دلائی لاما اور جیفری اپسٹین تنازع: دفترِ دلائی لاما کا واضح جواب

نئی دہلی : سیل رواں

امریکی اپسٹین فائلز میں دلائی لاما کے نام کے سامنے آنے پر پیدا شدہ تنازعے کے تناظر میں دلائی لاما کے دفتر نے ایک مضبوط بیانیہ جاری کرتے ہوئے ان رپورٹس کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔

حال ہی میں امریکی محکمہ انصاف نے اپسٹین فائلز نامی ایک وسیع دستاویزی مجموعہ شائع کیا ہے، جس میں بطور الزام مختلف شخصیات کے نام سامنے آئے ہیں۔ ان رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ دلائی لاما کا نام متعدد بار ان دستاویزات میں درج ہے، جس نے سوشل میڈیا اور بعض میڈیا رپورٹس میں قیاس آرائیوں کو جنم دیا۔

تاہم دلائی لاما کے دفتر نے اتوار کو ایک سرکاری بیان میں واضح کیا ہے:

ہم یقینی طور پر تصدیق کر سکتے ہیں کہ ان کی بزرگی نے کبھی جیفری اپسٹین سے ملاقات نہیں کی، نہ ہی کسی کو بھی ان کی طرف سے ملاقات یا بات چیت کی اجازت دی گئی ہے۔

دفتر کے مطابق کچھ میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا پوسٹس اپسٹین فائلز کے حوالے سے ان کی برادری کو غیر حقیقی طور پر اس مجرم سے جوڑنے کی کوشش کر رہی ہیں، جو کہ غلط فہمی اور بے بنیاد قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔

سیاسی و سرکاری ردعمل

ارون انچل پردیش کے وزیر اعلیٰ پیما کھانڈو نے بھی اس معاملے پر اظہارِ ناراضگی کیا ہے اور کہا ہے کہ دالائی لاما کو بے بنیاد بیانات اور خراب نیتی والے انداز میں گھسیٹنا شدید غیر ذمے دارانہ ہے۔

اسی طرح مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کرن ریجوجو نے بھی بیان دیا ہے کہ ایک مقدس روحانی شخصیت کو بغیر ٹھوس ثبوت کے کسی تنازعے سے جوڑنا مناسب نہیں۔

جیفری اپسٹین، جو ایک امریکی فنانسر تھا، کو 2008 میں نابالغ افراد کے ساتھ جنسی استحصال کے الزامات میں سزا ہوئی تھی اور 2019 میں جیل میں اس نے خودکشی کر لی تھی۔ اپسٹین فائلز میں ان کی تحقیقات سے متعلق لاکھوں صفحات، ہزاروں ویڈیوز اور تصاویر شامل ہیں، جن میں دنیا بھر کی مختلف شخصیات کے نام آئے ہیں، لیکن کسی نام کا فائلز میں شامل ہونا اس شخصیت کے قصور کا ثبوت نہیں ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔