بی جے پی پر منظم ووٹ چوری کا الزام، الیکشن کمیشن پر سوالات
نئی دہلی/گجرات:
ـــــــــــــــــــــــــــــــ
کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے گجرات میں جاری ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی (اسپیشل انٹینسیو ریویژن) کو جمہوری عمل کے خلاف قرار دیتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی پر منظم ووٹ چوری کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں جہاں بی جے پی کو انتخابی شکست کا خدشہ ہوتا ہے، وہاں ووٹروں کے نام دانستہ طور پر انتخابی فہرست سے خارج کر دیے جاتے ہیں۔
راہل گاندھی نے کہا کہ ووٹر لسٹ میں کی جانے والی اس نظرثانی کا مقصد انتخابی اصلاح نہیں بلکہ بی جے پی کے حق میں نتائج کو متاثر کرنا ہے۔ ان کے مطابق یہ عمل ایک منصوبہ بند حکمتِ عملی کے تحت انجام دیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے مخصوص علاقوں اور طبقوں کے ووٹروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
کانگریس رہنما نے الزام لگایا کہ جن علاقوں میں اپوزیشن کو مضبوط حمایت حاصل ہے، وہاں بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام حذف کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل محض انتظامی کارروائی نہیں بلکہ آئینی حقِ رائے دہی پر براہِ راست حملہ ہے۔
راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ادارے کی ذمہ داری ہے کہ وہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنائے، مگر موجودہ حالات میں کمیشن کی غیر جانبداری پر شکوک پیدا ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک شخص، ایک ووٹ کے اصول کو کمزور کیا جا رہا ہے، جو جمہوریت کی بنیاد ہے۔
کانگریس پارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ ووٹر لسٹ نظرثانی کے بعد بڑی تعداد میں اعتراضات ایک ہی طرز پر داخل کیے گئے، جو انتخابی ضابطوں کے منافی ہیں۔ پارٹی کے مطابق اگر اس عمل کو روکا نہ گیا تو جمہوری نظام کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔