آبنائے ہرمز پر ایران کا بڑا قدم: جہازوں پر 20 لاکھ ڈالر ٹول عائد

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایران نے ایک اہم اور غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بعض جہازوں پر 20 لاکھ امریکی ڈالر (تقریباً 18.8 کروڑ بھارتی روپے) تک کا ٹرانزٹ ٹول عائد کر دیا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے رکن علاء الدین بروجردی کے مطابق یہ فیصلہ اس اہم سمندری راستے پر ایران کے اختیار اور بالادستی کو ظاہر کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگی اخراجات میں اضافے کے پیش نظر یہ اقدام ضروری ہو گیا ہے اور اس سے ایران کی طاقت کا اظہار بھی ہوتا ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی تجارت، خصوصاً تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی سپلائی گزرتی ہے۔ حالیہ تنازع کے باعث یہاں جہاز رانی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور کئی بحری کمپنیاں اس راستے سے گریز کر رہی ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولا نہ گیا تو ایران کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

ایران نے اس دھمکی کا جواب دیتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ اگر امریکہ نے کوئی جارحانہ کارروائی کی تو نہ صرف آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کیا جا سکتا ہے بلکہ خطے میں توانائی کے دیگر مراکز کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایران کا یہ نیا ٹول سسٹم نہ صرف معاشی بلکہ جغرافیائی و سیاسی دباؤ ڈالنے کی ایک حکمت عملی ہے، جس کے عالمی توانائی منڈی اور سمندری تجارت پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔