نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے نئی دہلی میں منعقدہ اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے کلیدی خطاب میں مصنوعی ذہانت کے حوالے سے ایک نیا نظریہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی کو انسانیت کی فلاح، شمولیت اور اخلاقی اصولوں کے تابع ہونا چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے اپنے خطاب میں “MANAV وژن” (انسانی وژن) کا تصور پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کو صرف تکنیکی ترقی کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانی ترقی اور سماجی بھلائی کا وسیلہ بنایا جانا چاہیے۔
انسانی مرکزیت پر زور
وزیراعظم نے کہا کہ اے آئی کا مستقبل اسی وقت محفوظ اور مثبت ہوگا جب اس کی بنیاد انسانی اقدار، شفافیت اور جواب دہی پر رکھی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹیکنالوجی انسان پر حاوی ہونے کے بجائے انسان کے اختیار میں ہونی چاہیے اور اس کا استعمال معاشرتی بہتری کے لیے کیا جانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ اے آئی کے فروغ کے ساتھ ساتھ اخلاقی ضوابط اور تحفظات کو بھی یقینی بنایا جائے، تاکہ شہری آزادیوں اور بنیادی حقوق پر کوئی آنچ نہ آئے۔
بڑے دعوے اور عالمی تناظر
خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ بھارت مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی قیادت کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک میں ڈیجیٹل ڈھانچے کی مضبوطی اور نوجوان افرادی قوت اس سمت میں اہم اثاثہ ثابت ہو سکتی ہے۔
سمٹ کا انعقاد نئی دہلی میں کیا گیا، جہاں ٹیکنالوجی ماہرین، پالیسی سازوں اور صنعت سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر مصنوعی ذہانت کے امکانات، خطرات اور ضابطہ سازی کے مختلف پہلوؤں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم کے خطاب میں جہاں مستقبل کی ٹیکنالوجی سے وابستہ امیدوں کا اظہار کیا گیا، وہیں یہ بھی کہا گیا کہ اے آئی کے استعمال میں ذمہ داری اور احتیاط کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔