نئی دہلی:
ــــــــــــــــــــــــــ
مرکزی بجٹ 2026–27 کی پیش کش کے ساتھ ہی ملکی سیاست میں ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ وزیرِ خزانہ نرملہ سیتارامن اور کانگریس رہنما راہول گاندھی کے درمیان بجٹ کو لے کر لفظی جنگ چھڑ گئی ہے۔ وزیرِ خزانہ نے نہ صرف اپوزیشن کی تنقید کو مسترد کیا بلکہ راہول گاندھی کو کھلے عام حقائق کی بنیاد پر مباحثے کا چیلنج بھی دے دیا۔
راہول گاندھی نے بجٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ملک کے حقیقی مسائل سے صرفِ نظر کیا ہے۔ ان کے مطابق بے روزگاری میں اضافہ، زرعی بحران، سرمایہ کاری کی کمی اور معیشت کو درپیش عالمی دباؤ جیسے بنیادی مسائل کا بجٹ میں خاطر خواہ حل پیش نہیں کیا گیا۔ انہوں نے اسے عام آدمی کی توقعات کے برعکس قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دستاویز زمینی حقائق کی نمائندگی نہیں کرتی۔
وزیرِ خزانہ نرملہ سیتارامن نے ان الزامات کا دو ٹوک جواب دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن بے بنیاد تنقید کے بجائے ٹھوس اعداد و شمار کے ساتھ سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے چھوٹی و درمیانی صنعتوں، کسانوں، ٹیکسٹائل اور دیہی معیشت کو تقویت دینے کے لیے متعدد عملی اقدامات کیے ہیں اور بجٹ کا مقصد ملک کو تیز رفتار ترقی کی راہ پر گامزن رکھنا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہندوستانی معیشت مستحکم بنیادوں پر کھڑی ہے اور اصلاحات کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔
بجٹ میں ٹیکنالوجی اور اسٹریٹجک شعبوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ سیمی کنڈکٹر صنعت کو فروغ دینے کے لیے 40 ہزار کروڑ روپے کے پیکج کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ الیکٹرانکس کی مقامی پیداوار میں اضافہ ہو اور درآمدات پر انحصار کم کیا جا سکے۔ اسی طرح ریئر ارتھ منرلز کے لیے خصوصی کورڈور قائم کرنے کا منصوبہ بھی پیش کیا گیا ہے، جس کا مقصد دفاعی اور صنعتی ضروریات کے لیے اہم معدنیات میں خود کفالت حاصل کرنا ہے۔
مرکزی بجٹ پر جاری یہ سیاسی رسہ کشی آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔ حکومتی حلقے اسے ترقی اور خود انحصاری کی سمت ایک مضبوط قدم قرار دے رہے ہیں، جبکہ اپوزیشن اسے عوامی مسائل سے کٹا ہوا بجٹ بتا رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پارلیمان میں ہونے والی بحث اس اختلاف کو کس رخ پر لے جاتی ہے۔