در مدحِ آں غزل
از:- عاصم افتخار
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی صاحب کے مضمون “علامہ تفتازانی رحمہ اللہ کی شرح العقائد” میں بنیادی طور پر تین دعوے سامنے آتے ہیں:
شرحِ عقائد کا تعارف اور اس کا کلامی و فلسفیانہ مزاج
مصنف کے نزدیک شرحِ عقائد، اگرچہ متن کے اعتبار سے امام نسفیؒ کی تصنیف پر شرح ہے، مگر علامہ تفتازانیؒ نے اس میں فلسفہ اور علمِ کلام کو اس درجہ غالب کر دیا ہے کہ یہ کتاب محدثین کے منہجِ عقیدہ سے ہٹ کر ایک خالص کلامی متن بن جاتی ہے۔
اسی ضمن میں وہ بار بار اس نکتے پر زور دیتے ہیں کہ یہ کتاب نہ امام ابو حنیفہؒ کے عقائد کی نمائندہ ہے اور نہ ہی اہلِ حدیث و سلفی روایت سے ہم آہنگ۔
یہ بھی پڑھیں: علامہ تفتازانی کی شرح عقائد
اہلِ سنت والجماعت کی تعبیر کو اشاعرہ تک محدود کرنا
مضمون کا ایک مرکزی اعتراض یہ ہے کہ علامہ تفتازانیؒ نے اہلِ سنت والجماعت کی اصطلاح کو اشاعرہ کے ساتھ خاص کر دیا، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دیگر سنی مکاتب—خصوصاً اہلِ حدیث—عملاً اس دائرے سے خارج ہو جاتے ہیں۔
مصنف کے نزدیک یہ طرزِ تعبیر نہ صرف تاریخی طور پر غلط ہے بلکہ فکری طور پر بھی خطرناک ہے۔
عقل کی مرجعیت، کرامات میں غلو، اور فقہی جزئیات کا ادخال
مضمون میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ:
شرحِ عقائد میں عقل کو عقائد کا مستقل ماخذ بنا دیا گیا ہے؛
بعض کراماتِ اولیاء کے بیانات (مثلاً کعبہ کا کسی ولی کی زیارت کو جانا) نصوصِ قطعیہ سے متصادم ہیں؛
اور بعض فقہی جزئیات، جیسے نبیذِ تمر، کو عقائد کے باب میں شامل کر کے اختلافی فقہی مسائل کو معیارِ ایمان بنا دیا گیا ہے۔
انہی مجموعی نکات کی بنیاد پر ڈاکٹر صاحب ندوۃ العلماء کے اس فیصلے کو درست قرار دیتے ہیں کہ شرحِ عقائد کو نصاب سے خارج کر دیا جائے۔
مندرجہ بالا موقف بظاہر علمی اور ایک درست تنقید معلوم ہوتی ہے، لیکن اگر گہرایی سے اسے دیکھیں تو علمی سطح پر یہ نقد کئی بنیادی کمزوریوں کا شکار ہے۔ ذیل میں ان کمزوریوں کو ایک ایک کر کے واضح کیا جا رہا ہے۔
کلام کے اسلوب و طریقۂ استدلال پر اعتراض
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی صاحب کی تحریر میں جو بنیادی اعتراض ہے وہ شرح عقائد کے اسلوب اور طریقۂ استدلال پر ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ شرحِ عقائد میں فلسفہ و علمِ کلام کا غلبہ ہے،(جبکہ علم کلامہی علم العقائد ہے تو علم کلام کا غلبہ ایک ضروری امر ہے)۔ عقلی استدلال کو نمایاں حیثیت دی گئی ہے، اور عقائد کے بیان میں نصوصِ شرعیہ پر براہِ راست اعتماد کم دکھائی دیتا ہے(یہ ایک مفروضہ ہے ، اور علم کلام کے مسائل کے پیچھے کے نصوص سے عدم واقفیت، یہ اعتراض بہت سے لوگ کلام کے ساتھ ساتھ فقہ پر بھی وارد کرتے ہیں) ۔ تاہم یہ اعتراض، گہرائی میں دیکھا جائے تو شرحِ عقائد کی داخلی علمی ساخت پر کم اور علمِ کلام کے مجموعی منہج پر زیادہ وارد ہوتا ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے مختلف تعلیمی مراحل (educational levels) کے مناہج کو آپس میں خلط کر دیا ہے۔ مدارس کے ابتدائی درجات میں عقائد کی تدریس کا منہج یہ ہوتا ہے کہ:
ایمانی حقائق کو براہِ راست قرآن و سنت کی نصوص سے اخذ کر کے پیش کیا جاتا ہے؛
دلائل کو اجمالی رکھا جاتا ہے؛
اور ان نصوص کے پیچھے کارفرما عقلی اصول و مبادی اور استدلالی ڈھانچے کو صراحتاً موضوعِ بحث نہیں بنایا جاتا۔
اس ابتدائی درجات میں عقیدہ طحاویہ وغیرہ پڑھائی جاتی ہے اور ابتدایی سطح کے لیے یہ طریقۂ تدریس بالکل درست ہے،اس کے برعکس، شرحِ عقائد جیسے متون ابتدائی تعلیم کے لیے نہیں لکھے گئے؛ بلکہ ان طلبہ کے لیے ہیں جو پہلے ہی نصوصِ عقائد سے واقف ہو چکے ہوں؛ اور اب یہ جاننا چاہتے ہوں کہ ان نصوص کے پس منظر میں کون سے عقلی اصول و مبادی کارفرما ہیں، اور مختلف فکری چیلنجز کے سامنے نصوص کے ثابت شدہ عقائد کا دفاع کس طرح کیا جاتا ہے۔
چنانچہ جب ڈاکٹر صاحب شرحِ عقائد کو اس منہج پر پرکھتے ہیں جو دراصل ابتدائی درسی متون کے لیے موزوں ہے، تو نتیجتاً کتاب نہیں بلکہ کلامی منہج ہی محلِّ اعتراض بن جاتا ہے۔ بنا بر ایں ان کی تنقید میں جو نکات ہیں، جیسے فلسفہ کا غلبہ، عقلی موشگافیاں، صفات میں استدلالی بحث، اور اصطلاحی تقسیم، یہ سب شرحِ عقائد کی انفرادی خصوصیات نہیں بلکہ ہر کلامی متن کا اسلوب اور پیرایہ ہے۔ ان بنیادوں پر شرحِ عقائد کو ہدف بنانا درحقیقت اس بات کا اعتراف ہے کہ اختلاف کتاب سے نہیں بلکہ علمِ کلام کے طریقۂ استدلال سے ہی ہے۔
یوں یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ ڈاکٹر اکرم ندوی صاحب کی تنقید کتاب پر کم اور کلامی منہج پر زیادہ ہے۔ عقائد کی تعلیم میں جب کلامی منہج کو اس کے اصل تعلیمی محل سے ہٹا کر ابتدائی درجے کے معیار پر پرکھا جائے تو نتیجہ لازماً منفی ہی نکلے گا، حالانکہ یہ منفیّت عدمِ مطابقت (mismatch of level) کا نتیجہ ہے، نہ کہ کتاب کی علمی کمزوری کا۔
اشاعرہ کو اہل سنت والجماعت سے تعبیر کرنے پر اعتراض
اس نکتے پر ڈاکٹر محمد اکرم ندوی صاحب کی تنقید کا مدار اس دعوے پر ہے کہ شرحِ عقائد میں اہلِ سنت والجماعت کی تعبیر کو اشاعرہ تک محدود کر دیا گیا ہے( ایسی کوئی عبارت شرح عقائد میں موجود نہیں)، اگر کوئی مصنف اشاعرہ کا ذکر کرکے انہیں اہل سنت کہ بھی دے تو یہ کہنا کہ اس اسلوب کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دیگر مکاتبِ فکر؛ بالخصوص محدثین کا ایک طبقہ جو کلامی استدلال میں عقائد کو نہیں پڑھتے یا پڑھاتے ہیں، عملاً دائرۂ اہلِ سنت سے خارج ہو جاتے ہیں۔ یہ اعتراض تاریخی استعمال، کلامی اسلوب اور تعبیراتی سیاق تینوں کے لحاظ سے محلِّ نظر ہے۔
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ العقائد النسفیۃ، جس پر علامہ تفتازانی نے شرح لکھی ہے ، اصلاً ماتریدی اصولِ عقیدہ پر مبنی تصنیف ہے۔ اور اس شرح کا علمی سانچہ بھی ماتریدی کلامی روایت ہی سے تعلق رکھتا ہے۔ چنانچہ یہ کہنا کہ اس متن یا اس کی شرح میں اہلِ سنت والجماعت کو دانستہ طور پر صرف اشاعرہ تک محدود کر دیا گیا ہے، ایک غیر محتاط تعبیر ہے۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ کلامی کتابوں میں اشاعرہ اور ماتریدیہ کو عموماً ایک ہی صف میں، بطور اہلِ سنت ذکر کیا جاتا رہا ہے۔ کلاسیکی کلامی متون میں یہ طرزِ بیان معروف ہے کہ کبھی اشاعرہ کا نام بطورِ مثال لیا جاتا ہے اور کبھی ماتریدیہ کا، مگر اس سے دوسرے گروہ کی نفی لازم نہیں آتی۔ اور تاریخی اور طبقات کی کتابوں میں اہلِ سنت والجماعت کی تعبیر اشاعرہ و ماتریدیہ کے ساتھ محدثین اور اہلِ اثر
سب کو مجموعی طور پر اہلِ سنت کہا گیا ہے۔
کلامی تناظر میں یہ بات بالکل درست ہے کہ اشاعرہ اہلِ سنت والجماعت کے ایک بڑے، مرکزی اور مؤثر علمی گروہ ہیں۔ انہیں اہلِ سنت کہہ دینا نہ تو فرقہ واریت ہے، نہ کسی دوسرے سنی مکتب کی نفی، اور نہ ہی یہ تعبیر بذاتِ خود کسی تنگ نظری کو جنم دیتی ہے۔ علامہ تفتازانیؒ کا اسلوب اس نوعیت کا نہیں۔ ان کا اشاعرہ کو اہلِ سنت کہنا کلامی نسبت ہے۔ اس اسلوب سے یہ نتیجہ نکالنا کہ لازماً طلبہ میں تنگ نظری یا امت کی تفریق پیدا ہوگی، درحقیقت خود تعبیر کی وسعت کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔ یہاں ڈاکٹر صاحب نے ایک خاص کلامی تعبیر کو غیر ضروری طور پر امت کے انتشار سے جوڑ دیا ہے، حالانکہ علمی روایت میں یہ تعبیر صدیوں سے رائج رہی ہے اور اس تعبیر نے نہ کبھی ماتریدیہ کو اہلِ سنت سے خارج کیا، نہ محدثین کو، اگر اسی بات کو عقیدت طحاویہ پر منطبق کر کے دیکھا جائے تو کوئی یہ بھی استدلال کر سکتا ہے کہ کیا امام طحاوی نے مالکہ شوافع اور حنابلہ سب کو اہل سنت سے خارج قرار دے دیا ہے؟ کہ وہ کتاب کے شروع میں اہل سنت کے عقائد کو بیان کرتے ہویے صرف امام ابو حنیفہ امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہ اللہ کی طرف ان عقائد کی نسبت کرتے ہیں۔
اس لیے اشعری یا ماتریدی کو اہل سنت کہنا اور اس تعبیر کو فرقہ واریت کا سبب سمجھنا، اسلوب سے زیادہ قاری کے فہم پر عدمِ اعتماد کی علامت ہے۔
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی صاحب کی تنقید میں عقل اور نقل کے باہمی تعلق کو جس انداز میں پیش کیا گیا ہے، وہ ایک مصنوعی تقابل پر مبنی معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ تاثر دیا ہے کہ متکلمین عقل کو گویا “حاکم” اور نقل کو “محکوم” مانتے ہیں جبکہ اگر بظاہر کہیں نقل و عقل کا ٹکڑاؤ ہو جایے تو اس باب میں امامغزالی ؒ کی مستقل تصنیف قانون التاویل کے نام سے موجود ہے اسی طرح اشاعرہ اور ماتریدیہ نے امام ابن تیمیہ ؒ کے بیان کردہ اصول کو بھی اس امر میں قبول کیا ہے (خاص کر بر صغیر میں) اسی طرح متکلمین نے عقل کو کبھی بھی سمعیات اور حسن و قبح میں ایک مستقل ماخذ نہیں شمار کیا ہے, (اشاعرہ تو حسن و قبح کے کسی بھی جہت سے عقلی ہونے کے خلاف ہیں). اس ضمن میں میں یہ دعویٰ کہ “ایمانی حقائق صرف نقل سے ثابت ہوتے ہیں، عقل سے نہیں”، خود ایک عقلی مقدمہ ہے، جو ہماری روایت میں کسی کا نہیں رہا حتی کہ امام ابن تیمیہ کا بھی یہ موقف نہیں، یہ موقف عمانیول کانٹ کے فلسفہ کے بعد مذہبی حلقوں میں مقبول ہوا ہے۔ چنانچہ کانٹ کے بنیاد پر شرحِ عقائد کو اور پورے کہ پورے ریشنل تھیولوجی کو غیر معیاری قرار دینا واضح طور پر ہماری اپنی علمی روایت کا حصہ نہیں ہے۔
کرامات اولیاء میں غلو کے عنوان سے متعلق اعتراض سب سے کمزور تنقید ہے اور اس طرح کی تنقید کی توقع ہم جیسے طالب علم ڈاکٹر اکرم ندوی صاحب سے نہیں رکھتے ۔ ڈاکٹر محمد اکرم ندوی صاحب خود اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ شرحِ عقائد کے مطبوعہ اور معیاری نسخوں میں “کعبہ کا ولی کی زیارت کے لیے جانے” والی عبارت موجود نہیں، یہ بات انہوں نے ابن عابدین شامی ؒ نے کہیں امام تفتازانی کے حوالہ سے نقل کی ہے۔ اس اعتراف کے بعد کہ یہ مطبوعہ نسخوں میں موجود مہیں اسی نکتے کو مستقل اعتراض بنا کر پیش کرنا، اور اسے کتاب کی فکری خامی کے طور پر شمار کرنا، علمی دیانت کے معروف اصولوں کے خلاف ہے۔ تحقیق کا بنیادی قاعدہ یہ ہے کہ پہلے متن کا ثبوت قطعی طور پر قائم ہو، اس کے بعد اس پر حکم لگایا جائے۔ جو بات معیاری متن میں ثابت ہی نہ ہو، اسے بنیاد بنا کر پوری کتاب کے علمی معیار پر سوال اٹھانا درست نہیں۔
اسی طرح کراماتِ اولیاء کے باب میں بھی ایک معروف مغالطہ دکھائی دیتا ہے، جہاں امکان اور وقوع کے درمیان فرق کو ملحوظ نہیں رکھا گیا۔ اس بابیں کلامی متون عموماً محض امکان پر گفتگو کرتے ہیں، یعنی یہ بتانا کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے اعتبار سے کسی امر کا ممکن ہونا اصولاً محال نہیں۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ایسا واقعہ بالفعل پیش آیا ہو یا اسے عقیدے کا لازمی جزو بنا دیا گیا ہو۔ یہ اسلوب فقہ، اصولِ فقہ میں معروف ہے، جہاں محض کسی امر کا ممکن ہونا بیان کرنا، اسے اعتقادی مسلّمات میں شامل کرنا نہیں ہوتا۔ امکان اور وقوع کے اس فرق کو نظرانداز کرنا خلط مبحث (category mistake) کی ایک واضح مثال ہے۔
اسی طرح کسی خاص فقہی جزییات ا کسی عقیدہ کی کتاب میں شامل ہونا ایک خاص پس منظر اور سیاق و سباق رکھتا ہے اور اس طرح کی کتابیں پڑھنے سے طلبہ کو یہ فایدہ ہوتا ہے کہ انہوں کلامی و فقہی تعلق کا ایک وسیع کینوس معلوم ہوتا ہے جس سے انہیں تاریخ کے واقعات اور بحثوں کو صحیح طور پر سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے، اس طرح کی ایک مثال خود عقیدہ طحاوی میں شامل ہے۔
ڈاکٹر اکرم ندوی صاحب نے ایک بات اور بیان کی ہے کہ شرح العقائد یہ عقائد نسفیہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے منہج عقیدہ کو بیان نہیں کرتا بلکہ امام طحاوی رحمہ اللہ کی کتاب عقیدۃ طحاویہ امام صاحب کے منہج کو بیان کرتا ہے یہ بات بھی تاریخی اور اسلوبی طور پر درست نہیں ہے امام صاحب کی طرف منسوب عقائد میں کئی کتابیں موجود ہیں اس میں سے ایک الفقہ الاکبر اور دوسری العالم والمتعلم ہے جس کی شرح امام ابن فورک رحمہ اللہ نے لکھی ہے ۔ امام صاحب کی طرف منسوب ان کتابوں کو دیکھنے کے بعد اور امام ماتریدی رحمہ اللہ کے سلسلۂ اسناد کو دیکھنے کے بعد تاریخی طور پر کوئی یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ عقائد نسفیہ اور شرح العقائد امام صاحب کے منہج پر نہیں ہے۔
آخر میں ندوۃ العلماء کے موجودہ نصاب کی طرف نظر ڈالی جائے تو ایک نمایاں داخلی تضاد سامنے آتا ہے۔ ندوہ میں اس وقت جو شرحِ عقیدۂ طحاویہ پڑھائی جا رہی ہے، جس کے مصنف شیخ عبد الرحمان الخمیس ہیں ، اس شرح کے بعض مقامات میں مجسمہ و مشبہ کے اسالیب سے غیر معمولی قربت پائی جاتی ہے، اور کیی جگہ شارح امام طحاوی کا ہی رد کرتے دکھائئ دیتے ہیں۔ اس شرح کو پڑھنے کا ایک نتیجہ یہ بنے گا کہ ماتریدیہ اور اشاعرہ کو کم از کم فکری طور پر “اہلِ سنت سے خارج” یا گمراہ سمجھنے کا تاثر پیدا ہوجاییگا، ایسی شرح کو نصاب میں برقرار رکھنا اور اس کے بالمقابل شرحِ عقائد کو خارج کرنا ایک واضح داخلی تضاد کی علامت ہے، جس پر سنجیدہ علمی نظرِ ثانی ناگزیر معلوم ہوتی ہے۔(ہم جیسے ندوہ کے خوشہ چین یہی سمجھتے ہیں کہ ندوہ اہل سنت والجماعت کے اصول اور منہج پر قائم ایک بنیادی اور اہم ادارہ ہے، ہم جیسے طالب علم موجودہ اکابرین ندوہ دامت برکاتہم العالیہ سے یہ درخواست و امید کرتے ہیں کہ وہ موجودہ شرح کو نصاب سے نکال کر ایسی شرح کی تعلیم کا انتظام کریں گے جو مشبہ و مجسمہ کی تعبیرات سے خالی ہوگی)