لکھنؤ: سیل رواں
ــــــــــــــــــــــــــ
سماج وادی پارٹی کے صدر اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے 2027 میں مجوزہ مردم شماری سے متعلق جاری کی گئی سرکاری نوٹیفکیشن پر سخت سوالات کھڑے کیے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ نوٹیفکیشن میں ذات (کاسٹ) سے متعلق کوئی واضح کالم شامل نہیں کیا گیا، جس سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا حکومت واقعی ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کے لیے سنجیدہ ہے یا نہیں۔
اکھلیش یادو نے کہا کہ اگر مردم شماری کے فارم میں ذات کا اندراج ہی نہیں ہوگا تو پھر ذات کے اعتبار سے آبادی کا درست اندازہ کیسے لگایا جائے گا۔ ان کے مطابق ذات کے بغیر مردم شماری محض ایک رسمی عمل بن کر رہ جائے گی، جس کا سماجی انصاف اور پسماندہ طبقات کے حقوق سے کوئی حقیقی فائدہ نہیں ہوگا۔
انہوں نے بی جے پی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ذات پر مبنی مردم شماری کا اعلان صرف ایک سیاسی نعرہ ثابت ہو رہا ہے۔ اکھلیش یادو کے مطابق حکومت جان بوجھ کر اس عمل سے گریز کر رہی ہے تاکہ سماج کے پسماندہ، دلت اور اقلیتی طبقات کو ان کے تناسب کے مطابق حقوق اور نمائندگی نہ مل سکے۔
سماج وادی پارٹی صدر نے یہ بھی کہا کہ جو لوگ پہلے ذات پر مبنی مردم شماری کی حمایت میں بیانات دے رہے تھے، آج وہ اپنے ہی موقف سے پیچھے ہٹتے نظر آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت اس معاملے میں وضاحت نہیں کرتی تو عوام میں شکوک و شبہات مزید بڑھیں گے۔
دوسری جانب حکومت کی طرف سے یہ موقف سامنے آیا ہے کہ مردم شماری کے دوران ذات سے متعلق معلومات اکٹھی کی جائیں گی، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ نوٹیفکیشن میں اس کا واضح ذکر نہ ہونا تشویش کا باعث ہے۔
سیاسی حلقوں میں اس معاملے کو لے کر بحث تیز ہو گئی ہے اور آئندہ دنوں میں ذات پر مبنی مردم شماری ایک اہم سیاسی موضوع بننے کے آثار نمایاں ہیں۔