گلدستوں میں شعرائے اعظم گڑھ اور ان کا نادر کلام

گلدستوں میں شعرائے اعظم گڑھ اور ان کا نادر کلام

از:- عبدالعلیم الاعظمی

  • نام کتاب : گلدستوں میں شعرائے اعظم گڑھ اور ان کا نادر کلام
  • مصنف : ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی
  • صفحات: 360
  • قیمت: 400
  • ناشر : ادبی دائرہ اعظم گڑھ

ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی کا نام شبلیات پر گراں قدر نگارشات کی وجہ سے اہل علم کے درمیان کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ شبلیات کے علاوہ ایک اور میدان میں بھی ڈاکٹر صاحب نے کارہائے نمایاں انجام دئے ہیں اور اپنی علمی و تحقیقی کاوشوں کے ذریعہ بہت سے مخفی پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے۔ وہ میدان اعظم گڑھ کی تاریخ ہے۔ کسی بھی شخصیت کے مطالعہ کے لیے اس کے عہد اور اس کے خطے کا مطالعہ کرنا ناگزیر ہوتا ہے۔ شبلیات پر تحقیقی کتابوں اور مضامین و مقالات کے ضمن میں ڈاکٹر صاحب نے متعدد ایسے گوشوں اور پہلوؤں پر کثرت سے لکھا ہے جن کا براہ راست تعلق اعظم گڑھ کی تاریخ سے ہے۔ تاریخ اعظم گڑھ کے تعلق سے اگر ڈاکٹر صاحب کی خدمات کا جائزہ لیا جائے، تو اس ضمن میں آپ نے اعظم گڑھ کی تاریخ پر افضال اللہ قادری کے مسودہ کو "تاریخ اعظم گڑھ” کے نام سے مرتب کرکے شائع کیا۔ "دارالمصنفین کی تاریخی خدمات” آپ کی گراں قدر تصنیف ہے۔ اسی کتاب اور ایک مضمون سے آپ کی اعظم گڑھ پر دو غیر مطبوعہ کتابوں کا علم ہوتا ہے۔ ایک "ناموران اعظم گڑھ ” دوسری "تذکرہ مصنفین اعظم گڑھ” ہے۔ ان کتابوں کے علاوہ اعظم گڑھ کی تاریخ پر آپ کے دسیوں تحقیقی مقالات و مضامین مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہوئے ہیں، جن میں سے بعض اب اپ کے مضامین کے مجموعے؛ عکس و اثر، نقش و اثر اور حرف و اثر وغیرہ کا بھی حصہ بن گئے ہیں۔ یہاں تاریخ اعظم گڑھ کے تعلق سے آپ کی خدمات کا احاطہ کرنا مقصود نہیں ہے؛ بلکہ اس کی ایک جھلک پیش کرنی ہے۔اسی لیے تفصیلات سے احتراز کرتے ہیں۔ زیر نظر کتاب ” گلدستوں میں شعرائے اعظم گڑھ اور ان کا نادر کلام” تاریخ اعظم گڑھ پر ڈاکٹر صاحب کی ایک اور گراں قدر کاوش ہے، جس سے نہ صرف اعظم گڑھ کے دسیوں گمنام شعرا کے نایاب کلام محفوظ ہوئے ہیں؛ بلکہ متعدد شعرا کا نام اس کتاب سے پہلی مرتبہ منظر عام پر آیا ہے۔

زیر نظر کتاب 360/ صفحات پر مشتمل ہے۔ کتاب کے شروع میں "اعظم گڑھ کے شعری منظرنامہ” پر ایک علمی و تحقیقی مقدمہ ہے۔ جس میں تفصیل کے ساتھ اعظم گڑھ کے شعری منظر نامہ پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ مصنف نے علامہ شبلی اور ان کے اساتذہ سے اعظم گڑھ کی شعری تاریخ کو شروع کیا ہے۔ ہر دور کے اہم شعراء اور ان کے کلام کا نمونہ پیش کیا ہے۔” کتاب کے مفصل مقدمہ میں اولا اعظم گڑھ کے شعری منظر نامے کا اختصار سے ذکر کیا گیا ہے اور دکھایا گیا ہے کہ شعرائے اعظم گڑھ نے ہر دور میں شعر و شاعری سے بھرپور شغف رکھا اور نا مساعد حالات میں بھی داد سخن دیتے رہے۔ "(صفحہ 14) مقدمہ کے آخر میں پندرہ گلدستوں کا تعارف بھی پیش کیا گیا ہے۔ "یہاں اس بات کا ذکر ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اردو کے سوا دنیا کی کسی زبان میں گلدستوں کا وجود نہیں پایا جاتا ہے۔ اس انفرادیت کے باوجود گلدستوں پر اب تک کوئی علمی و تحقیقی کام نظر سے نہیں گزرا ہے۔ لہذا الگ الگ شہروں کے گلدستوں کا مطالعہ، ان کا انتخاب اور ان میں شامل شعرا کا تذکرہ بھی مستقل طور پر لکھا جانا چاھئے۔ تصنیف و تالیف بالخصوص جامعات میں تحقیقی مقالات کے لیے یہ ایک بے حد اہمیت کا حامل موضوع تحقیق ہے۔ امید ہے جامعات کے اساتذہ اس جانب توجہ فرمائیں گے۔ ” (14)

اصل کتاب 64/ صفحہ سے شروع ہوتی ہے۔ پہلا تذکرہ آز قاضی احمد کوئریا پاری کا اور آخری تذکرہ یتیم اعظمی نورالدین کا ہے۔ اس میں مصنف کا اسلوب اور منہج یہ ہے کہ پہلے شاعر کی شخصی حالات اور شعری خصوصیات پر اختصار مگر جامعیت کے ساتھ روشنی ڈالتے ہیں، پھر گلدستوں سے ان کی نایاب غزلوں یا اشعار کو نقل کرتے ہیں۔ اس مجموعہ میں اعظم گڑھ کے 94/ قدیم و جدید شعرا کا نادر و نایاب کلام شامل کیا گیا ہے۔ جن میں چار سو سے زائد غزلیں ہیں۔ متعدد شعرا کے صرف ایک دو اشعار شامل ہیں، اسی طرح بہت سے شعرا کے حالات تلاش بسیار کے باوجود نہیں مل سکے۔ نام و تخلص کے ساتھ صرف ان کا شعر نقل کردیا گیا ہے۔ اس کتاب میں شامل شعرا کے کلام اور ان کے عہد پر روشنی ڈالتی ہوئے فاضل مصنف لکھتے ہیں :
” اس کتاب میں شعرائے اعظم گڑھ کا جو کلام یکجا کیا گیا ہے اس کا غالب حصہ اردو شعر و شاعری کے ایک قدیم طرز سخن کا نمونہ اور کلاسیک کا درجہ رکھتا ہے۔ اب جدید اردو شاعری اور اس کی ترقیوں نے گو اس رنگ کہن کو پھیکا بلکہ مٹا دیا ہے، لیکن قدیم شعر و ادب بالخصوص غزلیہ شاعری کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے اور اس کے شیدائیوں کے لیے اب بھی اس میں لطف و لذت کا بہت کچھ سامان موجود ہے۔ کم از کم عہد گزشتہ لے شعر و ادب باز خوانی کے لطف سے تو کسی طور انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔۔۔۔۔ اس مجموعہ میں شامل تخلیقات کا دورانیہ ایک صدی کے عرصہ کو محیط ہوتا ہے۔ گویا یہ کتاب اعظم گڑھ کے شعرا کی تقریبا ایک صدی کی سخنوری کی اجمالی داستان ہے۔۔۔۔۔۔امید ہے شعر و سخن بالخصوص اعظم گڑھ کے شعر و ادب سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ کتاب ایک قیمتی سوغات ثابت ہوگی۔”

اعظم گڑھ کی شعری تاریخ پر یہ ایک تحقیقی کتاب ہے؛ اگرچہ اس سے قبل اعظم گڑھ کی شعری تاریخ پر مولانا قمر الزماں مبارک پوری نے تفصیل سے لکھا ہے؛ لیکن اس کتاب نے شعری تاریخ میں بیش بہا اضافہ کیا ہے۔ گلدستوں کی دبیز جلدوں سے سینکڑوں غزلوں اور اشعار کو جمع کرکے اعظم گڑھ کے شعرا کے ایک قیمتی ذخیرہ کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کردیا ہے۔ اس کتاب کے ذریعہ متعدد شعرا کے نام اور ان کے کلام کا پہلی مرتبہ علم ہوتا ہے۔ اس کتاب میں متعدد مشہور و معروف شعرا کے کلام بھی درج کئے گئے ہیں؛ لیکن اس میں بھی خاص بات یہ رہی ہے کہ یہ وہ کلام ہیں جو رسائل و جرائد کی دبیز جلدوں میں موجود تھے۔ ان شخصیات کی شہرت کے باوجود یہ کلام نایاب تھے۔ بلاشبہ یہ ایک گراں قدر اضافہ ہے۔ کتاب ادبی دائرہ اعظم گڑھ سے حاصل کی جاسکتی ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔