ابلیس کی ایک اور مجلس شوریٰ

از:- ڈاکٹر محمد اعظم ندوی

استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد

امریکی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے حالیہ دنوں ایک ایسی تجویز پیش کی ہے جسے رسمی طور پر ’’بورڈ آف پیس‘‘ کا نام دیا گیا ہے، بادی النظر میں اسے غزہ پٹی کی بحالی اور تعمیر نو کے ایک انسانی وترقیاتی منصوبے کے طور پر پیش کیا گیا، جو اکتوبر 2025 میں اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کا تسلسل بتایا جاتا ہے، تاہم جیسے جیسے اس منصوبے کے مسودات، ضمیمے اور ادارہ جاتی خاکے سامنے آتے گئے، یہ حقیقت واضح ہوتی چلی گئی کہ یہ محض غزہ تک محدود کوئی تعمیراتی پروگرام نہیں بلکہ عالمی سطح پر مسلح تنازعات میں مداخلت کے ایک نئے ماڈل کی بنیاد رکھتا ہے، جس کے اثرات شرق اوسط سے کہیں آگے تک جا سکتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی وضاحتوں کے مطابق اس بورڈ کا مقصد غزہ میں امن واستحکام، بنیادی ڈھانچے کی از سر نو تعمیر، انتظامی صلاحیتوں کی بہتری، علاقائی اقتصادی روابط کا فروغ اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کی ترغیب ہے، صدر ٹرمپ کے بیس نکاتی امن منصوبے میں غیر عسکری حکومت کے قیام، مزاحمتی گروہوں سے ہتھیاروں کی ضبطی اور بیوروکریٹک طرز حکمرانی پر زور دیا گیا ہے، بہ ظاہر یہ سب اقدامات امن کے عنوان سے مزین ہیں، مگر ان کے پس منظر میں طاقت، کنٹرول اور جیو پولیٹیکل مفادات کی سیاست اس قدر نمایاں ہے کہ اسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔

بین الاقوامی ذرائع میں شائع ہونے والے اس بورڈ کے چارٹر سے یہ بات غیر مبہم ہو چکی ہے کہ اس کے اختیارات محض غزہ تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ اسے دنیا بھر میں مسلح تنازعات کے حل، نگرانی اور حتیٰ کہ مداخلت کا اختیار حاصل ہوگا، یوں یہ ادارہ ایک طرح کی ’’منی اقوام متحدہ‘‘ کے طور پر ابھر رہا ہے، مگر وہ اقوام متحدہ جس کی بنیاد کسی حد تک اجتماعی مشاورت اور کثیر الجہاتی نظام پر تھی، اس کے برعکس یہ ادارہ ایک شخصی مرکزیت کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے، یہی نہیں، سلامتی کونسل میں منظور شدہ قرارداد کے تحت غزہ میں مختلف ممالک کی افواج پر مشتمل ایک ’’بین الاقوامی استحکام فورس‘‘ International Stabilization Force کے قیام کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: قرآن پاک کا تاریخی اعجاز

یہی اس منصوبے کا سب سے تشویش ناک پہلو ہے، مجوزہ خاکے کے مطابق خود صدر ٹرمپ اس بورڈ کے چیئرمین ہوں گے، دعوت ناموں کے اجرا، پالیسی فیصلوں کی توثیق، مالی وسائل کی نگرانی اور ادارہ جاتی سمت کے تعین کا مکمل اختیار انہی کے پاس ہوگا، بلکہ وہ کسی بھی وقت اپنا جانشین نامزد کرنے کا حق بھی رکھتے ہوں گے، اس انتظام کے نتیجے میں یہ ادارہ ایک خود مختار عالمی فورم کے بجائے فردِ واحد کے اقتدار کی توسیع بن جاتا ہے۔

اس سے بھی زیادہ خطرناک پہلو مستقل رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر کی شرط ہے، جو اس بورڈ کو عملاً Pay-to-Play ماڈل میں بدل دیتی ہے، یہاں فیصلہ سازی تک رسائی اخلاقی وزن یا انسانی ضرورت کی بنیاد پر نہیں بلکہ مالی استطاعت پر منحصر ہو جاتی ہے، نتیجتاً امیر ریاستیں میز پر بیٹھتی ہیں اور وہ غریب، جنگ زدہ اقوام جو حقیقی طور پر امن کی سب سے زیادہ محتاج ہیں، حاشیے پر دھکیل دی جاتی ہیں، اس تناظر میں امن ایک اخلاقی قدر کے بجائے ایک متاع بازار بن کر سامنے آتا ہے۔

یہ طرزِ فکر صدر ٹرمپ کی معروف کاروباری ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے، جہاں ہر مسئلے کا حل ’’ڈیل‘‘ اور ہر امن منصوبہ ایک سرمایہ کاری بن جاتا ہے، اسی تناظر میں ناقدین یہ بنیادی سوال اٹھا رہے ہیں کہ یہ بورڈ واقعی تنازعات کے حل اور پائیدار امن کے قیام میں معاون ثابت ہوگا، یا پھر یہ امریکی اور مغربی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے تعمیر نو کے ٹھیکوں، سیکیورٹی کنٹریکٹس اور اقتصادی فوائد کا ایک نیا پلیٹ فارم فراہم کرے گا، جب کہ غریب ممالک کو مجبور ومقہور اور راضی برضا، اور یہ منظر ابلیس کے کیے خوش کن ہوگا جس نے اقبال کے تصوراتی الفاظ میں کہا تھا:
میں نے ناداروں کو سِکھلایا سبق تقدیر کا
میں نے مُنعِم کو دیا سرمایہ داری کا جُنوں

غزہ کے تناظر میں یہ خدشات مزید گہرے ہو جاتے ہیں، غیر فوجی حکومت اور ہتھیاروں کی ضبطی پر دیا جانے والا زور اسرائیلی سلامتی کے بیانیے سے ہم آہنگ ہے، مگر فلسطینی عوام کی سیاسی خود مختاری، تاریخی مزاحمت اور بنیادی قومی حقوق اس خاکے میں ثانوی بلکہ کہیں کہیں غائب نظر آتے ہیں؛ اسی لیے حماس کے سینئر رہنما محمد نزال نے واضح کیا ہے کہ جب تک بورڈ کے اختیارات اور مقاصد واضح نہیں ہوتے، کسی حتمی موقف کا اعلان ممکن نہیں، البتہ اگر یہ غزہ کی تعمیر نو اور امداد تک محدود رہا تو اس کا خیرمقدم کیا جا سکتا ہے۔

بورڈ کے اعلان کے ساتھ ہی عالمی رد عمل نے ایک اخلاقی صف بندی کو بے نقاب کر دیا، بحرین اور متحدہ عرب امارات نے بلا کسی شرط اس دعوت کو قبول کر لیا، آج مصر کے سیسی نے بھی آقا کی آواز پر لبیک کہا، حیرت ہے کہ مراکش بطور بانی رکن شامل ہوا، اور سعودیہ نے بھی خیر سگالی کا اظہار کیا، جبکہ ترکی اور قطر مشروط شمولیت کے خواہاں ہیں، جن کی شمولیت سے اسرائیل کو سخت اختلاف ہے، اس کے برعکس فرانس نے واضح انکار کیا، اور روس، چین، جرمنی، کینیڈا اور دیگر طاقتوں نے یا تو تحفظات ظاہر کیے یا فیصلہ مؤخر کر دیا، یہ فرق اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ بعض مسلم ریاستیں طاقت کے مرکز سے قرب اور تعلق کو سیاسی بصیرت سمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔

ہندوستان اور پاکستان کا رویہ بھی محض سفارتی تذبذب نہیں بلکہ داخلی کمزوری اور عالمی شناخت کے بحران کی علامت ہے، ہندوستان ایک طرف امریکہ واسرائیل کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری رکھتا ہے، اور دوسری طرف فلسطین کے حقِ خود ارادیت کی رسمی تائید کرتا ہے، اور واضح موقف کچھ بھی نہیں، پاکستان کی خاموشی معاشی انحصار اور سفارتی خود اعتمادی کے فقدان کا اظہار ہے، یہی کیفیت مصر، اردن اور دیگر کمزور مسلم ریاستوں میں بھی دکھائی دیتی ہے، جو نہ کھل کر شامل ہو سکتی ہیں، نہ اصولی انکار کی جرات رکھتی ہیں۔

اس تناظر میں ملیشیا کا موقف ایک اخلاقی استثنا کے طور پر سامنے آتا ہے، جس نے غزہ پر حملے بند ہونے اور انسانی امداد کی ضمانت کے بغیر شرکت سے انکار کیا، افسوس کہ مسلم دنیا کے بڑے اور مؤثر ممالک اس بنیادی شرط تک زبان کھولنے سے بھی قاصر نظر آتے ہیں، سوال یہ نہیں کہ کون شامل ہوا اور کون نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا مسلم دنیا اب ’’امن‘‘ کے نام پر اپنی سیاسی خود مختاری اور اجتماعی ضمیر گروی رکھنے پر آمادہ ہو چکی ہے؟

یہ بھی پڑھیں: عدالتی ناانصافی اور اظہار خیال کی آزادی پر پابندی

آخر میں، اس بورڈ کی داخلی ساخت پر نظر ڈالیں تو اس میں سفارت کاری کے بجائے دولت، ذاتی قربت اور متنازع سیاسی کرداروں کو فوقیت حاصل نظر آتی ہے، اسٹیو وٹکوف، جارڈ کشنر، مارک رووان، رابرٹ گیبریل اور عراق جنگ کے معمار ٹونی بلیر جیسے نام اس خدشے کو تقویت دیتے ہیں کہ یہ مجلس امن سے زیادہ مفادات کا فورم بن سکتی ہے، ایسے میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ منصوبہ ایک دلکش نعرے کے ساتھ پیش کیا گیا ایک خطرناک تجربہ ہے، ایک ایسی مجلسِ شوریٰ جو امن کے نام پر طاقت اور سرمائے کی نئی عبادت گاہ بن سکتی ہے، اور مسلمانوں کے لیے سامان موت، جس میں ابلیس پھر سے اپنے مشیروں کے بیچ یوں نغمہ سرا ہوگا کہ:
تم اسے بیگانہ رکھّو عالم کردار سے
تا بساط زندگی میں اس کے سب مُہرے ہوں مات

خیر اسی میں ہے، قیامت تک رہے مومن غلام
چھوڑ کر اوروں کی خاطر یہ جہان بے ثبات

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔