الحیاۃ انٹرنیشنل اسکول شہریا کا سالانہ ثقافتی پروگرام و تحفظِ ختمِ نبوت کانفرنس علم و دانش کی باوقار و یادگار مجلس
شہریا/روٹا:
الحیاۃ انٹرنیشنل اسکول شہریا کے زیرِ اہتمام سالانہ ثقافتی پروگرام اور تحفظِ ختمِ نبوت کانفرنس نہایت شان و وقار اور علمی فضا میں منعقد ہوئی، جو علم و آگہی، تہذیب و تربیت اور دینی غیرت کا حسین سنگم ثابت ہوئی۔ یوں محسوس ہوتا تھا گویا ایک مختصر سا تعلیمی کیمپس اہلِ علم و فضل کی عظیم الشان مجلس میں تبدیل ہوگیا ہو، جہاں ہر سمت سنجیدگی، وقار اور فکری بالیدگی کی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔
اس بابرکت اجتماع میں امیر مرکزی جمعیت اہلِ حدیث ہند حضرت مولانا اصغر علی امام مہدی حفظہ اللہ مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے، جبکہ نائب امیر شریعت امارتِ شرعیہ پٹنہ مولانا شمشاد رحمانی اور معروف شاعر اسعد اعظمی ماہلی سمیت متعدد ممتاز علماء و دانشوران کی شرکت نے مجلس کو علمی عظمت عطا کی۔
حضرت مولانا اصغر علی امام مہدی حفظہ اللہ نے اپنے بصیرت افروز خطاب میں فرمایا کہ علم ہی امت کی اصل طاقت اور سربلندی کا سرمایہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ دور کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے دینی تعلیم کے ساتھ عصری علوم سے آراستہ نسل تیار کرنا ناگزیر ہے، کیونکہ یہی امت کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
مولانا شمشاد رحمانی حفظہ اللہ نائب امیر شریعت امارت شرعیہ پٹنہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ وقت ہم سے ایسے تعلیمی اداروں کے قیام کا مطالبہ کرتا ہے جہاں دین اور دنیا کا حسین امتزاج ہو۔ انہوں نے بالخصوص لڑکیوں کی تعلیم و تربیت کو قوم کی تعمیر کی بنیاد قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ ایک تعلیم یافتہ بیٹی دراصل پورے معاشرے کی اصلاح اور ترقی کا ذریعہ بنتی ہے۔
مولانا عارف حسین ندوی ناظم تنظیم و ترقی جمعیت علماء ضلع پورنیہ نے بھی اپنے خطاب میں نہایت دلنشیں اور اثر انگیز انداز اختیار کرتے ہوئے کہا:
آج یہاں جنگل میں منگل کا سماں ہے۔ اہلِ علم کی اس قدر بڑی تعداد اور ملک کے اکابر کا اس مقام پر جمع ہونا اس بات کی روشن دلیل ہے کہ یہ ادارہ اخلاص اور علمی خدمت کی بنیاد پر آگے بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مولانا تنویر ذکی مدنی کی علماء سے محبت اور علماء کی ان سے قلبی وابستگی ہی اس عظیم اجتماع کا اصل سبب ہے اور یہی جذبہ اس تعلیمی مشن کو مزید استحکام عطا کرے گا۔
اس موقع پر اسکول کے ڈائریکٹر مولانا تنویر ذکی مدنی کی علمی، دینی اور انتظامی خدمات کو بھی بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ مقررین نے اعتراف کیا کہ اہلِ حدیث علماء میں ان کی شخصیت قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے اور انہی کی دعوت و اخلاص کا نتیجہ ہے کہ ملک کے ممتاز اکابر علماء ان کی ایک آواز پر یہاں جمع ہوئے۔
تقریب کے دوران نہ صرف مہمانانِ خصوصی بلکہ مختلف علاقوں سے تشریف لائے اہلِ علم، باکمال شخصیات اور خدمتِ دین و تعلیم سے وابستہ معزز حضرات کی شال پوشی کر کے ان کا اعزاز کیا گیا۔ یہ منظر احترام و عقیدت کی ایک خوبصورت جھلک پیش کر رہا تھا، جہاں علم اور اہلِ علم کی قدر افزائی کو عملی شکل دی گئی اور حاضرین نے پرتپاک انداز میں اپنے اکابرین کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
مجلس میں مولانا شمیم اختر ندوی، انجینئر محفوظ عالم، مولانا ابو صالح قاسمی، مولانا حماد کیفی قاسمی، مولانا مطیع الرحمن قاسمی، مولانا سید عالم ندوی، مفتی شمس توحید مظاہری، مولانا اسلام الدین قاسمی سمیت مختلف مکاتبِ فکر کے علماء، دانشوران، سرپرستانِ طلبہ اور عوام الناس کی بڑی تعداد شریک رہی۔
ثقافتی پروگرام میں الحیاۃ انٹرنیشنل اسکول کے طلبہ و طالبات نے تقاریر، نظمیں اور ایکشن پروگرام پیش کیے، جنہوں نے حاضرین کو بے حد متاثر کیا۔ بچوں کی خود اعتمادی، بہترین اندازِ بیان اور موضوعات کی سنجیدگی نے اسکول کی معیاری تعلیم و تربیت کا عملی ثبوت فراہم کیا۔
تقریب دعا اور نیک تمناؤں کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی، مگر اہلِ علم کی اس بابرکت مجلس کی خوشگوار یادیں دیر تک دلوں میں تازہ رہیں۔