بھارت میں ڈیپ فیک اور مصنوعی ذہانت (AI) مواد کے نئے ضوابط کا اطلاق 20 فروری سے ہوگا۔
نئی دہلی (سیل رواں ڈیسک):
بھارت کی مرکزی حکومت نے مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ مواد کی بڑھتی ہوئی پیچیدگی اور ڈیپ فیک کے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے ضوابط نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے تحت AI-generated مواد پر واضح طور پر لیبل لگانا لازمی قرار دیا گیا ہے، تاکہ صارفین کو اس بات کا شعور ہو کہ وہ حقیقی یا مصنوعی طور پر تیار شدہ مواد دیکھ رہے ہیں۔
ضروری ترمیمات اور اہم اصول
- مصنوعی ذہانت سے تیار تمام مواد (تصویر، ویڈیو، آڈیو یا متن) پر واضح لیبل لگانا لازمی ہوگا، جیسے AI-Generated یا اس کے مساوی الفاظ۔
- جہاں تک ممکن ہو، ایسے مواد میں مٹا ڈیٹا یا شناختی معلومات بھی شامل کی جائیں گی تاکہ بعد میں اس کی اصلیت کا پتہ چل سکے۔
- سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور آن لائن خدمات فراہم کرنے والے اداروں پر بھی سخت پابندی عائد کی گئی ہے۔ اب جعلی یا غلط معلومات پر مبنی مواد کو صرف 3 گھنٹوں میں ہٹانا ہوگا، جو پہلے 36 گھنٹے تھا۔
- قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے پلیٹ فارمز یا خدمات فراہم کنندگان کے خلاف سرکاری کارروائی کی جا سکتی ہے۔
اصول و ضوابط کے نفاذ
یہ نئے اصول 20 فروری 2026 سے باضابطہ طور پر لاگو ہوں گے۔
حکومت کا مقصد
وزارتِ الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مطابق یہ اقدام ڈیپ فیک اور غلط معلومات (misinformation) کے پھیلاؤ کو روکنے اور عوام میں شفافیت برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ مصنوعی طریقے سے تیار شدہ مواد کو حقیقی مواد سے ممتاز کرنے کے لیے لیبلنگ سے صارفین میں اعتماد اور معلومات کی تصدیق میں مدد ملے گی۔
واضح رہے کہ ڈیپ فیک ایسی ٹیکنالوجی ہے جس میں اصطلاحی طور پر حقیقت کے قریب دکھائی دینے والی تصاویر، ویڈیوز یا آوازیں بنائی جاتی ہیں، جو اکثر عوامی رائے کو متاثر کرنے یا نقصان پہنچانے میں استعمال ہو سکتی ہیں۔ حکومت نے اسے عوامی تحفظ، الیکشن شفافیت اور آن لائن معلومات کے معیار کو برقرار رکھنے کے تناظر میں ایک بڑا چیلنج قرار دیا ہے۔