ترجمان امارت شرعیہ ” ہفت روزہ نقیب “کے نناوے سال

  عین الحق امینی قاسمی،معہد عائشہ الصدیقہ بیگوسرائے

  کسی بھی ادارہ ،تنظیم ،تحریک یا اخبار کے لئے سوسال کا لانبا سفر پورا کرنا ،نہ صرف اس اخبار وشخصیات کی مقبولیت کی دلیل ہوتی ہے ،بلکہ اس سے وابستہ رجال کارکے مخلص ہونے اور گردشہائے زمانہ کو انگیز کرنے کی مضبوط شہادت بھی ہے ، خاص طور پر جب ملک کی آزادی سے لے کر قومی وسماجی سطح پرہمہ جہت غیر معمولی قربا نیوں کا ایک طویل تر سلسلہ ہوتوعالمی منظر نامے میں اس کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے ،بلاشبہ امارت شرعیہ کا قیام جن حالات میں عمل میں آیا اور جن عظیم مقاصد کے پیش نظر ہواتھا اور اس وقت کے اکابرین بالخصوص مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالمحاسن سید محمد سجاد علیہ الرحمہ (متوفی :1940) کی دور بینی نے شہری آبادی سے زیادہ دیہی آبادی کی جو دینی ، علمی ،معاشی ،اصلاحی اورعدم تحفظ کے احساس کی صورت حال کو محسوس کیا تھا ،اس کے لئے امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کو یقینا ضرورت تھی کہ اس کا اپناایک قلمی ترجمان ہو جس سے برصغیر کے انسانوں بالخصوص مسلمانوں کی مجموعی صورت حال سے ملت اسلامیہ کو واقف کرایا جاتا رہے۔چنانچہ انہیں اعلی مقاصد کے پیش نظر 3/اگست 1924/ کو ” ہفت روزہ نقیب “کا پہلا شمارہ بنام ” جریدہ امارت “ شائع ہوکر ملت اسلامیہ کے لئے سرمہ بصیرت بنا۔ پہلے شمارے کے صفحہ اول پر اس اخبار کے مقاصد کو بڑا واضح طور پر لکھا گیاہے کہ : ”اس جریدہ کے اجرا کا مقصد وحید اسلامی کی خدمت ہےاور حالات وضروریات وقت کے لحاظ سے جن امور کی اشاعت ضروری ہوگی اور جن تعلیمات اسلامی کی تعلیم وتلقین عوام الناس کے لئے لابدی ہوگی وہ سب باتیں اس کے ذریعے شائع ہوتی رہیں گی،مگر ہمارے سامنے صرف شہری آبادی نہیں ہے ؛بلکہ اسلامی آبادی کا وہ حصہ زیادہ تر ملحوظ ہے جو دیہاتوں میں آباد ہے اور نہایت کسمپرسی کی حالت میں تمام اسلامی تعلیمات سے بے بہرہ ہے“

   اس اخبار کے پہلے ایڈیٹر کے طور پرمرد مجاہد ،ترجمان ملت اسلامیہ ہندیہ حضرت مولانا سید محمد عثمان غنی رحمہ اللہ مفتی وناظم اول امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کا انتخاب عمل میں آیا ، مولانا ومفتی عثمان غنی ساکن "دیورہ ” گیا ضلع کے رہنے والے تھے ، جنوری 1896ء میں ان کی پیدائش ہوئی تھی ،اعلی دینی تعلیم  انہوں نے دارالعلوم دیوبند سے حاصل کی، وہ شیخ الہند کے فیض یافتہ اور علامہ کشمیری کے مخصوص تلامذہ میں سے تھے ،دیو بند سے فراغت کے بعد بانی امارت شرعیہ مولانا ابوالمحاسن سید محمد سجاد علیہ الرحمہ  کی نگاہ جوہر شناس نے انہیں اپنے لئے چن لیا اور یہیں کے ہوکر وہ رہ بھی گئے،8/ دسمبر 1977/ کو پھلواری شریف پٹنہ میں ان کا انتقال ہوا اور وہیں باغ پیر مجیب میں مدفون ہیں۔

         اللہ نے انہیں بہت سی خوبیوں سے نوازا تھا ،وہ صحافت کا اعلی ذوق رکھتے تھے ،ان کا ذہن اور قلم ایک ساتھ چلتا تھا اور صرف اتنا ہی نہیں کہ وہ نقیب میں لکھتے تھے ،بلکہ حق اور سچ کو اس دم خم کے ساتھ لکھتے تھے کہ حکومت کے ایوان تک میں اس کی گھن گرج سنائی دیتی تھی۔خوبی کی بات یہ بھی تھی کہ اپنی مفوضہ ذمہ داریوں کے ساتھ وہ صحافت کو پوری طرح برتنے کا مزاج رکھتے تھے ،وہ دور چوں کہ برٹش گورنمنٹ کا تھا اس لئے اس کی کمیوں کو وہ ہمیشہ جرئت مندانہ لہجے میں بے نقاب کرتے رہے اور قوم کو جھنجھوڑ کر انگریز حکومت کے خلاف برسرپیکار رہنے کی تعلیم وتلقین بھی کرتے رہے۔جس کی پاداش میں مرحلہ وارنقیب کے شمارے کو بھی ضبط وپابندی کے عتاب کا شکا ر ہونا پڑااور مدیر محترم مولانا عثمان غنی بھی مقدموں اور جرمانوں سے گذرتے رہے۔  

         پہلی مرتبہ اس وقت نقیب پر پابندی لگی تھی جب مولانا نے اپنے ایک اداریئے میں مسلمانوں کو مخاطب کر کے حکومت وقت کے ظلم وتشدد کوسر عام طشت ازبام کیا تھا ،انہوں نے اپنے ادارئیے کا عنوان ایسالگایا تھا کہ برٹش حکومت تلملا گئی "حکومت اور مسلمان ،نزلہ برعضو ضعیف ریزد” نامی اس اداریئے کی پاداش میں برٹش گور منٹ اپنی ناکامی کو چھپانے کے لئے نہ صرف مولانا پر بغاوت کا مقدمہ چلایا ، بلکہ جرمانہ عائد کرنے کے ساتھ ہی اس کے تازہ شمارے کو بھی ضبط کر لیا۔مقدمے کے خلاف کورٹ میں اپیل داخل کی گئی، گیارہ دن جیل میں رہ کر اور پانچ سو روپے عائد جرمانہ ادا کرنے کے بعد جب وہ رہا ہوکر تشریف لائے ہیں تو دوسری مرتبہ 1927/میں بتیا مشرقی چمپارن بہار کے فساد کے موقع پر بھی مولا نے زبردست تنقید کی تھی اور ایک زور دار اداریہ لکھ کر حکو مت کی نااہلی کو اجاگر کیا تھا ،اس کے نتیجے میں مدیر تحریر مولانا محمد عثمان غنی کے خلاف مقدمہ دائر کر ایک ہزار روپے جر مانہ اور ایک سال کی سزاکا اعلان کیا گیا تھا ،نقیب کی اشاعت پر بندش وپابندی کا تیسرا مرحلہ بھی آیا جب ”دینداری اور بے دینی “ کے عنوان سے آپ نے 1933/میں ایک زبردست مضمون قلم بند کیا تھا جسے نقیب کی اشاعت میں شامل فرمایا ،مذکورہ بالا عنوان سے لکھا گیا وہ مقالہ مانو جیسے تیر نشانے پر لگا ہو ، گورمنٹ کی پوری ٹولی میں ہلچل مچ گئی اور ایک ہزار کے مالی جرمانے کے ساتھ اس شمارے کو بھی ضبط کرلیا گیا ۔

نقیب کا پرانا نام ” جریدہ امارت “ تھا اور ایک مدت تک اسی نام سے شائع ہوتا رہا ،اور اسی نام سے چھپتے ہوئے اس پر پابندیا ں لگتی رہیں اور جریدہ چھپتا بھی رہا ۔ اس وقت اس کی قیمت موجودہ نرخ کے حساب سے بہت معمولی تھی ،مولانا محمد عثمان غنی کے پوتے ڈاکٹر ریحان غنی اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں:

اس وقت "امارت”کی سالانہ قیمت ڈیڑھ روپیہ، ششماہی بارہ آنہ اور ایک پرچے کی قیمت ایک آنہ تھی. اس کے صفحات 12 سے 16 تک ہوا کرتے تھے. جلد نمبر 2 کا پہلا، دوسرا اور تیسرا شمارہ مشترکہ تھااور اس کی تاریخ اشاعتِ ، 20محرم اور 5صفر 1344ھ(یوم دوشنبہ، سہ شنبہ اور چہار شنبہ) تھی. اس شمارے میں 16 صفحات ہیں . اس کے پہلے صفحہ یعنی سرورق پر "شان حسین” کے عنوان سے خواجہ اجمیری کے دو اشعار اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے متعلق سید عثمان علی خان بہادر شہریار، ڈاکٹر اقبال اور درد کاکوروی کی نظمیں ملتی ہیں. دوسرے صفحہ پر” السنتہ الثانیہ” کے عنوان سے عربی میں اور "سنگھی ہندوؤں کے دور جدید کا آغاز” کے عنوان سے اردو میں اداریہ ہے. جبکہ "برکات امارت شرعیہ” کے عنوان سے صفحہ 3 سے 10 تک امارت شرعیہ کی تبلیغی، اصلاحی اور تنظیمی سرگرمیوں کا ذکر ہے. صفحہ 11پر” حکمت وموعظت” کے عنوان سے دینی اور اسلامی باتوں کے علاوہ کچھ اسلامی مسائل بھی دیئے گئے ہیں. مثلاً اونگھنے سے وضو نہیں ٹوٹتا وغیرہ. صفحہ 12 کا عنوان ہے” ستون اسلامیہ”. اس کے تحت اسلامی ممالک سے متعلق خبریں ملتی ہیں. صفحہ 14 کا عنوان ہے "دنیا سیاست اور عالم اخبار”. اس عنوان کے تحت صفحہ 14اور15 پر مختلف قسم کی خبریں دی گئی ہیں. مثلاً چین کی بیداری زرد اقوام اور قومیت کا احساس، ایک آدمی کے پیٹ میں ہاتھی، اسمبلی کے جدید صدر کا انتخاب، عورت مرد ہو گئی وغیرہ. سولہویں اور آخری صفحہ پر زیادہ تر اشتہارت ہیں اور ایک کنارے پر تحریر ہے کہ سید محمد عثمان غنی پرنٹر پبلیشر نے دفتر جریدہ امارت پھلواری شریف پٹنہ سے شائع کیا اور برقی پریس میں چھپوایا”

 اور اس پوری مدت میں اس کے مدیر مولانا عثمان غنی سابق ناظم امارت شرعیہ ہی رہے۔ جریدہ امارت کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ تیسری مرتبہ 3/ جولائی 1933/ کو اس کی اشاعت پر پابندی لگی اور تقریباً ایک ماہ تک اس کی دوبارہ اشاعت نہ ہوسکی جس کی وجہ سے لوگوں میں حد درجہ بے چینی محسوس کی جانے لگی ، مسلمانوں تک ملک وملت کی خبریں پہنچنی بند ہوگئیں، چوں کہ جریدہ امارت ہی اس وقت خبروں کی ترسیل کا واحد مضبوط اور بھروسہ مندذریعہ تھا جس کی خبروں  پر لوگ  مکمل اعتماد کرتے تھےاور جس میں مدیر محترم سماجی وملی مسائل کو زور دار طریقے سےاٹھا کر حکومت کے کارندوں کو بے چین کرنے کا کوئی مو قع ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے ،بلکہ مسلم آبادی سے دین پر استقامت ،صبر ،تحمل ،دینی امور کی کامل پیروی اور آپسی اتحاد و بھائی چارے کو بحال رکھنے جیسے احکام بھی درج ہوتے تھے۔

  عام مسلمانوں کی ضرورتوں کے پیش نظر اور ملت اسلامیہ کے احوال سے واقفیت کے لئے جریدہ مارت کا چوتھی بار اجرا ناگزیر ہوگیا تب بالغ نظر علماءوصلحاءکے باہمی مشوروں سے29/ جولائی 1933/ کو ایک بار پھر اس کی اشاعت کا سلسلہ شروع کیا گیا ؛ مگر اس بار "جریدہ امارت” کو اس کے سابق نام سے شائع کرنے کی بجائے "جریدہ نقیب” کے نام سے شروع کیا گیا اورمصلحتاً بحیثیت پرنٹر پبلشر اس پر محترم صفیر الحق ناصری کا نام لکھا جانے لگا؛ لیکن عملاًپرنٹر پبلشر اور ادارت کی ذمہ داری مولانا سید عثمان غنی ہی نبھاتے رہے۔اس وقت تک صفحات کی تعداد آٹھ ہی تھی ،البتہ اب اس کی اشاعت ہر ماہ کی ایک تاریخ اور پندرہ تاریخ کی بجائے پانچ اور بیس تاریخ میں ہونے لگی۔ تاریخی پس منظر سے معلوم ہوتا ہے کہ 1951/ سے 1962/ تک غالباً سلسلہ اشاعت کو بحال رکھنے کی غرض سے نقیب اور مدیر کی ترتیب میں کئی جہتیں سامنے آئی ہیں : مثلاً آزادی کے بعد ایک موقع پر بحیثیت مدیر "شاہ محمد عثمانی رہے ، مولانا عثمان  غنی مدیر مسؤل ہوئے،پھر نگراں کی حیثیت سے کام کرنے لگے اور پھر مدیر کی حیثیت سے محمد عثمانی صاحب کا نام لکھا جانے لگا ۔اسی طرح کبھی ہفت روز ہ تو کبھی پندرہ روزہ کے طورپر نقیب کی اشاعت سلسلہ مسلسل جاری رہا ۔

 اندازہ ہوتا ہے کہ اجتماعی کام اور مشن کو لے کر چلنے میں کیا کیااور کس کس طرح کی مشکلیں کھڑی ہوتی ہیں اور ان مشکلوں کو کس طرح سے انگیز کیا جاتا ہے،اس حوالے سے بالخصوص مولانا سید محمد عثمان غنی صاحب نئی نسل کے لئے آئڈیل ہیں ،جنہوں نے مشکل ترین حالات میں بھی امارت کے اندر خود کو ایڈجسٹ کیا اور نظام امارت کو سنبھالنے کا فرض نبھایا ، عہدہ ومنصب سے اوپر نیچے کردیئے جانے کے باوجود جن صبر آزما حالات میں بھی وہ مولانا ابوالمحاسن سید محمد سجاد ؒکے دست راست بن کر امارت کے لئے کھڑے رہے اور اپنی خدمات پیش کرتے رہے ،ان واقعات و حقائق کو پڑھ کر آنکھیں نم ہوجاتی ہیں خاص طور سے ا ن پر ایک دور ایسا بھی آیا جب امارت کے پاس اپنے کارکنان کو تنخواہ دینے کے پیسے نہیں تھے ، مولانا کی پوری تنخواہ سوخت کردی گئی اور دیگر حضرات کی جزوی تنخواہ۔ تب بھی مولانا محمد عثمان غنی نے اپنی بے لوث خدمات سے امارت شرعیہ کو بامراد کیا اور مولانا محمد سجاد سے کئے گئے عہد وپیماں کے ساتھ جیتے جی وفا کرتے رہے ،جب کہ مولانا عثمان غنی امارت کی کنہیات سے واقف تھے ،اور خود حضرت سجاد کے دست راست ورازدار تھے، حضرت سجاد کے فکر ونظر کے شارح تھے ،حضرت سجاد کے خاکوں میں رنگ بھری کرنے والے کئی دماغوں کا ایک انسان تھے۔امارت کے لئے کتنے گردشہائے زمانہ کو انہوں نے جھیلا تھا ،امارت کے تئیں ہونے والے اختلافات کو رفع کیا ،امارت کے لئے بھوکے پیاسے اور پیدل کئی کئی روز بے کیف اسفار کئے، امارت شرعیہ کو ابتداء جن خوبیوں کی ضرورت تھی مولانا محمد عثمان غنی نے امارت کے استحکام کے لئے وہ تمام خوبیاں اور مواقع مہیا کئے ۔مگر چیں بہ جبیں ہونے کی بجائے  اورتمام تر دشواریوں کے باوجود انہیں ایک سبق یاد تھا :

              ” نیکی کر دریا میں ڈال "

ایک موقع پر مولانا  سیدمحمد سجاد  علیہ الرحمہ نے مولانا محمد عثمانی غنی کو جو خط لکھاہے ،وہ پڑھنے کی چیز ہے ،ایک نظر اس پربھی ڈالتے چلیں:

مکرمی ومحترمی زادلطفکم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

چونکہ اس سال مالی دقت تمام سالوں کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہورہی ہے،جوتمام کارکنوں کو معلوم ہے،وظائف کی ادائیگی ناممکن سی ہورہی ہے،تقاضابھی شدیدہوتاہے،کوئی صورت امیدافزابھی نہیں ہے، اس لئے ان حالات پرآج غورکیاگیا،اخراجات کوکم کرنے کی کوشش کی گئی،اورحضورامیرشریعت مدظلہ میں تمام صورت حال کانوٹ اورتخفیف کاخاکہ پیش کیاگیا،حضورامیرشریعت نےبھی آج ہی اس پرمنظوری دےدی ہے، اس لئے آج ہی آپ کواس کی اطلاع دےدینابھی ضروری ہواکیونکہ یکم جمادی الاول سےاس پرعمل درآمدہوگا۔اس میں جو تجویز منظور ہوئی ہے یہ بھی ہےکہ آپ کا(مولانا عثمان غنی کا) اورمولاناقاضی سیدنورالحسن صاحب کاعہدہ اعزازی باقی رکھتے ہوئے کل وظیفہ ساقط کردیاگیا اوردفترمیں اکثربقیہ لوگوں کےوظیفہ میں تخفیف کی گئی ہے۔اس کےباوجودبھی نہیں کہاجاسکتاکہ اخراجات کے مطابق آمدنی ہوگی۔ یا نہیں ، دعا فرمائیے کہ امارت شرعیہ کانظام اورکام جاری وباقی رہے،اوراللہ تعالیٰ ایسےحالات پیداکردے جن سے مشکلات پرقابوپاناسہل  ہوجائے،آپ توخودپورے حالات سے واقف ہیں۔  والسلام     دستخط مولانا( ابوالمحاسن محمد سجاد) ربیع الثانی٥٩ ۱۳ھ

         یہ مولانا محمد سجاد بانی امارت شرعیہ کے خط کا عکس تھا جو ناظم امارت کو لکھا گیا تھا ،جس میں انتظامیہ کی طرف سےکام کی چاہت کے ساتھ کل تنخواہ سوخت کردینے کا پیغام تھا ،مگر قومی وملی غیرت نے مولانا محمد عثمان غنی کو امارت کی خدمتوں سے جوڑے رکھا ، ان کے پائے استقامت میں کبھی لغزش تک نہیں آئی ۔مولانا کے ضمیر نے ہمیشہ قناعت اور توکل کا سہارا لیا ،دنیا کے جاہ وجلال کا اپنے اندر کبھی احساس تک ہونے نہیں دیا ۔ وہ یقینا نئی نسل کے لئے آئیڈیل  اور خیر خواہ تھے اور سچ مچ امارت شرعیہ کے بے لوث خادم تھے۔ہفت روزہ نقیب کو قرار واستحکام بخشنے میں مولانا کے کردار کو بھلایا نہیں جاسکتا ،ان کی علمی جلالت اور قلمی شان کی وجہ سے مولانا فضل حق عظیم آبادی اور علی برادران جیسے صاحب قلم  کے مضامین نقیب میں شائع ہوتے تھے  اور نقیب کی رپورٹیں مولانا محمد علی جوہر کے اخبار” ہمدرد” میں جگہ  پاتی تھیں۔ اس طرح سے یقینا نقیب اور امارت کو ایک ساتھ پروان چڑھانے میں مولانا محمد عثمان غنی  کی دل سوزی بے مثال رہی ہے۔امیر شریعت سابع مفکر اسلام  حضرت مولانا محمد ولی رحمانی رحمہ اللہ نے کیا خوب کہا ہے :  امارت شرعیہ درد والوں کا کارواں ہے اور دردمندوں کاادارہ ہے 

خدا رحمت کند این عاشقان پاک طینت را

(جاری)

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top
%d bloggers like this: