از:- ڈاکٹر محمد اعظم ندوی
اقبال نے کہا تھا:
آئین نو سے ڈرنا، طرز کہن پہ اَڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں
مولانا محمد ہدایت اللہ قاسمی صاحب کی کتاب "جدید عربی: عربی حروف میں فرنگی زبان” کے کچھ اقتباسات نظر نواز ہوئے، ان کی اس بنیادی فکر سے بڑی خوشی ہوئی کہ عربی زبان پر انگریزی تعبیرات کے اثرات خوش آئند نہیں، اور اس کی اصلاح ہونی چاہیے، واقعی کئی الفاظ وتعبیرات ہو بہو یا قریب قریب عربی میں انگریزی سے در آئے ہیں، جو عربی کی خود مختاری کو چیلنج کرتے ہیں، اسی طرح بعض مسلّم الفاظ کو دوسرے معانی میں استعمال کرنا بھی ان الفاظ کو جیسے اغوا کرنا ہو جیسے علماء، تشریع، تلاوت وغیرہ۔
لیکن مصنف نے اس کو اتنی زیادہ وسعت دے دی ہے کہ اب عربی لکھنا ہی مشکل ہو جائے گا، کاش کہ وہ اپنی ترجیحات کے مطابق کسی ایک معروف کتاب کے کچھ اقتباسات کو جن کو وہ غلط کہہ رہے ہیں، عربی میں لکھ کر پیش کر دیتے تو اہل علم خود فیصلہ کرلیتے، اس طرح تردید کرنا تو گویا عربی میں کچھ بھی لکھنے سے روکنا ہے، صرف قدیم کتابوں کی نقول ہی ہوسکتی ہیں یا بہت ہی خشک انداز میں شرح وتفسیر، یہ ایسے ہی ہے جیسے بہت سے علماء جدید مسائل پر غور وفکر میں توسع اور توسیع پر تنقید کرتے ہیں اور خود بھی حل پیش نہیں کرتے، بس حرام، مکروہ، خلاف اولی یا احتیاطا نہ کیا جائے کہہ کر فارغ ہو جاتے ہیں، اسلامک بینکنگ کے خلاف جارحانہ تنقید لکھنے والوں نے آج تک کوئی ماڈل خالص ہدایہ سے نہ پیش کیا، گویا مسئلہ کا حل بھی نکالنا ہے اور حل ہوتے مسائل میں تشکیک کا رویہ بھی اپنانا ہے تاکہ خود کو بہت محتاط اور صاحب تقوی عالم دین قرار دیں اور اللہ اللہ کرتے رہیں، اور متبادل پیش نہ کریں۔
یہی صورت حال برصغیر میں عربی زبان وادب کی خدمات کا ہے، شاہ ولی اللہ دہلوی کے بعد خالص دینی مزاج رکھنے والے علماء وصلحاء نے اس کو ذریعۂ اظہار نہیں بنایا، کبھی کچھ عربی میں لکھا بھی تو تفسیر وحدیث اور فقہ وکلام سے متعلق، تھوڑی بہت تحریریں نظم ونثر میں ضرور ملتی ہیں، لیکن مدارس کے خالص شرعی علوم کے مدرسین کی بہت کم، پھر بھی اچھا خاصا ذخیرہ ہے، لیکن جن لوگوں کے قلم سے ہے ان کو اپنے اپنے وقتوں میں بھی اور آج بھی بس محدود حیثیت دی جاتی ہے، مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی نے عالم عربی کے اہل علم سے بڑے پیمانے پر زندہ اور متحرک رشتہ بنایا، ان کے یہاں بھی علم وادب میں وراثت چلی آرہی تھی، ایسا نہیں تھا کہ سب فرنگی تھے، ان کو دیوبند ندوہ آکر زانوئے تلمذ تہہ کرنے کی ضرورت نہیں تھی، اس میں اپنے وقت کے اساطین تھے، اس کی روداد پڑھنی ہو تو مولانا کی "شخصیات وکتب”، "في مسيرة الحياة”، "من نهر كابل إلى اليرموك”، "أسبوعان في المغرب الأقصى”، اور "مذكرات سائح في الشرق العربي” وغیرہ میں پڑھی اور سمجھی جاسکتی ہے، مولانا نے کوئی قاموس، کوئی تفسیر، کوئی حدیث کی شرح، کوئی فقہ کی کتاب نہیں لکھی؛ چوں کہ علماء ہند کے اکثر عربی زبان میں کام ان موضوعات پر موجود تھے، انہوں نے "طحن الطحين” کا کام نہیں کیا، "غربلہ” کا کام کیا، جدید ومفید پر توجہ دی، اور کسی کی تغلیط نہیں کی، اعتراف کا راستہ اپنایا، ایسے ہی لوگ اضافہ کرتے ہیں، اور استناد حاصل کرتے ہیں، مولانا نے ایک اسلوب دیا جس کے سب سے نمایاں پیروکار مولانا محمد الحسنی، مولانا رابع حسنی، مولانا ڈاکٹر سعید الاعظمی، مولانا واضح رشید حسنی، مولانا اجتباء ندوی اور مولانا نور عالم خلیل امینی صاحبان رہے، ان سب کی مابہ الامتیاز خصوصیات ہیں، اور انہوں نے اپنے تجربات سے نئی راہیں بھی نکالی ہیں لیکن مولانا علی میاں کی گھری چھاپ ان حضرات کی تحریروں میں موجود ہے، اگر اس دبستان ادب کو "المدرسة الحسنية” کا نام دیا جائے تو غلط نہ ہوگا، ان کی تحریروں نے نمونے قائم کئے، اصحاب لغات میں متعدد علماء ہند کے نام ہیں لیکن مولانا وحید الزماں کیرانوی نے جو کام کیا وہ سب پر بھاری ہے، تنقید سے ان سے میں سے کوئی بالا تر نہیں چوں کہ ان کا کلام کلام بشر کلام اللہ نہیں، اور مجھے بہت اچھا لگا کہ ماشاء اللہ مدارس کے فضلاء میں اتنا حوصلہ ہے کہ وہ عربی زبان پر تنقید کو موضوع سخن بنائیں، اس کو سراہنا چاہئے اور اس کا قبلہ درست کرنا چاہیے۔
مولانا ہدایت اللہ قاسمی صاحب ایک ایسی کتاب بھی لکھیں جس میں برصغیر کے علماء کی اردو آمیز عربی یا بسا اوقات اغلاط سے بھرپور عربی کا نحوی، صرفی اور بلاغی جائزہ بھی ہو، مدارس میں طلبہ کی "أنا متعلق ببلدة كذا” اور "أنا متأثر بالعالم الفلاني” وغیرہ جیسی تعبیرات کا لسانی جائزہ لیں اور کچھ عمدہ نمونے تیار کریں، تفضل اور تناول جیسے الفاظ کو چھوڑ کر اجلس اور کُل والی عربی کو سپورٹ نہ کریں، مدارس سے نکلنے والے چھوٹے بڑے عربی مجلات کی تصحیح کو اپنی زندگی کا مشن بنائیں، بچوں کو کم از کم کب اور کہاں سے فارغ ہوئے اور اس اسے قبل کب پیدا ہوئے جیسے سوالات کا تمیز اعداد کے صحیح استعمال کے ساتھ بے تکلف جواب دینے کی لیاقت کیسے پیدا ہو اس کی تحریک چلائیں، ورنہ میں نے ایک بڑے عالم کو ایک عرب مہمان سے پوچھتے ہوئے دیکھا "متى تطير؟” انہوں نے کہا: ” أنا لا أطير، لست بطائر” تو میں نے کہا: "هو يقصد: ما هو موعد الإقلاع؟” تو انہوں نے بتایا: "في الساعة الخامسة مساء” یعنی پانچ بجے شام میں پرواز ہے، اس کے مقابلے میں ایک صاحب پر عرب دنیا میں رہنے کی وجہ سے ایسا عربی کا غلبہ ہوا کہ وہ فرما رہے تھے: "ہندوستان میں اسلام کے انتشار کی تاریخ باضابطہ مرتب ہونی چاہیے” مولانا رابع صاحب نے فرمایا: "جی اشاعت اسلام پر کچھ کام ہوا ہے”، در اصل وہ "كيف انتشر الإسلام في الهند؟” پر ایک مضمون کا جائزہ لے رہے تھے۔
مجھے اس کتاب کو دیکھ کر مدرسہ ضیاء العلوم میں زیر تعلیم ایک سینئر آسامی طالب علم کی کہانی یاد آگئی جن کو ایک جداری مجلہ کا مسودہ نحوی اعتبار سے دیکھنے کے لیے دیا گیا تو انہوں نے اکثر مضامین کو غلط قرار دیا، بالآخر میرا مضمون "أهمية الوقت” بھی ذبح ہوا، میں ثانویہ رابعہ کا طالب علم، اندر سے روتا بلکتا اپنے استاذ مولانا محمد ناصر ندوی پرتاپگڈھی مدظلہ العالی کے پاس پہنچا، اور دکھایا کہ اس کی ایک ایک تعبیر میں نے "الرائد” اور دار العلوم اسلامیہ عربیہ، بستی سے نکلنے والے عربی جریدے "النهضة” وغیرہ سے ملا لی ہے، انہوں نے کہا: بالکل ٹھیک ہے، میں دیکھ چکا ہوں، ان سے کہو انہی مشمولات کو ان کے مطابق صحیح اور قرآنی عربی میں ڈھال دیں، مہربانی ہوگی، انہوں نے سکوت اختیار کرلیا، اس طرح میرا پہلا مضمون دیوار کی زینت بنا، ورنہ میرا تو عربی سے ہی اعتماد اٹھ جاتا۔
تاہم اس کتاب کی بنیادی فکر سے پورا اتفاق ہے جسے مولانا ڈاکٹر عبد اللہ عباس ندوی صاحب نے بہت پہلے "نگارشات” میں پیش کیا تھا، اور عربی میں تو اس پر بے انتہا کام ہوا ہے، اور وہ یہ کہ ہر دور کے اسلوب میں فرق آیا، اور کچھ الفاظ وتعبیرات متروک ہوئیں، پھر بھی یہ دیکھ لینا ضروری ہے کہ ہمارے عربی تراث سے میں اگر کوئی واضح تعبیر استعمال ہوئی ہے اور آج تک رائج ہے تو صرف نئی تعبیر لانے کی فکر میں بے سوچے سمجھے کسی بھی عربی تحریر سے کوئی چیز نہ اٹھا لی جائے بلکہ اس پر حتی الامکان مراجع سے اطمینان حاصل کرلیا جائے، اور اب الفاظ کی حد تک "معجم الدوحة التاريخي للغة العربية” کا ایپ اس کے لیے بہترین ذریعہ ہے۔
جو چند صفحات اس کتاب کی میری نظر سے گزرے ان میں العالم الإسلامي، "رجال الدين”، "تخطيط”، "مَغلِيّ”، "الفترة”، "الشخصية” اور "الإنسانية” جیسے الفاظ سے صرف ذاتی اختلاف نہیں بلکہ ان کی تغلیط مبالغہ سے خالی نہیں، ایک بار قدیم مراجع سے بھی مقارنہ کرلیں، اور استشہاد کا معیار وزمانہ طے کرکے علماء ماوراء النہر کی فقہی تحریروں پر بھی ایک نقد لکھیں، میں فقہ کا مدرس ہوں، جگہ جگہ شراح اصحاب متون کی نحوی وصرفی تسامحات کی دسیوں تاویلات پیش کرتے ہیں خصوصا تذکیر وتانیث اور مفرد وجمع میں، ایک مذکر لفظ کی طرف مؤنث ضمیر لوٹائی گئی ہو تو اس لفظ کا کوئی مؤنث مترادف ڈھونڈ لیتے ہیں اور کہتے ہیں یہ اس کی تاویل میں ہے جیسے عام اور سنة، اسی طرح اسم جنس والی مشہور تاویل، بہر حال یہ طریقہ عام ہے کہ تسامحات کی حتی الامکان تاویلات کی جاتی ہیں، ممکن نہ ہو تو ” غلط الكاتب” قرار دیا جاتا ہے جب کہ بسا اوقات یہ تاویل صحیح نہیں ہوتی، اس جملہ کا تعلق الفاظ سے نہیں، پورے مسئلہ سے ہوتا ہے کاتب کاایسا بے جا تصرف ممکن نہیں، تو ایک احتمال ذکر کرتے ہیں کہ ہوسکتا ہے یہ ایک روایت ہو۔
کاش کہ مؤلف عربیت کے گرتے ہوئے معیار پر قلم اٹھاتے اور طلبہ میں عربی بول چال تو چھوڑئیے، عبارت خوانی کے گرتے ہوئے معیار، نحوی وصرفی غلطیاں تو ایک طرف، لغوی تحقیق تو باقی ہی نہیں رہی، اعراب کا جنازہ نکل چکا ہے، حرکات وتشکیلات کا تو کچھ پتہ ہی نہیں، آن لائن بڑے بڑے دقاق متکلمین کو دیکھتے ہیں، صحیح حرکات واعراب پر دھیان نہیں، بس مدعا واضح ہونا چاہیے، حسب اور حسب، فرج اور فرج ساکن الاوسط اور متحرک الاوسط الگ الگ الفاظ ہیں، توجہ ہی نہیں، اعلام رجال وبلدان وغیرہ کا صحیح ضبط نہیں ہوتا، طلبہ کو یہ تک نہیں سکھایا جاتا کہ "موطأ” لکھنا ہے یا "موطأ” "مسألة” یا "مسئلة”، عربی میں ربيع الآخر اور جمادی الآخرة لکھیں گے، کچھ اور نہیں، وغیرہ،
کہاں تک رونا روئیں، یہ نہیں کہ انہیں آتا نہیں، تازہ مطالعہ کا اہتمام نہیں، مطالعہ کا ذوق ختم ہورہا ہے، عربی اچانک بولنی پڑے تو مولانا، صاحب، جناب جیسے الفاظ آسانی سے عربی میں بولے جارہے ہیں۔
فقہاء لکھتے ہیں: "العرف قاض على اللغة” اسی لیے گو کہ قرآن نے مچھلی کو "لحم طريّ” کہا ہے، گوشت نہ کھانے کی قسم کے بعد مچھلی کھانے سے حالف حانث نہیں ہوتا، کیا یہ قرآن کے خلاف ہے، دودھ کو حلیب کہنا ہے اور چھاچھ کو لبن کہنا کیا قرآن کے خلاف ہے، کاش اسے چھوڑ کر آپ دارجہ کے رواج کا جائزہ لیتے اور عربوں کو عربی میں لکھ کر صحیح عربی لکھنے پر بیدار کرتے، یہ سب نہ کرکے عربی کے اعلی نمونوں سے بیزار کرنے کے کام میں لگ گئے، آپ اپنے بزرگ استاذ کے الہام کا سہارا لے کر طہ حسین بننے کی کوشش کررہے ہیں لیکن یاد رکھیں کہ عربی زبان زندہ وتابندہ کلاسیکل اور ماڈرن تاثر وتاثیر کے ساتھ جاری رہے گی، اور نام نہاد ناقدین "انتحال” و”انتقال” کے طعنے دیتے رہیں گے:
أَقِلّوا عَلَيهِم لا أَبا لِأَبيكُمُ
مِنَ اللَومِ أَو سُدّوا المَكانَ الَّذي سَدّوا
أولَئِكَ قَومٌ إِن بَنَوا أَحسَنوا البُنى
وَإِن عاهَدوا أَوفَوا وَإِن عَقَدوا شَدّوا