یو جی سی کے نئے ضوابط 2026 پر سپریم کورٹ کی روک، سماعت جاری

نئی دہلی۔ سیل رواں:

یونیورسٹی گرانٹ کمیشن (یو جی سی) کے نئے ضوابط 2026 کو لے کر پیدا ہونے والا تنازع اب سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے ان ضوابط کے خلاف دائر عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے فی الحال ان کے نفاذ پر روک لگا دی ہے اور حکم دیا ہے کہ 2012 کے پرانے قواعد بدستور نافذ رہیں گے۔

سماعت کے دوران درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا کہ یو جی سی کے نئے قواعد غیر واضح اور امتیازی نوعیت کے ہیں، جو تعلیمی اداروں میں مساوات کے بجائے تفریق کو فروغ دے سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ضوابط میں مساوات اور برابری کے نام پر ایسی درجہ بندیاں کی گئی ہیں جو ئین کے آرٹیکل 14 (مساوات کا حق) سے متصادم ہو سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مذہبی تقدیس خالص ہندو برہمنی تہذیب

عدالت میں پیش ہوئے وکلاء نے دلیل دی کہ نئے قواعد میں کچھ سماجی طبقات کا خصوصی ذکر کیا گیا ہے، جبکہ دیگر طبقات کو نظر انداز کیا گیا، جس سے تعلیمی اداروں میں عدم توازن پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

چیف جسٹس کی سربراہی والی بنچ نے ریمارکس دیے کہ عدالت اس پہلو کا جائزہ لے گی کہ آیا یہ ضوابط واقعی سماجی انصاف اور مساوات کو مضبوط بناتے ہیں یا پھر تعلیمی نظام میں نئی خلیج پیدا کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ مساوات کا تصور سب کے لیے یکساں اور غیر مبہم ہونا چاہیے۔

سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت اور یو جی سی کو ہدایت دی ہے کہ وہ 19 مارچ 2026 تک اس معاملے میں اپنا تفصیلی جواب داخل کریں، جس کے بعد اگلی سماعت ہوگی۔

قابلِ ذکر ہے کہ یو جی سی کے نئے ضوابط کے تحت تعلیمی اداروں میں ایکول اپرچونٹی سینٹر، ایکویٹی کمیٹی اور ایکویٹی اسکواڈ قائم کرنے کی شقیں شامل کی گئی تھیں، جنہیں لے کر ملک کے مختلف تعلیمی حلقوں میں تشویش اور احتجاج دیکھنے میں آئے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔