی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا ہے۔

البتہ ہم میں سے بیشترسبزی منڈی، کپڑا منڈی، پشو مارکیٹ، اور کرانہ منڈی کو  جانتے ہیں۔

 

کیونکہ ہمارا واسطہ ان منڈیوں سے بارہا پڑتا رہتا ہے۔ اس لیے ان مارکیٹ و بازار کو بھلی بھاتی جانتے ہیں۔

  اور اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ جہاں جیسا مال ملتا ہے اسی مناسبت سے منڈی کا نام پڑتا ہے۔

اگر کہیں  سبزی کی خریدو فروخت ہوگی تو  وہ سبزی منڈی کہلائے گی۔

اور جہاں جانوروں کو خریدا و بیچا جائے گا اس کا نام  ’’ پشو مارکیٹ ‘‘  ہوگا۔

ایسے ہی جہاں شیرز  کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔ اس کو

  Share Market 

یا پھر 

Stock Market

کہا جاتا ہے۔

 

  کیا ہوتا ہے؟Share

شیر کو اردو میں حصہ کہتے ہیں۔

 

آئیے! آپ کو مثال سے سمجھاتا ہوں

آپ کے من میں آیا کہ چلو ایک بولیرو گاڑی خریدتے ہیں۔ آپ مارکیٹ گئے ، بولیرو کی قیمت کا پتہ لگایا۔ آپ کو معلوم ہوا کہ بولیرو گاڑی دس لاکھ میں ملتی ہے۔

  آپ کو افسوس ہوا۔ کیونکہ آپ بولیرو نہیں خرید سکتے۔

 اس لیے کہ آپ کے جیب میں صرف چار لاکھ روپیے ہیں۔

اب آپ کیا کریں گے؟۔

یا تو اپنے من کو دبا دیں۔ اور گاڑی خریدنے کا خواب بھول جائیں۔  

یا پھر اپنے دوستوں سے ادھار لیں۔ بینک سے ادھار لیں۔ اور بولیرو گاڑی گھر پر لے آئیں۔

ایک دوسرا راستہ بھی ہے

آپ ذرا چالاکی دکھائیں۔مزید چھ لوگوں کو تلاش کریں۔

ان کو اپنی بولیرو گاڑی خریدنے کے بارے میں بتائیں۔

بولیرو گاڑی کی سماج میں ضرورت کا احساس کروائیں۔ اورپھر کہیں کہ 10 لاکھ میں بولیرو گاڑی آتی ہے۔ہم اسے خرید کر روڈ پر چلانا چاہتے ہیں۔

ہمیں جو نفع ہوگا اس میں سے آپ کو بھی آپ کی رقم کے بقدر حصہ دیا جائے گا۔

پھر آپ انہیں اپنا فائنل فیصلہ سنایا  کہ  میرے پاس چار لاکھ روپیے ہیں اور اگر آپ لوگ میرے پلان سے متفق ہیں تو آپ میں سے ہر ایک: ایک ایک  لاکھ کرکے جمع کریں۔

 

کیا لگتا ہےآپ کو؟

آپ نے کہا : اور آپ کے دوست مان گئے۔

اگر ہاں! تو آپ خوش قسمت ہیں۔

لیکن بازار ایسے کام نہیں کرتا۔

جس طرح آپ نے چالاکی دکھاکر دوستوں کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی۔ ویسے ہی آپ کے دوست و احباب آپ کے منصوبے کے بارے میں بات چیت کرے گا۔  

چھ میں سے دو تین تو ضرور ایسے ہوں گے ۔

جو سوچے گا کہ آپ کو پیسہ دیا جائے یا نہیں۔

آپ  پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟

کہیں میرا اصل بھی تو نہیں ڈوب جائے گا؟

یا پھر آپ کے دوست اپنے دوستوں کو آپ کا پلان بتاکر باہمی مشورہ کرے گا۔

 اگر آپ کے دوستوں کو تشفی ہوگئی تو آپ کو رقم مل جائے گی اور آپ بولیرو گاڑی خریدنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

چونکہ آپ نے گاڑی خریدنے میں بڑی رقم لگائی ہے۔ اس لیے آپ کو فیصلہ کا بھی اختیار ہوگا۔   اس کے بعد یا تو آپ خود سے گاڑی چلائیں یا  پھر بولیرو گاڑی سے سوار ڈھونے کے لیےایک ماہر ڈرائیور کو ماہانہ وظیفہ پر رکھیں۔ایسے ہی  ایک منشی کو   متعین کریں تاکہ وہ  ماہانہ پٹرول، ریپرینگ، روڈ ٹیکس اور ڈرائیور کے وظیفہ و دیگر اخراجات کا حساب و کتاب رکھے۔

اس کے بعد شروع ہوتا ہے اصل کام۔  جسے مارکیٹ کی زبان میں نفع و نقصان کہا جاتا ہے۔

نفع و نقصان ( Profit + Loss )

مان لیں کہ بولیرو گاڑی سے سوار ڈھونے کے بعد گیارہ لاکھ کا منافع ہوا۔ تو منشی پہلے منافع سے اخراجات نکالے گا۔ اس کے بعد جو رقم بچے گی وہ تمام گاڑی خریدنے والوں بلفظ دیگر شیر ہولڈرس کو اس کے حصے کے مطابق بانٹ دے گا۔

 مثلاً گیارہ لاکھ میں ایک لاکھ  اخراجات کے نکل گئے۔

باقی بچے دس لاکھ ۔ جس نے چار لاکھ لگائے۔ اس کو مزید چار لاکھ ملیں گے اور جس نے ایک لاکھ لگائے تھے اس کو مزید ایک لاکھ ملیں گے۔ 

نفع  کمانے کے بعد سبھی دوست خوش

اسی مناسبت سے نقصان کا بھی حساب و کتاب لگالیں۔ جس کے جتنے شیر    بلفظ دیگر حصے ہوں گے۔ اس کو اسی کے لحاظ سے نقصان  بھی ہوگا۔ یعنی کہ اگر نفع کی جگہ دس لاکھ کا نقصان ہوگیا تو آپ  کی رقم ڈوب جائے گی۔ اور نتیجہ کے اعتبار سے آپ ’’زیرو‘‘ لے کر گھر آئیں گے۔

درج بالا مثال کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ میں نے ایک جھلک دکھلائی ہے۔

اسٹاک مارکیٹ ایسے ہی کام کرتا ہے۔مارکیٹ میں یہی تمام  چیزیں الگ الگ ناموں سے منظم، ومنصوبہ بند طریقے سےہوتی ہیں ۔

اسی کو شیر مارکیٹ کہا جاتا ہے۔ 

 جس پر ہم آگے بات کریں گے۔

(جاری)

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top
%d bloggers like this: